BR100 Increased By (0.93%)
BR30 Increased By (1.23%)
KSE100 Increased By (0.87%)
KSE30 Increased By (0.93%)
BAFL 62.56 Increased By ▲ 1.16 (1.89%)
BIPL 27.74 Increased By ▲ 0.30 (1.09%)
BOP 36.95 Increased By ▲ 0.64 (1.76%)
CNERGY 8.47 Increased By ▲ 0.26 (3.17%)
DFML 20.18 Increased By ▲ 0.22 (1.1%)
DGKC 229.30 Increased By ▲ 2.16 (0.95%)
FABL 101.85 Increased By ▲ 0.39 (0.38%)
FCCL 59.60 Increased By ▲ 0.32 (0.54%)
FFL 17.93 Increased By ▲ 0.08 (0.45%)
GGL 25.07 Increased By ▲ 0.96 (3.98%)
HBL 307.54 Increased By ▲ 0.09 (0.03%)
HUBC 234.74 Increased By ▲ 1.60 (0.69%)
HUMNL 11.47 Decreased By ▼ -0.03 (-0.26%)
KEL 8.39 Increased By ▲ 0.06 (0.72%)
LOTCHEM 28.72 Increased By ▲ 0.53 (1.88%)
MLCF 109.00 Increased By ▲ 1.57 (1.46%)
OGDC 338.79 Increased By ▲ 3.88 (1.16%)
PAEL 45.87 Increased By ▲ 0.45 (0.99%)
PIBTL 19.13 Increased By ▲ 0.28 (1.49%)
PIOC 282.84 Increased By ▲ 2.38 (0.85%)
PPL 246.39 Increased By ▲ 2.65 (1.09%)
PRL 36.45 Increased By ▲ 0.21 (0.58%)
SNGP 120.75 Increased By ▲ 1.12 (0.94%)
SSGC 32.05 Increased By ▲ 0.20 (0.63%)
TELE 9.23 Increased By ▲ 0.21 (2.33%)
TPLP 11.51 Increased By ▲ 0.79 (7.37%)
TRG 65.34 Increased By ▲ 1.03 (1.6%)
UNITY 11.02 Increased By ▲ 0.11 (1.01%)
WTL 1.28 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)
پاکستان

مالیاتی عدم توازن، ورلڈ بینک کی این ایف سی ایوارڈ میں جامع اصلاحات کی سفارش

  • رپورٹ کے مطابق نظام میں موجود ساختی کمزوریاں اب بھی مالیاتی نظم و ضبط کو متاثر کر رہی ہیں
شائع July 2, 2026 اپ ڈیٹ July 2, 2026 09:45am

ورلڈ بینک نے پاکستان کے مالیاتی وفاقی نظام میں اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ مالیاتی وفاقی ڈھانچہ عوامی مالیات میں مستقل ساختی عدم توازن پیدا کر رہا ہے۔ ادارے نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ پر جامع نظرثانی، اخراجاتی ذمہ داریوں کو آمدنی پیدا کرنے کی صلاحیت سے ہم آہنگ کرنے، صوبائی ٹیکس وصولی کو مضبوط بنانے اور مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کی سفارش کی ہے۔

ورلڈ بینک نے بدھ کے روز میڈیا بریفنگ کے دوران جاری کی گئی اپنی رپورٹ ”پاکستان میں مالیاتی وفاقیت کو مضبوط بنانا“ میں کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم اور 7ویں این ایف سی ایوارڈ نے اہم عوامی خدمات کی فراہمی کی ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل کرکے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی تاریخی بنیاد رکھی، تاہم اس کے ساتھ مالیاتی اور ادارہ جاتی انتظامات میں ضروری اصلاحات مکمل طور پر نہیں کی گئیں۔

رپورٹ کے مطابق نظام میں موجود ساختی کمزوریاں اب بھی مالیاتی نظم و ضبط کو متاثر کر رہی ہیں، محصولات بڑھانے کی صلاحیت کو محدود کر رہی ہیں اور شہریوں کو فراہم کی جانے والی عوامی خدمات کے معیار پر منفی اثر ڈال رہی ہیں۔

ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں شامل ریورس گرانٹس موجودہ عمودی مالیاتی عدم توازن کو جزوی طور پر کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں، تاہم پاکستان کے مالیاتی وفاقی نظام کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے وسیع تر ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہوں گی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پنجاب سے 546 ارب روپے سے زائد اور سندھ سے 260 ارب روپے کی ریورس گرانٹس کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی جانب سے کسی رقم کا اندراج نہیں کیا گیا۔

اس حوالے سے سوال پر ورلڈ بینک کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ان دونوں صوبوں کی بجٹ دستاویزات میں ایسی کسی رقم کا ذکر موجود نہیں۔ دوسری جانب وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت مالی سال 2026-27 کے لیے صوبوں سے 1,035 ارب روپے کی گرانٹس/وصولیوں کا تخمینہ لگایا ہے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف