BR100 Decreased By (-1.44%)
BR30 Decreased By (-1.74%)
KSE100 Decreased By (-1.27%)
KSE30 Decreased By (-1.33%)
BAFL 58.05 Decreased By ▼ -0.58 (-0.99%)
BIPL 27.60 Decreased By ▼ -0.60 (-2.13%)
BOP 35.25 Decreased By ▼ -0.85 (-2.35%)
CNERGY 10.07 Increased By ▲ 0.38 (3.92%)
DFML 19.40 Decreased By ▼ -0.41 (-2.07%)
DGKC 217.34 Decreased By ▼ -7.15 (-3.18%)
FABL 100.10 Decreased By ▼ -1.53 (-1.51%)
FCCL 54.22 Decreased By ▼ -1.66 (-2.97%)
FFL 17.33 Decreased By ▼ -0.25 (-1.42%)
GGL 24.75 Decreased By ▼ -0.26 (-1.04%)
HBL 310.60 Decreased By ▼ -3.18 (-1.01%)
HUBC 223.50 Decreased By ▼ -3.55 (-1.56%)
HUMNL 11.00 Decreased By ▼ -0.16 (-1.43%)
KEL 7.94 Decreased By ▼ -0.16 (-1.98%)
LOTCHEM 31.74 Increased By ▲ 0.28 (0.89%)
MLCF 101.20 Decreased By ▼ -3.04 (-2.92%)
OGDC 331.97 Decreased By ▼ -2.16 (-0.65%)
PAEL 43.85 Decreased By ▼ -1.18 (-2.62%)
PIBTL 17.70 Decreased By ▼ -0.27 (-1.5%)
PIOC 269.75 Decreased By ▼ -2.84 (-1.04%)
PPL 231.85 Decreased By ▼ -4.70 (-1.99%)
PRL 42.78 Increased By ▲ 0.71 (1.69%)
SNGP 111.50 Decreased By ▼ -0.90 (-0.8%)
SSGC 30.50 Decreased By ▼ -0.33 (-1.07%)
TELE 9.29 Increased By ▲ 0.12 (1.31%)
TPLP 11.76 Decreased By ▼ -0.86 (-6.81%)
TRG 64.00 Decreased By ▼ -1.58 (-2.41%)
UNITY 10.05 Decreased By ▼ -0.21 (-2.05%)
WTL 1.29 Decreased By ▼ -0.03 (-2.27%)
دنیا

ایران اور امریکا کی جنگ بندی کے بعد مشرقِ وسطیٰ شدید ترین حملوں کی لپیٹ میں

  • آبنائے ہرمز پر امریکا اور ایران کشیدگی میں شدت، امن کو خطرہ، تیل مہنگا، دونوں جانب سےتازہ حملے
شائع اپ ڈیٹ

مشرقِ وسطیٰ اپریل میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے امریکا اور ایران کے شدید ترین حملوں کی زد میں آ گیا ہے، جبکہ اہم تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز پر جاری لڑائی نے جنگ کے مستقل خاتمے کی کوششوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

امریکا کی جانب سے پیر کو بھی ایران پر حملے جاری رہے، جبکہ تہران نے اعلان کیا کہ اگر واشنگٹن نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کیں تو وہ لڑائی روکنے کے لیے طے پانے والے فریم ورک معاہدے پر عمل درآمد بند کر دے گا۔

ایران نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے خلیجی ممالک میں اہداف کو نشانہ بنایا، جہاں پاسدارانِ انقلاب نے بحرین، اردن، کویت اور عمان پر نئے حملوں کا اعلان کیا۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے جون میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے بارے میں کہا، ”اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ دستاویز بحران کا شکار ہو چکی ہے۔“

انہوں نے مزید کہا، ”جب بھی دوسرے فریق نے اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں، ہم نے بھی اپنی ذمہ داریوں پر عمل نہیں کیا، اور آئندہ بھی ہمارا طرزِ عمل یہی رہے گا۔“

تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ کشیدگی میں مزید اضافے سے بچنے کے لیے تہران قطر، پاکستان اور عمان کے ثالثوں کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا کہ اس کی افواج نے رات بھر جاری رہنے والے تازہ حملوں میں ایران کے مختلف مقامات پر درجنوں اہداف کو نشانہ بنایا۔

بیان کے مطابق امریکی طیاروں، جنگی بحری جہازوں اور ڈرونز نے انتہائی درست نشانہ بنانے والے ہتھیاروں کے ذریعے مختلف مقامات پر حملے کیے تاکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بین الاقوامی بحری آمدورفت کو نشانہ بنانے کی ایران کی صلاحیت کو کمزور کیا جا سکے۔

ایران کی مہر نیوز ایجنسی نے پیر کی دوپہر جنوبی علاقوں میں نامعلوم نوعیت کے نئے دھماکوں کی اطلاع دیتے ہوئے کہا کہ ”بظاہر یہ دھماکے بندر عباس کے مغربی ساحلی علاقے سے سنائی دیے ہیں۔“

امن کی کوششیں خطرے میں

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران کشیدگی کا مرکز آبنائے ہرمز رہی ہے، جسے پاسدارانِ انقلاب نے ”بند“ قرار دیا ہے، جبکہ امریکا کا مؤقف ہے کہ یہ آبی گزرگاہ بحری آمدورفت کے لیے کھلی ہے اور ایران کا اس پر کنٹرول نہیں۔

جون میں مفاہمتی معاہدے کے اعلان کے بعد تیل کی قیمتوں میں آنے والی کمی کے برعکس اب قیمتوں میں 4.5 فیصد تک اضافہ ہو گیا، جبکہ امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت بڑھ کر تقریباً 74 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، کیونکہ عالمی منڈی کو رسد متاثر ہونے کا خدشہ لاحق ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس ہفتے اپریل کی جنگ بندی کو ختم قرار دینے کے بعد ثالث ممالک جنگ کے سفارتی حل کو بچانے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

مذاکرات میں اہم ثالث کا کردار ادا کرنے والے پاکستان نے، دفترِ خارجہ کے مطابق، ”خطے میں کشیدگی میں اضافے پر گہری تشویش“ کا اظہار کیا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ امریکی حملوں نے ”آبنائے ہرمز میں ایک بار پھر عدم تحفظ پیدا کر دیا ہے“ اور “خطے میں امن کے قیام کی تمام کوششوں کو بے سود بنا دیا ہے۔“

تاہم چیتھم ہاؤس کے ایسوسی ایٹ فیلو بدر السیف کا کہنا ہے کہ بڑھتے ہوئے حملے صرف مستقل معاہدے میں تاخیر کا باعث بنیں گے۔

ان کے بقول، ”دونوں فریق اپنے اپنے شرائط پر تعطل ختم کرنا چاہتے ہیں، لیکن ان کے لیے ایسا کرنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے، اسی لیے حملوں کا سلسلہ اور ان کی شدت بڑھ رہی ہے۔ تاہم بالآخر اس تنازع کا انجام مذاکرات کے ذریعے طے پانے والے معاہدے کی صورت میں ہی ہوگا۔“

’گھناؤنے حملے‘

ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکا کے تازہ حملوں میں، جن کا ہدف ملک کے جنوبی اور مغربی علاقوں کے وسیع حصے تھے، دو افراد ہلاک ہوئے۔

سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق جنوب مغربی شہر ماہشہر میں پانی پمپ کرنے کے ایک مرکز پر حملے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ چار افراد زخمی ہوئے۔

ایرانی سرکاری میڈیا نے بتایا کہ پاسدارانِ انقلاب نے اردن، بحرین اور کویت میں امریکی فوجی اڈوں اور اہداف پر حملے کیے۔

بحرین میں فضائی حملے کے سائرن بجا دیے گئے، جبکہ کویتی فوج نے کہا کہ اس کی دفاعی فورسز پیر کے روز ”دشمن کے فضائی اہداف“ کو ناکام بنانے میں مصروف ہیں۔

اردن کی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایران کے چار میزائل فضا ہی میں تباہ کر دیے۔

بحرین کی فوج نے ایران پر ”شہری آبادی کو نشانہ بنانے والے میزائل اور ڈرونز کے ذریعے گھناؤنے حملے“ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اس نے پیر کی صبح متعدد ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کو مار گرایا۔

تازہ جھڑپوں کا آغاز اتوار کی علی الصبح آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی جہاز پر ایرانی حملے کے بعد ہوا، جس کے نتیجے میں جہاز میں آگ بھڑک اٹھی اور عملے کو اسے چھوڑنا پڑا۔

ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق، اس واقعے کے بعد پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ ”آبنائے ہرمز اگلے حکم تک اور خطے میں امریکی مداخلت کے خاتمے تک بند رہے گی۔“

اس کے جواب میں امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ آبنائے ہرمز تمام اُن بحری جہازوں کے لیے کھلی ہے جو قانونی طور پر وہاں سے گزرنا چاہتے ہیں۔

Comments

200 حروف