ایران سے نئی جھڑپوں کے بعد امریکا نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی بحال کر دی، ٹرمپ کا دعویٰ
- آبنائے ہرمز سے گزرنے والی تمام تجارتی کھیپوں پر 20 فیصد چارج وصول کرنے کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو اعلان کیا ہے کہ امریکا نے خلیج میں ایرانی بحری جہازوں کی ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر دی ہے اور وہ ہر صورت آبنائے ہرمز کو کھلا رکھے گا۔ یہ اعلان امریکا اور ایران کے درمیان میزائل اور ڈرون حملوں کے تازہ تبادلے کے بعد سامنے آیا ہے۔
حالیہ کشیدگی کا آغاز ایران کی جانب سے ہفتے کے روز آبنائے ہرمز بند کرنے کے اعلان کے بعد ہوا، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ روکنے کے لیے ہونے والے عبوری معاہدے کے مستقبل پر مزید سوالات اٹھ گئے، جبکہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر لکھا، ”آبنائے ہرمز کھلی ہے اور ایران ہو یا نہ ہو، کھلی رہے گی۔ ہم ایران کی بحری ناکہ بندی دوبارہ نافذ کر رہے ہیں۔“
انہوں نے مزید کہا کہ ”امریکا اب سے آبنائے ہرمز کا محافظ کہلائے گا، تاہم انصاف کے تقاضے کے تحت اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے ہر کارگو پر 20 فیصد معاوضہ وصول کیا جائے گا۔“
دوسری جانب ایران کی مسلح افواج کی مشترکہ اعلیٰ کمان نے کہا کہ امریکا کو اس اہم بحری گزرگاہ کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں اور اسے آبنائے ہرمز کے انتظام میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں کے جواب میں بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات، عمان میں ریڈار نظام اور اردن کے پرنس حسن ایئر بیس پر ایندھن کے ذخائر اور اسلحہ ڈپوؤں کو نشانہ بنایا گیا۔
ادھر امریکی فوج نے کہا کہ اس نے اتوار کو ایرانی فضائی دفاعی نظام، ساحلی ریڈار تنصیبات، میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کے علاوہ چھوٹی جنگی کشتیوں کو طیاروں، بحری جہازوں اور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق امریکا نے پیر کو قشم، بندر عباس اور آبادان سمیت جنوبی ایران میں متعدد فوجی مقامات پر بھی حملے کیے۔
بحرین نے کہا کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے پیر کی صبح ایران کی جانب سے داغے گئے متعدد میزائلوں اور ڈرونز کو تباہ کر دیا۔
گزشتہ ہفتے کے دوران حملوں کے دائرہ کار اور شدت میں نمایاں اضافے نے گزشتہ ماہ ہونے والے امریکا۔ایران عبوری معاہدے کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے، جس کے تحت آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور مزید 60 روزہ مذاکرات کے دوران جنگ بندی پر اتفاق کیا گیا تھا۔
ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ وہ جنگ بندی کو ختم شدہ سمجھتے ہیں، تاہم مذاکرات کا دروازہ اب بھی بند نہیں کیا۔
فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا، ”ہمارا معاہدہ ہو چکا تھا، لیکن انہوں نے اسے توڑ دیا۔ وہ ہمیشہ ایسا ہی کرتے ہیں۔ ہم نے ان کے ساتھ دس معاہدے کیے، اب ہم انہیں بھرپور جواب دیں گے۔“
ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے ایکس پر لکھا، ”یک طرفہ معاہدوں کا دور ختم ہو چکا ہے۔ ہم نے پہلے ہی کہا تھا کہ وعدہ پورا کرو، ورنہ قیمت چکانا ہوگی۔“
تیل کی قیمتوں میں اضافہ
آبنائے ہرمز، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل ہوتی ہے، موجودہ تنازع کا مرکزی محاذ بن چکی ہے۔ ایران کی جانب سے اس آبی گزرگاہ پر مؤثر کنٹرول کے دعوے نے توانائی کی قیمتوں اور عالمی مہنگائی کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔
ٹرمپ کے تازہ بیان کے بعد پیر کو برینٹ خام تیل کی قیمت میں 4 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اگرچہ قیمتیں جنگ کے آغاز میں دیکھی گئی بلند ترین سطح سے اب بھی نیچے رہیں۔
آبنائے ہرمز پر ایران کا مؤقف
ہفتے کو آبنائے ہرمز بند کرنے کے اعلان کے بعد ایران نے پیر کو بھی کہا کہ اس کا اس آبی گزرگاہ پر مکمل کنٹرول برقرار ہے۔
ایرانی عہدیدار حسین محبی نے سرکاری میڈیا سے گفتگو میں کہا، ”ہم پوری قوت سے آبنائے ہرمز پر اپنا اختیار برقرار رکھے ہوئے ہیں اور غیر ملکی طاقتوں اور ان کے اتحادیوں کو ایرانی عوام کی مرضی کے سامنے جھکنے پر مجبور کریں گے۔“
عمان کے ساتھ نیا انتظامی نظام
پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری آمدورفت بحال کرنے کا واحد راستہ امریکی فوجی مداخلت کا خاتمہ ہے، خبردار کیا کہ مداخلت جاری رہی تو عالمی تیل و گیس کی صنعت مزید بحران کا شکار ہو سکتی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ ایران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے انتظام کے لیے عمان کے ساتھ مشترکہ نظام قائم کرنے کا خواہاں ہے، تاہم امریکا کا عمان پر دباؤ اس سلسلے میں پیش رفت میں رکاوٹ بن رہا ہے۔
ایران اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں کے لیے مستقل اجازت نامے اور فیس کا نظام نافذ کرنا چاہتا ہے۔ جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً 20 فیصد یومیہ تیل اور ایل این جی ترسیل اسی راستے سے ہوتی تھی۔
دوسری جانب امریکا نے کہا کہ اس کی افواج آزادانہ بحری آمدورفت کے تحفظ کے لیے تعینات ہیں اور ”ایران آبنائے ہرمز کو کنٹرول نہیں کرتا، جہازوں کی آمدورفت جاری ہے۔“
امریکی حکام کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران تقریباً 20 جہازوں کو آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزارا گیا، تاہم جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے والی کمپنی میرین ٹریفک کے مطابق 10 سے 12 جولائی کے دوران اس راستے سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں 52 فیصد کم رہی۔






















Comments