تیل کی قیمتوں میں ٹھہراؤ کے باوجود ایندھن کی منڈیوں میں رسد کے بحران کے آثار
- مشرقِ وسطیٰ میں خلل کے باعث خریدار ذخائر استعمال کرنے اور کارگو کا رخ تبدیل کرنے پر مجبور
پٹرول اور ڈیزل کی منڈیاں خام تیل کی نسبتاً پُرسکون قیمتوں کے باوجود ایندھن کی رسد میں شدید دباؤ کا اشارہ دے رہی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران جنگ سے پیدا ہونے والا توانائی کا بحران ابھی ختم ہونے سے بہت دور ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے نتیجے میں آبنائے ہرمز مؤثر طور پر بند ہو گئی، حالانکہ اس تنازع سے قبل دنیا بھر میں خام تیل کی تقریباً 20 فیصد رسد اسی راستے سے گزرتی تھی، جس کے بعد توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔
اگرچہ گزشتہ ماہ جنگ بندی کے معاہدے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی آئی تھی، اور بعد ازاں لڑائی دوبارہ شروع ہونے کے باوجود ان میں نسبتاً محدود اضافہ ہوا، تاہم ایندھن کی قیمتیں بدستور بلند ہیں۔
اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صنعتوں اور صارفین پر مہنگائی کا دباؤ، جس پر مرکزی بینک بھی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں، برقرار رہنے کا امکان ہے، چاہے آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں کچھ بہتری ہی کیوں نہ آ گئی ہو۔
اس ہفتے ایندھن کی منڈیوں پر دباؤ اس وقت مزید بڑھ گیا جب روس نے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی عائد کر دی، کیونکہ یوکرین کے حملوں سے روس کی آئل ریفائنریوں کو نقصان پہنچا اور ملک میں ایندھن کی قلت کا خدشہ پیدا ہو گیا۔
ایندھن اور خام تیل کی قیمتوں کے درمیان فرق، جو ریفائنریوں کے منافع کا اہم اشاریہ سمجھا جاتا ہے، نمایاں طور پر بڑھ گیا ہے، حالانکہ یورپ اور امریکہ کی ریفائنریاں ہنگامی ذخائر کے اجراء اور امریکہ۔ایران جنگ بندی کے دوران مشرقِ وسطیٰ سے آنے والے اضافی خام تیل کو کھپانے میں مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔
اسپارٹا کموڈیٹیز کے تجزیہ کار نیل کروسبی نے کہا، ”دنیا بھر میں ریفائننگ کی گنجائش اب اتنی نہیں رہی کہ اس تمام صورتحال سے نمٹا جا سکے۔“ ان کے مطابق ایندھن کی بلند قیمتیں جلد ہی صارفین کی طلب کو بھی متاثر کر سکتی ہیں۔
روس کی جانب سے ڈیزل کی برآمدات پر پابندی کے اعلان کے بعد بدھ کو یورپ میں ڈیزل ریفائننگ کا منافع ریکارڈ 60 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا، جبکہ یورپ میں پٹرول اس ہفتے خام تیل کے مقابلے میں تقریباً 41 ڈالر فی بیرل اضافی قیمت پر فروخت ہوا، جو روس۔یوکرین جنگ کے دوران 2022 کی گرمیوں کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
امریکہ میں بھی نائمیکس 3-2-1 کریک اسپریڈ، جو ریفائنریوں کے منافع کا ایک اہم پیمانہ ہے، 8 جولائی کو بڑھ کر 64.58 ڈالر فی بیرل کی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا۔
روسی ڈیزل کی برآمدات پہلے ہی کم ہو چکی تھیں
یوکرین کے حالیہ حملوں سے قبل ہی روس کی ڈیزل اور گیس آئل کی برآمدات کم ہو رہی تھیں۔ کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق یہ برآمدات کم ہو کر یومیہ تقریباً چار لاکھ بیرل کی ریکارڈ کم ترین سطح پر آ گئی تھیں، جبکہ جولائی میں اب تک یہ حجم اس سے بھی کم، یعنی نصف سے بھی نیچے رہ گیا ہے۔
ایشیا میں ڈیزل پر منافع کا مارجن تقریباً ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے، کیونکہ تاجروں کو خدشہ ہے کہ مغربی منڈیوں میں رسد مزید محدود ہو جائے گی، اگرچہ ایشیائی منڈی میں فی الحال رسد نسبتاً بہتر ہے۔
انرجی اسپیکٹس کی نٹالیا لوسادا کے مطابق روس کی برآمدی پابندی کے باعث برازیل، ترکی، شمالی اور مغربی افریقہ کے ممالک جیسے بڑے خریدار متبادل کارگو حاصل کرنے کے لیے امریکہ، مشرقِ وسطیٰ اور بھارت کا رخ کریں گے، جس کے نتیجے میں یورپ کو دستیاب محدود رسد کے لیے مزید سخت مقابلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ڈیزل کی رسد میں ممکنہ بحران ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب شمالی نصف کرے کے کسان موسمِ خزاں کی فصلوں کی کٹائی سے قبل ایندھن کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا کرنے والے ہیں۔
ذخائر کی کم سطح
پٹرول پر منافع کا مارجن بھی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے، کیونکہ شمالی نصف کرے میں گرمیوں کے دوران سفر کے عروج کے موسم سے قبل ہی رسد میں سختی کے آثار نمایاں ہونے لگے تھے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے اعداد و شمار کے مطابق 3 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے میں امریکہ میں پٹرول کے ذخائر 2021 کے بعد جولائی کے آغاز کی کم ترین سطح پر تھے۔
ایشیا میں بھی ذخائر کی کم سطح نے قیمتوں کو سہارا دیا ہے، حالانکہ چین کی جانب سے ایندھن کی برآمدات میں اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔
مجموعی طور پر او ای سی ڈی ممالک میں تیل کی مصنوعات کے ذخائر موسمِ بہار کی کم ترین سطح سے کچھ بحال ہونے کے باوجود اب بھی 2015 تا 2019 کی اوسط سے کم ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی ایندھن کی منڈیوں میں حفاظتی ذخائر محدود ہیں اور وہ رسد میں مزید کسی بھی خلل کے مقابلے میں زیادہ غیر محفوظ ہیں۔























Comments