جون 2026 میں مہنگائی کی شرح 11.1 فیصد ریکارڈ
- مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط مہنگائی کی شرح 7.05 فیصد رہی، ادارہ شماریات
جون 2026 کے دوران مہنگائی بڑھنے کی شرح سالانہ 11.1 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
ادارہ شماریات کے مطابق مئی 2026 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) 11.7 فیصد ریکارڈ کیا گیا جبکہ جون 2025 میں یہ شرح 3.2 فیصد تھی۔
ماہانہ بنیادوں پر دیکھا جائے تو جون 2026 کے دوران مہنگائی کی شرح میں ماہانہ 0.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی جبکہ مئی 2026 میں یہ 0.5 فیصد بڑھی تھی۔ اسی طرح جون 2025 میں ماہانہ بنیاد پر مہنگائی میں 0.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
مالی سال 2025-26 کے دوران اوسط مہنگائی کی شرح 7.05 فیصد رہی جبکہ اس سے گزشتہ مالی سال کی اسی مدت میں یہ شرح 4.49 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔
عارف حبیب لمیٹڈ (اے ایچ ایل) نے ایک نوٹ میں کہا کہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی میں اضافے کی بڑی وجہ جاری جغرافیائی سیاسی تناؤ کے باعث تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے نتیجے میں توانائی اور نقل و حمل کے اخراجات میں ہونے والا اضافہ ہے۔
شہری علاقوں میں کنزیومر پرائس انڈیکس کی بنیاد پر سالانہ مہنگائی کی شرح جون 2026 میں 11.2 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ مئی 2026 میں یہ 11.8 فیصد اور جون 2025 میں 3.0 فیصد تھی۔
ماہانہ بنیاد پر شہری علاقوں میں مہنگائی کی شرح جون 2026 میں 0.5 فیصد کم ہوئی جبکہ مئی 2026 میں اس میں 0.7 فیصد اضافہ اور جون 2025 میں 0.1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔
دیہی علاقوں میں کنزیومر پرائس انڈیکس کی بنیاد پر سالانہ مہنگائی کی شرح جون 2026 میں 10.9 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ مئی 2026 میں یہ 11.5 فیصد اور جون 2025 میں 3.6 فیصد تھی۔
ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں دیہی علاقوں میں مہنگائی کی شرح میں کوئی تبدیلی ریکارڈ نہیں کی گئی جبکہ مئی 2026 میں اس میں 0.3 فیصد اضافہ اور جون 2025 میں 0.5 فیصد اضافہ دیکھا گیا تھا۔
حکومتی توقعات
وزارت خزانہ نے اپنی تازہ ترین ماہانہ آؤٹ لک رپورٹ میں نوٹ کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری امن کی کوششوں کے باعث جغرافیائی سیاسی کشیدگی میں حالیہ کمی نے عالمی مارکیٹ کے رجحانات کو بہتر بنایا ہے۔
نتیجتاً عالمی خام تیل کی قیمتیں اپنی حالیہ بلند ترین سطح سے نیچے آ گئی ہیں جس سے توقع کی جارہی ہے کہ درآمدی مہنگائی کے دباؤ میں کمی آئے گی اور مقامی سطح پر ایندھن اور نقل و حمل کے اخراجات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔
رپورٹ کے مطابق جون 2026 میں مہنگائی بڑھنے کی شرح 11 سے 12 فیصد کی حدود میں رہنے کی توقع ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں کمی سے تیل کے درآمدی بل کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی جس سے بیرونی کھاتے کو تقویت ملے گی۔
گزشتہ ماہ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ تخمینہ لگایا گیا ہے کہ جون میں افراطِ زر کی شرح اگلے چند مہینوں تک دوہرے ہندسوں میں رہے گی، جس کے بعد اس میں بتدریج کمی متوقع ہے۔






















Comments