اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، ایک لاکھ 82 ہزار کی بلند سطح بحال
- بینچ مارک انڈیکس 182,471.67 پوائنٹس پر جاپہنچا
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں خریداری کا رجحان بدستور جاری ہے جس کی بدولت بدھ کو ٹریڈنگ کے دوران 100 انڈیکس 2100 سے زائد پوائنٹس کے اضافے سے ایک لاکھ 82 ہزار کی بلند سطح پر بحال ہوگیا۔
دوپہر 12 بجے بینچ مارک انڈیکس 2,169.97 پوائنٹس یا 1.20 فیصد اضافے سے 182,471.67 پوائنٹس پر جاپہنچا۔
آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں، او ایم سی اور پاور جنریشن سمیت اہم شعبوں میں خریداری دیکھی گئی۔ انڈیکس کو سپورٹ کرنے والے بڑے اسٹاکس بشمول اے آر ایل، حبکو، ماری، اوجی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، ایم سی بی، این بی پی اور یو بی ایل میں بھی تیزی کا رجحان رہا۔
اسٹاک ایکسچینج کے 100 انڈیکس میں مالی سال 2025-26 کے دوران 44 فیصد کا شاندار اضافہ دیکھنے میں آیا۔ مالی سال کا اختتام ایک مضبوط نوٹ پر ہوا کیونکہ آئی ایم ایف کے تعاون یافتہ پروگرام کے تحت میکرو اکنامک استحکام میں بہتری نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھایا جس سے اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کا تسلسل برقرار رہا۔
کے ایس ای 100 انڈیکس نے گزشتہ مالی سال کے آخری کاروباری سیشن کا اختتام 180,301 پوائنٹس پر کیا جو کہ مالی سال 2025 کے اختتام پر موجود 125,627 پوائنٹس کے مقابلے میں 44 فیصد زیادہ ہے۔
بین الاقوامی سطح پر ایشیائی شیئر مارکیٹوں نے بدھ کو نئے سہ ماہی کا آغاز محتاط انداز میں کیا۔ اس کی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں نئی رکاوٹوں کا پیدا ہونا ہے جبکہ دوسری جانب سرمایہ کار جاپانی ین کی 40 سالہ کم ترین سطح پر پہنچنے کے بعد جاپان کی جانب سے ممکنہ مداخلت پر بھی نظریں جمائے ہوئے ہیں۔
تہران نے منگل کو کہا کہ وہ خطے میں آنے والے امریکی ایلچیوں سے ملاقات نہیں کرے گا کیونکہ دونوں فریقین اس فریم ورک پر اب بھی ایک دوسرے سے بہت دور ہیں جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنا ہے۔
امریکی ٹریژری یلڈز میں راتوں رات اضافے کے بعد بانڈ مارکیٹیں بھی دباؤ کا شکار ہیں کیونکہ جمعرات کو آنے والے اہم روزگار کے اعدادوشمار سے قبل فیوچرز مارکیٹ میں فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں اضافے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
اس لیے سب کی نظریں فیڈ چیئر کیون وارش پر ہوں گی جو آج سیشن کے دوران یورپی سینٹرل بینک کی کانفرنس سے خطاب کریں گے تاکہ مانیٹری پالیسی کو مزید سخت کرنے کی ضرورت کے حوالے سے کوئی رہنمائی مل سکے۔
تاجروں کے لیے بدقسمتی یہ ہے کہ وارش طویل عرصے سے فیڈرل ریزرو کی جانب سے مستقبل کی پالیسی کے بارے میں پیشگی رہنمائی فراہم کرنے کے مخالف رہے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ وہ اپنی پالیسی کے ارادوں کو خفیہ ہی رکھیں۔
فیوچرز مارکیٹ کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ اس ماہ کے آخر میں ہونے والی فیڈ کی اگلی میٹنگ میں شرح سود میں اضافے کا امکان 33 فیصد ہے جبکہ ستمبر میں اس اقدام کے امکانات کا تخمینہ تقریباً 70 فیصد لگایا گیا ہے۔
دریں اثنا ایکویٹی سرمایہ کار اس امید پر ہیں کہ آنے والا کارپوریٹ آمدنی کا سیزن اتنا شاندار ہوگا کہ وہ شرح سود کے خطرے کو بے اثر کردے گا جس کے باعث وہ بدستور ٹیکنالوجی کے پسندیدہ اسٹاکس میں سرمایہ کاری جاری رکھے ہوئے ہیں۔
جاپان کے نکی انڈیکس میں مزید 1.0 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ گزشتہ سہ ماہی میں یہ 37 فیصد تک بڑھ چکا تھا۔ بدھ کو جاری ہونے والے ایک اہم سروے کے مطابق ٹیکنالوجی کے شعبے میں تیزی کے رجحان نے بڑے مینوفیکچررز کے اعتماد کو 2018 کے بعد کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ایک اور سروے سے پتہ چلتا ہے کہ نئے آرڈرز میں اضافے کے باعث مینوفیکچرنگ کے شعبے نے 2014 کے بعد سے اپنی بہترین سہ ماہی ریکارڈ کی ہے۔
جنوبی کوریا کے مرکزی انڈیکس میں 1.4 فیصد کی گراوٹ دیکھی گئی جو کہ دوسری سہ ماہی میں سیمی کنڈکٹرز کے لیے مصنوعی ذہانت سے متعلق بڑھتی ہوئی مانگ کی بدولت 68 فیصد کے نمایاں اضافے کے بعد سامنے آئی ہے۔ جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کا ایم ایس سی آئی کا وسیع تر انڈیکس مستحکم رہا۔
یہ انٹرا ڈے اپڈیٹ ہے























Comments