ضرورت پڑی تو ایران پر تیسری بار حملے کے لیے تیار ہیں، اسرائیل
- یہ تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان دوبارہ لڑائی بھڑک اٹھی ہے
اسرائیل کے وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے جمعرات کو کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو ان کا ملک ایران کے خلاف اپنی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے، اور اس بار ”مزید زیادہ شدت“ سے حملے کرے گا۔
یہ تازہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بار پھر جھڑپیں شروع ہو گئی ہیں، جس سے اپریل کی جنگ بندی اور جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان دشمنی کے خاتمے کے معاہدے کے بعد دوبارہ مکمل جنگ چھڑنے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ایک فوجی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کاٹز نے کہا، ”فوج دوبارہ لڑائی شروع کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار اور الرٹ ہے تاکہ فضائی برتری دوبارہ حاصل کی جا سکے اور ایران میں دوبارہ حملے کر کے خطرات کا خاتمہ کیا جا سکے، اگر ضرورت پڑی تو تیسری بار بھی۔“
انہوں نے مزید کہا، ”اگر ہمیں دوبارہ جانا پڑا تو ہم پہلے سے بھی زیادہ طاقت کے ساتھ جائیں گے۔“
اسی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف کی جانے والی گزشتہ دو فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کمزور ہو چکا ہے۔
تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ یہ تنازع ابھی ختم نہیں ہوا۔
انہوں نے کہا، ”ایران کا محور پہلے سے کہیں زیادہ کمزور ہے، جبکہ اسرائیل پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہے۔“
انہوں نے مزید کہا، ”ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ کی طویل مار کرنے کی صلاحیت یمن سے لے کر ایران تک کہیں بھی پہنچ سکتی ہے، لیکن ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ یہ مہم ابھی ختم نہیں ہوئی۔“
یہ جنگ 28 فروری کو اس وقت شروع ہوئی تھی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف فضائی کارروائی شروع کی، جس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر اور دیگر اعلیٰ حکام ہلاک ہو گئے تھے۔
یہ ایران کے خلاف اسرائیل کی دوسری بڑی فوجی مہم تھی، اس سے قبل جون 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان 12 روزہ جنگ لڑی گئی تھی۔























Comments