BR100 Decreased By (-0.89%)
BR30 Decreased By (-1.54%)
KSE100 Decreased By (-0.8%)
KSE30 Decreased By (-0.8%)
BAFL 56.63 Decreased By ▼ -0.24 (-0.42%)
BIPL 24.90 Decreased By ▼ -0.06 (-0.24%)
BOP 30.09 Decreased By ▼ -0.26 (-0.86%)
CNERGY 12.90 Decreased By ▼ -0.22 (-1.68%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 188.00 Decreased By ▼ -4.45 (-2.31%)
FABL 93.98 Decreased By ▼ -0.16 (-0.17%)
FCCL 52.00 Decreased By ▼ -0.79 (-1.5%)
FFL 14.47 Decreased By ▼ -0.25 (-1.7%)
GGL 19.00 Decreased By ▼ -0.56 (-2.86%)
HBL 304.89 Decreased By ▼ -1.21 (-0.4%)
HUBC 199.00 Decreased By ▼ -2.42 (-1.2%)
HUMNL 9.99 Decreased By ▼ -0.17 (-1.67%)
KEL 6.10 Increased By ▲ 0.01 (0.16%)
LOTCHEM 26.20 Decreased By ▼ -0.26 (-0.98%)
MLCF 90.87 Decreased By ▼ -2.29 (-2.46%)
OGDC 312.96 Decreased By ▼ -3.77 (-1.19%)
PAEL 35.08 Decreased By ▼ -0.55 (-1.54%)
PIBTL 14.66 Decreased By ▼ -0.02 (-0.14%)
PIOC 238.50 Decreased By ▼ -4.71 (-1.94%)
PPL 220.97 Decreased By ▼ -5.94 (-2.62%)
PRL 90.90 Decreased By ▼ -2.12 (-2.28%)
SNGP 90.94 Decreased By ▼ -0.90 (-0.98%)
SSGC 23.25 Decreased By ▼ -0.56 (-2.35%)
TELE 7.53 Decreased By ▼ -0.27 (-3.46%)
TPLP 12.55 Decreased By ▼ -0.42 (-3.24%)
TRG 56.20 Decreased By ▼ -0.36 (-0.64%)
UNITY 8.07 No Change ▼ 0.00 (0%)
WTL 1.01 No Change ▼ 0.00 (0%)

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں منگل کو تیزی کا رجحان واپس لوٹ آیا جس کی بدولت 100 انڈیکس میں 1,400 سے زائد پوائنٹس (1 فیصد) کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا، دن بھر مارکیٹ میں مثبت رجحان غالب رہا، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس 1 لاکھ 80 ہزار پوائنٹس کی نفسیاتی حد پر بحال ہوگیا۔

اگرچہ دوپہر کے وقت کچھ پرافٹ ٹیکنگ دیکھی گئی جس کے باعث بینچ مارک انڈیکس عارضی طور پر 179,400 سے 179,500 کی حدود میں واپس آگیا تاہم کاروبار کے آخری گھنٹے میں پھر زبردست خریداری دیکھی گئی جس نے بینچ مارک انڈیکس کو دن کی بلند ترین سطح 180,150.41 پوائنٹس پر پہنچا دیا۔

کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 1,886.91 پوائنٹس یا 1.06 فیصد اضافے سے 180,301.70 پوائنٹس پر بند ہوا۔

بروکریج ہاؤس ’ٹاپ لائن سیکورٹیز نے مارکیٹ کے اختتام پر جاری اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس مثبت رجحان کی وجہ گزشتہ روز کی مندی کے بعد آنے والی ریکوری ہے، کیونکہ سرمایہ کاروں نے تیل کی کم قیمتوں کے اثرات کو مدنظر رکھا۔

ٹاپ لائن کے مطابق انڈیکس میں سب سے زیادہ مثبت حصہ ڈالنے والے اداروں میں ایف ایف سی، حبکو، یو بی ایل، اینگرو، ماری اور لک شامل رہے، جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس میں 1,324 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔

یاد رہے کہ پیر کو اسٹاک ایکسچینج کو دوبارہ فروخت کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ ویک اینڈ پر نئی جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی آئی جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر پرافٹ ٹیکنگ کا رجحان غالب آگیا جس نے مارکیٹ کو نیچے دھکیل دیا اور پچھلے سیشن کے تمام فوائد ختم کردیے۔ بینچ مارک 100 انڈیکس 1,156.47 پوائنٹس یا 0.64 فیصد کی کمی سے 178,414.80 پوائنٹس پر بند ہوا۔

عالمی سطح پر منگل کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں ایک شاندار سہ ماہی کے اختتام پر غیر یقینی صورتحال کا شکار نظر آئیں جبکہ ڈالر کی بحالی نے جاپانی ین کو چار دہائیوں کی کم ترین سطح پر دھکیل دیا اور ڈالر مسلسل چوتھی سہ ماہی میں اضافے کی جانب گامزن ہے۔

جاپان کا نکی انڈیکس جو ٹریڈنگ کے آغاز میں مستحکم رہا، اس سہ ماہی کے دوران 36 فیصد سے زائد کے ریکارڈ اضافے کے لیے تیار ہے۔ اسی طرح جنوبی کوریا کا چپ میکر کمپنیوں پر مبنی انڈیکس کوسپی میں 1 فیصد کی گراوی دیکھی گئی، تاہم یہ دوسری سہ ماہی میں تقریباً 65 فیصد کے حیران کن اضافے اور سال کے آغاز سے اب تک اپنی قدر کو دگنا کرنے کے سنگِ میل پر کھڑا ہے۔

تیل کی عالمی منڈی میں جنگ سے متعلق خدشات اب ماضی کا حصہ بنتے جارہے ہیں جس کے نتیجے میں بینچ مارک برینٹ کروڈ فیوچرز 72.49 ڈالر فی بیرل کی پری وار (جنگ سے قبل کی) قیمتوں پر آچکے ہیں حالانکہ عارضی جنگ بندی تاحال غیر مستحکم ہے۔

وال اسٹریٹ کے انڈیکسز میں گزشتہ رات اضافہ دیکھا گیا جبکہ ایشیائی صبح کے وقت فیوچرز مارکیٹ مستحکم رہی۔ ڈالر ایک سہ ماہی اضافے کی طرف دیکھ رہا ہے جس کی وجہ امریکی شرح سود کے تناظر میں ہونے والی نمایاں تبدیلی ہے، امریکی معیشت کی مضبوطی اور افراطِ زر کے دباؤ کے باعث مارکیٹ کا رجحان اب شرح سود میں کٹوتی کے بجائے اضافے کی جانب پلٹ گیا ہے۔

ڈالر کی قدر میں اضافے نے سونے کی قیمتوں کو ایک دہائی سے زیادہ عرصے کی بدترین سہ ماہی گراوٹ کی جانب دھکیل دیا جبکہ ایشیائی ٹریڈنگ کے دوران جاپانی ین چار دہائیوں کی کم ترین سطح 162.41 فی ڈالر پر پہنچ گیا ہے جس نے سرمایہ کاروں میں جاپانی حکومت کی جانب سے ممکنہ مداخلت کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے۔

دوسری جانب انٹربینک مارکیٹ میں منگل کو ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ مارکیٹ کے اختتام پر مقامی کرنسی ڈالر کے مقابلے میں 1 پیسے کے اضافے کے بعد 278.16 پر بند ہوئی۔

آل شیئر انڈیکس کے کاروباری حجم میں کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ گزشتہ سیشن کے 86 کروڑ 93 لاکھ شیئرز کے مقابلے میں کم ہو کر 70 کروڑ 36 لاکھ شیئرز رہ گیا۔

گزشتہ سیشن میں شیئرز کی مالیت 43 ارب 95 کروڑ روپے تھی جو موجودہ سیشن میں کم ہو کر 38 ارب 81 کروڑ روپے رہ گئی۔

کاروباری حجم کے لحاظ سے پاک انٹرنیشنل بلک 5 کروڑ 82 لاکھ شیئرز کے ساتھ پہلے جبکہ کوہ نور اسپننگ 3 کروڑ 87 لاکھ شیئرز کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔

منگل کو مجموعی طور پر 499 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 301 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ، 162 میں کمی جبکہ 29 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔

Comments

200 حروف