پاکستان میں مقامی کاربن مارکیٹ اور ای ٹی ایس کے قیام کی کوششیں تیز
- پاکستان میں مقامی کاربن پرائسنگ نظام متعارف کرانے سے برآمد کنندگان کو یورپی یونین کے کاربن بارڈر قوانین پر عمل درآمد میں مدد ملے گی
ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے کہا ہے کہ پاکستان یورپی یونین کے کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم (سی بی اے ایم) سے پیدا ہونے والے بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر مقامی کاربن مارکیٹ اور اخراجی اجازت ناموں کی تجارتی نظام کے قیام کی کوششیں تیز کر رہا ہے، کیونکہ اس نظام سے بالخصوص زیادہ کاربن اخراج کرنے والی برآمدی صنعتوں کی لاگت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
کیرک ممالک میں ٹرانسپورٹ کے شعبے میں کاربن پرائسنگ کے اثرات اور مواقع“ کے عنوان سے جاری اے ڈی بی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں مقامی کاربن پرائسنگ نظام متعارف کرانے سے برآمد کنندگان کو یورپی یونین کے کاربن بارڈر قوانین پر عمل درآمد میں مدد ملے گی، مستقبل میں ممکنہ کاربن محصولات سے بچاؤ ممکن ہوگا، عالمی سطح پر ماحول دوست تجارتی منڈیوں میں مسابقت بڑھے گی، جبکہ گرین سرمایہ کاری کو فروغ دینے اور کم کاربن منصوبوں کے لیے مالی وسائل بھی میسر آئیں گے۔
رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کا کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم (سی بی اے ایم)، جو 2026 تک یورپی یونین کے ایمیشنز ٹریڈنگ سسٹم (ای ٹی ایس) کے ساتھ مکمل طور پر منسلک ہو جائے گا، اسٹیل، سیمنٹ اور ایلومینیم جیسی درآمدی مصنوعات پر کاربن چارجز عائد کرے گا۔ اس کے علاوہ پاکستان کی سب سے بڑی برآمدی صنعت، ٹیکسٹائل سیکٹر، بھی تقریباً 2030 تک اس نظام کے دائرہ کار میں آنے کی توقع ہے۔
اے ڈی بی کے مطابق پاکستان کا بجلی کا شعبہ یورپی یونین کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 1.44 گنا زیادہ کاربن اخراج کرتا ہے، جس کے باعث پاکستانی برآمد کنندگان مستقبل میں کاربن سے متعلق تجارتی اخراجات کے حوالے سے زیادہ خطرات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ مقامی کاربن قیمت مقرر کرنے سے برآمد کنندگان مقامی کاربن کریڈٹس یا الاونسز کے ذریعے ان تقاضوں کو نسبتاً کم لاگت پر پورا کر سکیں گے، بجائے اس کے کہ وہ یورپی یونین کی سرحدی کاربن فیس ادا کریں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے 2006 میں کیوٹو پروٹوکول کے تحت کلین ڈویلپمنٹ میکانزم (سی ڈی ایم) کے ذریعے بین الاقوامی کاربن مارکیٹ میں شمولیت اختیار کی تھی۔ 2026 تک پاکستان 76 سی ڈی ایم منصوبوں کی منظوری دے چکا ہے، جن میں سے 37 منصوبے سی ڈی ایم ایگزیکٹو بورڈ کے ساتھ رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ ان منصوبوں کا زیادہ تر تعلق قابلِ تجدید توانائی اور توانائی کی بچت سے ہے۔
اے ڈی بی کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں پاکستان نے کاربن مارکیٹ کے لیے اپنے ادارہ جاتی ڈھانچے کو نمایاں طور پر مضبوط بنایا ہے۔ 2018 میں وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری کے تحت نیشنل کمیٹی آن دی اسٹیبلشمنٹ آف کاربن مارکیٹس قائم کی گئی، جس کا مقصد بین الاقوامی کاربن مارکیٹ میں پاکستان کی شمولیت کا جائزہ لینا اور مقامی ایمیشنز ٹریڈنگ سسٹم (ای ٹی ایس) کی تشکیل تھا، جسے نگرانی، رپورٹنگ اور تصدیق کے نظام کی معاونت حاصل ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے پیرس معاہدے کے آرٹیکل 6 کے تحت کاربن مارکیٹ سے متعلق رہنما اصول بھی اختیار کیے ہیں، تاکہ اخراج میں کمی کے منصوبوں میں ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے۔
اے ڈی بی نے مزید کہا کہ پاکستان کے کاربن مارکیٹ فریم ورک پر عمل درآمد کی نگرانی بنیادی طور پر وزارتِ موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری کے تحت قائم کاربن مارکیٹ ورکنگ گروپ کرے گا، جبکہ نیشنل کاربن رجسٹری مقامی نظام کی نگرانی کرتے ہوئے کاربن ٹریڈنگ میں شفافیت اور اعتماد کو یقینی بنائے گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026






















Comments