مالیاتی عدم توازن، ورلڈ بینک کی این ایف سی ایوارڈ میں جامع اصلاحات کی سفارش
- رپورٹ کے مطابق نظام میں موجود ساختی کمزوریاں اب بھی مالیاتی نظم و ضبط کو متاثر کر رہی ہیں
ورلڈ بینک نے پاکستان کے مالیاتی وفاقی نظام میں اصلاحات پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ مالیاتی وفاقی ڈھانچہ عوامی مالیات میں مستقل ساختی عدم توازن پیدا کر رہا ہے۔ ادارے نے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ پر جامع نظرثانی، اخراجاتی ذمہ داریوں کو آمدنی پیدا کرنے کی صلاحیت سے ہم آہنگ کرنے، صوبائی ٹیکس وصولی کو مضبوط بنانے اور مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کی سفارش کی ہے۔
ورلڈ بینک نے بدھ کے روز میڈیا بریفنگ کے دوران جاری کی گئی اپنی رپورٹ ”پاکستان میں مالیاتی وفاقیت کو مضبوط بنانا“ میں کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم اور 7ویں این ایف سی ایوارڈ نے اہم عوامی خدمات کی فراہمی کی ذمہ داریاں صوبوں کو منتقل کرکے اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی کی تاریخی بنیاد رکھی، تاہم اس کے ساتھ مالیاتی اور ادارہ جاتی انتظامات میں ضروری اصلاحات مکمل طور پر نہیں کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق نظام میں موجود ساختی کمزوریاں اب بھی مالیاتی نظم و ضبط کو متاثر کر رہی ہیں، محصولات بڑھانے کی صلاحیت کو محدود کر رہی ہیں اور شہریوں کو فراہم کی جانے والی عوامی خدمات کے معیار پر منفی اثر ڈال رہی ہیں۔
ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ میں شامل ریورس گرانٹس موجودہ عمودی مالیاتی عدم توازن کو جزوی طور پر کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں، تاہم پاکستان کے مالیاتی وفاقی نظام کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے وسیع تر ادارہ جاتی اصلاحات ناگزیر ہوں گی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پنجاب سے 546 ارب روپے سے زائد اور سندھ سے 260 ارب روپے کی ریورس گرانٹس کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی جانب سے کسی رقم کا اندراج نہیں کیا گیا۔
اس حوالے سے سوال پر ورلڈ بینک کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ ان دونوں صوبوں کی بجٹ دستاویزات میں ایسی کسی رقم کا ذکر موجود نہیں۔ دوسری جانب وفاقی حکومت نے آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت مالی سال 2026-27 کے لیے صوبوں سے 1,035 ارب روپے کی گرانٹس/وصولیوں کا تخمینہ لگایا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026


Comments