مالی سال 26ء میں پاکستان میں کاروں کی فروخت 39 فیصد بڑھ گئی
- موٹر سائیکلوں اور رکشوں کی فروخت 30 فیصد اضافے سے 19 لاکھ 72 ہزار 77 یونٹس رہی
پاکستان میں مالی سال 2025-26 کے دوران کاروں کی فروخت میں 39 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بنیادی وجوہات صارفین کی قوتِ خرید میں بہتری، بینکوں کی جانب سے آٹو فنانسنگ میں سہولت اور گاڑی بنانے والی کمپنیوں کی جانب سے مختلف نئے ماڈلز متعارف کرانا قرار دی جا رہی ہیں۔
پاکستان آٹو موٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) کے پیر کو جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 26ء کے دوران کاروں کی فروخت 39 فیصد اضافے کے ساتھ ایک لاکھ 55 ہزار 631 یونٹس تک پہنچ گئی۔
اسی عرصے میں جیپوں اور پک اپ گاڑیوں کی فروخت 41 فیصد بڑھ کر 50 ہزار 814 یونٹس، جبکہ ٹرکوں اور بسوں کی فروخت 67 فیصد اضافے سے 7 ہزار 439 یونٹس رہی۔ رکشوں کی فروخت بھی 25 فیصد اضافے کے ساتھ 985 یونٹس تک پہنچ گئی۔
ادھر موٹر سائیکلوں اور رکشوں کی مجموعی فروخت 30 فیصد اضافے سے 19 لاکھ 72 ہزار 77 یونٹس ریکارڈ کی گئی۔
اس کے برعکس زرعی ٹریکٹروں کی فروخت میں ایک فیصد کمی واقع ہوئی اور یہ 28 ہزار 791 یونٹس رہی۔ اس کی وجہ کسانوں کی جانب سے گزشتہ چند برسوں سے کم منافع کے باعث زرعی شعبے میں نئی سرمایہ کاری سے گریز کو قرار دیا جا رہا ہے۔
بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے آٹو اور موٹر سائیکل شعبے کے تجزیہ کار محمد صابر شیخ نے کہا کہ مالی سال 26ء میں کاروں کی فروخت میں اضافے کے پیچھے کئی عوامل کارفرما رہے۔ ان کے مطابق کار خریداروں کی قوتِ خرید میں اضافہ، بینکوں کی جانب سے آسان آٹو فنانسنگ اسکیمیں اور گاڑیاں اسمبل کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے فیول، ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں سمیت مختلف اقسام اور ماڈلز کی دستیابی نے فروخت بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ موٹر سائیکلوں کی فروخت ابھی تک مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی۔ ان کے بقول، کووڈ-19 سے قبل 2016 میں سرکاری اور غیر سرکاری دونوں شعبوں کو ملا کر سالانہ موٹر سائیکل فروخت تقریباً 30 لاکھ یونٹس تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب متوسط طبقے کی قوتِ خرید میں نمایاں کمی آ چکی ہے، جس کے باعث بہت سے افراد تقریباً 3 لاکھ روپے مالیت کی الیکٹرک موٹر سائیکل خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس کاروں کے شعبے میں صارفین ایک کروڑ روپے سے زائد مالیت کی گاڑیاں خرید رہے ہیں، جو اس طبقے کی بہتر ہوتی قوتِ خرید کی عکاسی کرتا ہے۔
محمد صابر شیخ نے کہا کہ پاکستان، خصوصاً سندھ میں، عوامی نقل و حمل کا نظام انتہائی ناکافی ہے اور کراچی میں بھی سڑکوں کا بنیادی ڈھانچہ تیزی سے خراب ہو رہا ہے۔ انہوں نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر زور دیا کہ وہ سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور عوامی ٹرانسپورٹ کے نظام کی توسیع پر فوری سرمایہ کاری کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج متوسط طبقے کے لیے موٹر سائیکل خریدنا بھی انتہائی مشکل ہو گیا ہے، حالانکہ یہ اب ضرورت بن چکی ہے۔ ان کے مطابق ایندھن کی بلند قیمتوں کے باعث رکشوں اور آن لائن سفری خدمات کے کرایوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے موٹر سائیکل کی ملکیت کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔






















Comments