BR100 Increased By (1.02%)
BR30 Increased By (0.99%)
KSE100 Increased By (0.68%)
KSE30 Increased By (0.79%)
BAFL 59.32 Increased By ▲ 2.42 (4.25%)
BIPL 27.00 Increased By ▲ 0.18 (0.67%)
BOP 35.20 Increased By ▲ 0.16 (0.46%)
CNERGY 8.18 Increased By ▲ 0.09 (1.11%)
DFML 19.70 Increased By ▲ 0.28 (1.44%)
DGKC 221.28 Increased By ▲ 1.22 (0.55%)
FABL 99.02 Increased By ▲ 1.05 (1.07%)
FCCL 58.35 Increased By ▲ 2.16 (3.84%)
FFL 17.75 Increased By ▲ 0.07 (0.4%)
GGL 23.60 No Change ▼ 0.00 (0%)
HBL 297.39 Increased By ▲ 7.20 (2.48%)
HUBC 231.45 Increased By ▲ 4.00 (1.76%)
HUMNL 11.14 Increased By ▲ 0.21 (1.92%)
KEL 8.61 Increased By ▲ 0.04 (0.47%)
LOTCHEM 28.08 Increased By ▲ 0.54 (1.96%)
MLCF 106.99 Increased By ▲ 0.48 (0.45%)
OGDC 335.45 Increased By ▲ 0.25 (0.07%)
PAEL 45.62 Increased By ▲ 0.62 (1.38%)
PIBTL 18.38 Increased By ▲ 0.11 (0.6%)
PIOC 272.51 Increased By ▲ 2.47 (0.91%)
PPL 245.75 Increased By ▲ 1.26 (0.52%)
PRL 35.25 Increased By ▲ 0.31 (0.89%)
SNGP 119.60 Increased By ▲ 1.00 (0.84%)
SSGC 31.15 Increased By ▲ 0.32 (1.04%)
TELE 8.83 Increased By ▲ 0.13 (1.49%)
TPLP 10.65 Increased By ▲ 0.39 (3.8%)
TRG 63.95 Increased By ▲ 0.59 (0.93%)
UNITY 10.75 Increased By ▲ 0.09 (0.84%)
WTL 1.25 Increased By ▲ 0.01 (0.81%)
کاروبار اور معیشت

بجٹ اقدامات پر آٹو ماہرین کے تحفظات، صنعت کے تحفظ کے لیے ٹھوس پالیسی کا مطالبہ

  • بجٹ میں آٹو سیکٹر کے حوالے سے حکومت کی پالیسی مایوس کن ہے، شہریار قادر
شائع June 30, 2026 اپ ڈیٹ June 30, 2026 12:03pm

آٹو ماہرین اور تجزیہ کاروں نے حال ہی میں اعلان کردہ وفاقی بجٹ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس کے بعض اقدامات پاکستان کی آٹو موبائل صنعت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اس شعبے کے تحفظ کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات متعارف کرائے۔

پاکستان ایسوسی ایشن آف آٹوموٹو پارٹس اینڈ اسیسریز مینوفیکچررز (پاپام) کے سینئر وائس چیئرمین اور آٹو تجزیہ کار شہریار قادر نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں آٹو سیکٹر کے حوالے سے حکومت کی پالیسی مایوس کن ہے۔

شہریار قادر نے کہا کہ آٹو صنعت کے لیے یہ بجٹ ہر لحاظ سے مایوس کن ثابت ہوا ہے۔ ایک جانب حکومت معیشت کو مضبوط بنانے اور مقامی صنعت کے فروغ پر زور دیتی ہے جب کہ دوسری جانب کیے گئے اقدامات ان دعوؤں کے بالکل برعکس ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے مہنگی توانائی، فریٹ اخراجات، بلند شرح سود، بھاری ٹیکسوں اور محدود مارکیٹ کے باعث فی یونٹ زیادہ مقررہ لاگت جیسے مسائل کے نتیجے میں مقامی آٹو پارٹس صنعت کو درپیش 34 فیصد لاگتی نقصان اور دیگر ساختی رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے کے بجائے مکمل طور پر تیار شدہ درآمدی گاڑیوں اور آٹو پارٹس پر درآمدی ڈیوٹیوں میں نمایاں کمی کی تجویز دی ہے۔

یہ اقدام پاکستان کی ایک بنیادی درآمدی اسمبلنگ مرکز سے مکمل طور پر مربوط آٹو مینوفیکچرنگ ملک میں منتقلی کی راہ میں رکاوٹ بن جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس صورتحال میں اوریجنل ایکوپمنٹ مینوفیکچررز کو کوئی خاص نقصان نہیں ہوگا کیونکہ بڑی کمپنیاں ہونے کے ناطے ان کے لیے مکمل طور پر تیار شدہ گاڑیاں یا مکمل ناک ڈاؤن (سی کے ٹی) کٹس درآمد کرکے پاکستان میں محض اسمبلنگ کی طرف منتقل ہونا نسبتاً آسان ہے۔ وہ مقامی سطح پر پرزہ سازی صرف اسی صورت میں کریں گے جب انہیں مقامی خریداری سے 5 سے 15 فیصد تک لاگت میں بچت حاصل ہو۔

شہریار قادر کا کہنا تھا کہ حکومت ایسے اقدامات کررہی ہے جو ملک کی 1,200 آٹو پارٹس تیار کرنے والی کمپنیوں کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان نے مقامی سطح پر پرزہ سازی کی بھرپور صلاحیت کا ثبوت دیا ہے جہاں مقامی وینڈرز نے موٹرسائیکلوں اور ٹریکٹرز میں 90 فیصد سے زائد لوکلائزیشن حاصل کرلی جبکہ ان دونوں مصنوعات کی برآمدات بھی کی جارہی ہیں۔ اسی طرح جاپانی کمپنیوں کی روایتی طور پر اسمبل کی جانے والی گاڑیوں میں 65 فیصد تک لوکلائزیشن حاصل کی جاچکی ہے۔ اس کے برعکس گزشتہ دو مسلسل آٹو پالیسیوں میں نمایاں ٹیرف مراعات سے فائدہ اٹھانے والی نئی چینی اور کوریائی کمپنیوں نے مقامی سطح پر پرزہ سازی کے حوالے سے بہت کم یا تقریباً کوئی پیشرفت نہیں کی۔

انہوں نے زور دیا کہ حکومت کو درآمدی گاڑیوں اور پرزہ جات پر مناسب اور متوازن درجہ وار ٹیرف برقرار رکھنا چاہیے تاکہ مقامی سطح پر پرزہ سازی کو مالی طور پر قابلِ عمل بنایا جا سکے۔

دریں اثنا، بین الاقوامی تجارت کے ماہر اور آٹو تجزیہ کار عادل نکھودہ نے کہا کہ مجموعی طور پر یہ اقدام طویل عرصے سے زیر التوا ٹیرف اصلاحات کا حصہ ہے۔

عادل نکھودا نے کہا کہ مختلف درآمدی گاڑیوں خصوصاً چھوٹے ماڈلز پر ڈیوٹیوں میں نمایاں کمی کی گئی۔ قومی ٹیرف پالیسی 2025-30 (این ٹی پی 2025-30) کے مطابق یہ اسمبلرز کو مسابقت کا سامنا کرانے کی جانب ایک حقیقی پیش رفت ہے۔ تاہم بڑے انجن والی گاڑیوں کے حوالے سے گزشتہ سال دی گئی رعایت واپس لے لی گئی ہے کیونکہ زیادہ انجن گنجائش رکھنے والی درآمدی گاڑیوں پر ڈیوٹیوں میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ دو کروڑ روپے سے زائد مالیت کی لگژری الیکٹرک گاڑیوں پر نئی وفاقی ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) عائد کی گئی ہے۔ اس طرح بجٹ میں کم قیمت گاڑیوں کے شعبے میں محصولات میں کمی کی حوصلہ افزائی کی گئی جو نہایت ضروری تھی کیونکہ اس سے مارکیٹ میں مسابقت بڑھے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ جس تحفظ کو ختم کرنا مقصود ہے، وہ مکمل طور پر ختم ہونے کے بجائے ممکن ہے کہ بڑی گاڑیوں کی جانب منتقل ہوجائے۔

ان کے مطابق کسٹمز ڈیوٹی میں کمی کا اثر بڑی انجن گنجائش والی گاڑیوں پر عائد کی گئی نئی 86 سے 92 فیصد خصوصی ایکسائز ڈیوٹی اور اسمبلرز کے تحفظ کے لیے برقرار رکھی گئی ریگولیٹری ڈیوٹیوں سے زائل ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں کم ویلیو ایڈیشن پر مبنی محض اسکرو ڈرائیور اسمبلنگ کے لیے مؤثر تحفظ بدستور بلند سطح پر برقرار ہے۔

آٹو تجزیہ کارنے کہا کہ درجہ وار ٹیرف کے باعث برآمدات کے خلاف موجود تعصب بدستور برقرار ہے کیونکہ مقامی منڈی کو تحفظ دینے کا مطلب درحقیقت برآمد کنندگان پر بالواسطہ ٹیکس عائد کرنا ہے۔ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر پابندیاں بھی مسابقت کو محدود کرتی ہیں جس کے نتیجے میں صارفین کو مہنگی گاڑیاں اور محدود انتخاب کا سامنا رہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقامی وینڈرز اب بھی درآمدی مکمل تیار شدہ گاڑیوں پر بلند ریگولیٹری ڈیوٹیوں کے خواہاں ہیں جس سے مارکیٹ میں مسابقت کم اور خریداروں کے لیے گاڑیوں کے انتخاب کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پالیسیوں پر کسی قسم کی سن سیٹ کلاز لاگو نہیں کی جارہی جبکہ دی جانے والی مراعات کارکردگی کے بجائے لابنگ کے زیرِ اثر دکھائی دیتی ہیں لہٰذا حقیقی معنوں میں مقامی سطح پر پرزہ سازی (لوکلائزیشن) کی جانب پیش رفت کے لیے کوئی مؤثر دباؤ موجود نہیں۔

انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ پالیسی کو ایک قابلِ اعتماد اور وقت کی پابندی پر مبنی ٹیرف میں مرحلہ وار کمی کے منصوبے سے منسلک کرے جس میں واضح سن سیٹ کلاز شامل ہوں تاکہ تحفظی اقدامات بتدریج ختم ہوتے نظر آئیں اور صنعتوں کو حقیقی مسابقت کا سامنا کرنا پڑے۔

آٹو ماہر نے یہ بھی تجویز دی کہ کاسکیڈنگ اور مؤثر تحفظ کو کم کرنے کیلئے سی بی یوز اور خام مال پر ٹیرف میں یکساں کٹوتی کی جائے جس سے برآمدات کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو کم کیا جاسکے۔

انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ واضح حفاظتی اور ماحولیاتی اخراجی معیارات کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دی جانی چاہیے تاکہ مارکیٹ میں فوری طور پر مسابقت پیدا ہو اور قیمتوں کو اعتدال میں رکھنے میں مدد ملے۔ الیکٹرک گاڑیوں (ای ویز)، مکمل ناک ڈاؤن (سی کے ڈی) کٹس یا لوکلائزیشن کے لیے دی جانے والی کسی بھی مراعات کو اسمبلنگ کے حجم یا انجن کے سائز کے بجائے کمپنی کی سطح پر قابلِ پیمائش ویلیو ایڈیشن اور برآمدی کارکردگی سے مشروط کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صوابدیدی ایس آر اوز (اسٹیچوٹری ریگولیٹری آرڈرز) کی جگہ ایک ایسا پیش گوئی کے قابل اور قواعد پر مبنی نظام متعارف کرایا جائے جس کی بنیاد پر سرمایہ کار طویل مدتی منصوبہ بندی کرسکیں۔ ان کے بقول ہدف ایسا آٹو سیکٹر ہونا چاہیے جہاں کم قیمتیں، بہتر معیار اور صارفین کے لیے وسیع انتخاب مسابقت کے نتیجے میں فراہم ہوں۔

Comments

200 حروف