اسٹاک ایکسچینج میں مثبت رجحان واپس، 100 انڈیکس 1400 سے زائد پوائنٹس بڑھ گیا
- آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں اور ریفائنری سمیت اہم شعبوں میں بھرپور خریداری
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں منگل کو خریداری کا رجحان واپس آگیا جس کے نتیجے میں ٹریڈنگ کے ابتدائی اوقات میں 100 انڈیکس میں 1,400 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
صبح 11 بجکر 25 منٹ پر بینچ مارک انڈیکس 1,441.74 پوائنٹس یا 0.81 فیصد اضافے سے 179,856.53 پوائنٹس پر جاپہنچا۔
آٹو موبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، او ایم سی ، بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں اور ریفائنری سمیت اہم شعبوں میں خریداری دیکھی گئی۔ انڈیکس کو سہارا دینے والے بڑے اسٹاکس جن میں او جی ڈی سی، ماری ، پی او ایل ، پی پی ایل، حبکو، اے آر ایل، پی ایس او ، ایس ایس جی سی اور یو بی ایل بھی مثبت زون میں دکھائی دیے۔
یاد رہے کہ پیر کو اسٹاک ایکسچینج کو دوبارہ فروخت کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ ویک اینڈ پر نئی جغرافیائی سیاسی غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی آئی جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر پرافٹ ٹیکنگ کا رجحان غالب آگیا جس نے مارکیٹ کو نیچے دھکیل دیا اور پچھلے سیشن کے تمام فوائد ختم کردیے۔ بینچ مارک 100 انڈیکس 1,156.47 پوائنٹس یا 0.64 فیصد کی کمی سے 178,414.80 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر منگل کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹیں ایک شاندار سہ ماہی کے اختتام پر غیر یقینی صورتحال کا شکار نظر آئیں جبکہ ڈالر کی بحالی نے جاپانی ین کو چار دہائیوں کی کم ترین سطح پر دھکیل دیا اور ڈالر مسلسل چوتھی سہ ماہی میں اضافے کی جانب گامزن ہے۔
جاپان کا نکی انڈیکس جو ٹریڈنگ کے آغاز میں مستحکم رہا، اس سہ ماہی کے دوران 36 فیصد سے زائد کے ریکارڈ اضافے کے لیے تیار ہے۔ اسی طرح جنوبی کوریا کا چپ میکر کمپنیوں پر مبنی انڈیکس کوسپی میں 1 فیصد کی گراوی دیکھی گئی، تاہم یہ دوسری سہ ماہی میں تقریباً 65 فیصد کے حیران کن اضافے اور سال کے آغاز سے اب تک اپنی قدر کو دگنا کرنے کے سنگِ میل پر کھڑا ہے۔
تیل کی عالمی منڈی میں جنگ سے متعلق خدشات اب ماضی کا حصہ بنتے جارہے ہیں جس کے نتیجے میں بینچ مارک برینٹ کروڈ فیوچرز 72.49 ڈالر فی بیرل کی پری وار (جنگ سے قبل کی) قیمتوں پر آچکے ہیں حالانکہ عارضی جنگ بندی تاحال غیر مستحکم ہے۔
وال اسٹریٹ کے انڈیکسز میں گزشتہ رات اضافہ دیکھا گیا جبکہ ایشیائی صبح کے وقت فیوچرز مارکیٹ مستحکم رہی۔ ڈالر ایک سہ ماہی اضافے کی طرف دیکھ رہا ہے جس کی وجہ امریکی شرح سود کے تناظر میں ہونے والی نمایاں تبدیلی ہے، امریکی معیشت کی مضبوطی اور افراطِ زر کے دباؤ کے باعث مارکیٹ کا رجحان اب شرح سود میں کٹوتی کے بجائے اضافے کی جانب پلٹ گیا ہے۔
ڈالر کی قدر میں اضافے نے سونے کی قیمتوں کو ایک دہائی سے زیادہ عرصے کی بدترین سہ ماہی گراوٹ کی جانب دھکیل دیا جبکہ ایشیائی ٹریڈنگ کے دوران جاپانی ین چار دہائیوں کی کم ترین سطح 162.41 فی ڈالر پر پہنچ گیا ہے جس نے سرمایہ کاروں میں جاپانی حکومت کی جانب سے ممکنہ مداخلت کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے۔
یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے






















Comments