پاکستان میں گھریلو برقی آلات کی بڑھتی مارکیٹ، سلیکٹ ٹیکنالوجیز آئی پی او فنڈز سے توسیع کرے گی
- ایئر لنک کے سی ای او کا کہنا ہے کہ مقامی پیداوار مسابقتی برتری برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ہے
ایئر لنک کمیونیکیشن لمیٹڈ کا مینوفیکچرنگ ونگ سلیکٹ ٹیکنالوجیز لمیٹڈ پاکستان میں گھریلو برقی آلات کی بڑھتی ہوئی مارکیٹ اور مقامی سطح پر پیداوار (لوکلائزیشن) کی وسیع حکمتِ عملی پر انحصار کرتے ہوئے اپنی ترقی کے اگلے مرحلے میں داخل ہونے کا خواہاں ہے۔ اسی مقصد کے تحت کمپنی نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کامیاب ابتدائی عوامی حصص فروخت (آئی پی او) مکمل کی ہے۔
کمپنی اپنے آئی پی او کے ذریعے مجموعی طور پر 3.02 ارب روپے حاصل کرے گی، جبکہ گزشتہ منگل کو اختتام پذیر ہونے والی دو روزہ ڈچ بڈنگ کے دوران حصص کی قیمت 34 روپے فی شیئر مقرر ہوئی۔
مالی سال 2026-27 کے پہلے آئی پی او کے تحت کمپنی 34 روپے فی شیئر کے حساب سے 8 کروڑ 88 لاکھ 80 ہزار حصص فروخت کر رہی ہے، جبکہ کمپنی کے حصص جولائی 2026 سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں عوامی خرید و فروخت کے لیے دستیاب ہوں گے۔
کمپنی، جو شیاؤمی (Xiaomi) اسمارٹ فونز تیار کرتی ہے اور حال ہی میں چینی الیکٹرانکس کمپنی ہائ سینس (Hisense) کے ساتھ شراکت داری کر چکی ہے، آئی پی او سے حاصل ہونے والی رقم پنجاب میں واقع سندر گرین اسپیشل اکنامک زون (ایس ای زیڈ) میں اپنے نئے پیداواری یونٹ کی استعداد بڑھانے پر خرچ کرے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ کمپنی ٹیلی ویژن، ایئر کنڈیشنرز اور دیگر گھریلو الیکٹرانکس مصنوعات کے شعبے میں بھی اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے ایئر لنک کمیونیکیشن لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مظفر حیات پراچہ نے کہا کہ کمپنی نے ایسے وقت میں پبلک ہونے کا فیصلہ کیا ہے جب پاکستان میں مقامی سطح پر پیداوار اور مینوفیکچرنگ پر تیزی سے توجہ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا، ”مارکیٹ میں مسابقتی برتری برقرار رکھنے کے لیے مقامی سطح پر پیداوار ناگزیر ہے۔ اگر آپ لوکلائزیشن نہیں کریں گے تو مستقبل میں، چاہے مقامی مارکیٹ ہو یا برآمدات، آپ مسابقت برقرار نہیں رکھ سکیں گے۔“
مظفر حیات پراچہ کے مطابق، اسٹاک ایکسچینج میں لسٹنگ سے کمپنی کو نہ صرف طویل المدتی سرمایہ حاصل ہوگا بلکہ کارپوریٹ گورننس، پیداواری صلاحیت اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں بھی اضافہ ہوگا۔
یہ آئی پی او ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ میں نمایاں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ حالیہ عرصے میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں فہرست ہونے والی کمپنیوں کی کارکردگی مضبوط رہی ہے، جس سے سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مستحکم ہوا ہے۔ 6 جون 2026 تک پی ایس ایکس میں ہونے والی 13 نئی لسٹنگز نے اوسطاً 47 فیصد منافع فراہم کیا۔
دوسری جانب سلیکٹ ٹیکنالوجیز اسمارٹ فونز سے آگے بڑھتے ہوئے اپنے کاروبار کو متنوع بنانے اور گھریلو برقی آلات کی مارکیٹ میں موجود نسبتاً بڑے ترقیاتی مواقع سے فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔
اگرچہ کمپنی کے مطابق اسمارٹ فونز کی فروخت میں مستحکم نمو برقرار رہنے کی توقع ہے، تاہم درمیانی مدت میں ٹیلی ویژن اور ایئر کنڈیشنرز کمپنی کی آمدنی کے اہم ذرائع بن جائیں گے۔
مظفر حیات پراچہ نے کہا، ”گھریلو برقی آلات کی دنیا بہت وسیع ہے۔ واٹر پیوریفائرز سے لے کر ریفریجریٹرز اور واشنگ مشینوں تک بے شمار مصنوعات موجود ہیں۔ ہم کمپنی کی مکمل صلاحیت سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں، اور اس مقصد کے لیے مالیاتی منڈیوں تک رسائی انتہائی اہم ہے۔“
کمپنی کے مطابق سندر گرین اسپیشل اکنامک زون میں قائم نئے پیداواری یونٹ سے سالانہ پیداواری صلاحیت بڑھ کر 70 لاکھ اسمارٹ فونز، 3 لاکھ 60 ہزار اسمارٹ ٹی وی اور 4 لاکھ ایئر کنڈیشنرز تک پہنچ جائے گی۔ اس منصوبے کو اسپیشل اکنامک زون کے تحت دستیاب مراعات اور 2035 تک ٹیکس چھوٹ کا بھی فائدہ حاصل ہوگا۔
انتظامیہ کے مطابق سندر گرین اسپیشل اکنامک زون منتقل ہونا ایک اسٹریٹجک ضرورت تھی، کیونکہ موجودہ فیکٹری میں بنیادی ڈھانچے سے متعلق بعض مسائل درپیش تھے۔ نئے مقام پر کمپنی کو ٹیکس مراعات، بہتر محلِ وقوع اور آپریشنل سہولتوں سمیت متعدد فوائد حاصل ہوں گے۔
کمپنی کا خیال ہے کہ زیادہ منافع کے باعث مستقبل میں گھریلو برقی آلات اس کی آمدنی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ معمول کے حالات میں اسمارٹ فونز پر 8 سے 9 فیصد منافع کی توقع ہے، جبکہ ٹیلی ویژن اور ایئر کنڈیشنرز پر 15 سے 20 فیصد تک منافع حاصل ہونے کا امکان ہے، جس سے مجموعی منافع میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
کمپنی کے مطابق پاکستان میں گھریلو برقی آلات کی مارکیٹ میں ابھی بھی ترقی کی بڑی گنجائش موجود ہے۔ کمپنی کے تخمینوں کے مطابق ملک میں صرف 16.5 فیصد گھرانوں کے پاس ایئر کنڈیشنر موجود ہے، جبکہ اسمارٹ فونز کی رسائی تقریباً 72 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایئر کنڈیشنرز اور دیگر برقی آلات کی مارکیٹ میں ترقی کے امکانات کہیں زیادہ ہیں۔
مظفر حیات پراچہ کے مطابق صارفین کے بدلتے رجحانات، بڑھتا ہوا درجہ حرارت اور شمسی توانائی (سولر) کا تیزی سے فروغ اس شعبے میں طلب بڑھانے کے لیے سازگار ماحول پیدا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا، ”ایک وقت تھا جب ایئر کنڈیشنر جیسی مصنوعات تعیش سمجھی جاتی تھیں، لیکن آج بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور سولرائزیشن کے باعث یہ بہت سے گھرانوں کی ضرورت بن چکی ہیں۔“
کمپنی کو شیاؤمی اور ہائ سینس کے ساتھ اپنی شراکت داری سے بھی نمایاں ترقی کی توقع ہے، کیونکہ دونوں کمپنیوں کے پاس اپنی بنیادی مصنوعات کے علاوہ بھی متعدد اقسام کی مصنوعات کا وسیع پورٹ فولیو موجود ہے۔
مظفر حیات پراچہ نے کہا، ”صرف شیاؤمی کے پاس ہی عالمی سطح پر سیکڑوں مصنوعات موجود ہیں، جبکہ ہائ سینس بھی گھریلو برقی آلات کی مکمل رینج فراہم کرتی ہے۔ اگر آئندہ چار سے پانچ برسوں میں ہم ان مصنوعات کی مزید اقسام کامیابی سے متعارف کرا سکے تو ہمارا یقین ہے کہ ہم اپنی موجودہ پیش گوئیوں سے بھی بہتر کارکردگی دکھا سکیں گے۔“
کمپنی کی انتظامیہ نے آئندہ پانچ برسوں میں تقریباً 120 سے 122 ارب روپے آمدنی کا ہدف مقرر کیا ہے، تاہم موجودہ مالیاتی ماڈل میں برآمدات کو شامل نہیں کیا گیا۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ اگر حکومت مقامی طور پر تیار کی جانے والی الیکٹرانکس مصنوعات کی برآمدات کے لیے سازگار پالیسیاں متعارف کراتی ہے تو برآمدات کمپنی کی آمدنی میں نمایاں اضافے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔
مظفر حیات پراچہ نے کہا، ”برآمدات ہمارے لیے ایک اضافی موقع ہیں۔ فی الحال ہماری اولین ترجیح مقامی طلب پوری کرنا ہے، جو اب بھی بہت زیادہ ہے۔ جب مقامی سطح پر پیداوار (لوکلائزیشن) ایک مؤثر سطح تک پہنچ جائے گی تو برآمدات اگلا فطری مرحلہ ہوں گی۔“
کمپنی کی طویل المدتی حکمتِ عملی میں لوکلائزیشن بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ سلیکٹ ٹیکنالوجیز کا ہدف ہے کہ اپنے ایئر کنڈیشنر کاروبار میں تقریباً 40 فیصد مقامی سطح پر پیداوار حاصل کی جائے، جس کے لیے پلاسٹک کے پرزے، دھاتی اجزا، پیکیجنگ میٹریل اور دیگر خام مال ملک کے اندر سے حاصل کیا جائے گا۔
کمپنی کے مطابق مقامی مینوفیکچرنگ سے نہ صرف زرمبادلہ کے اخراج میں کمی آئے گی بلکہ مسابقتی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوگا اور پاکستان میں صنعتی ترقی کے عمل کو بھی تقویت ملے گی۔
مظفر حیات پراچہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی طویل المدتی معاشی پائیداری کا انحصار مینوفیکچرنگ اور برآمدات کے فروغ پر ہے۔
انہوں نے کہا، ”مینوفیکچرنگ کے بغیر پاکستان برآمدات میں اضافہ نہیں کر سکتا۔ اگر ملک اپنی برآمدات نہیں بڑھاتا تو اسے بیرونی مالی وسائل پر انحصار کرنا پڑے گا۔ مقامی مینوفیکچرنگ اور لوکلائزیشن تجارتی خسارہ کم کرنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے ناگزیر ہیں۔“
کمپنی کو توقع ہے کہ اس کے توسیعی منصوبوں سے روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ نئے پیداواری یونٹ کی توسیع کے بعد کمپنی کے براہِ راست ملازمین کی تعداد موجودہ 1800 سے 2000 کے مقابلے میں بڑھ کر تقریباً 3000 ہو جائے گی، جبکہ معاون صنعتوں میں بھی مزید روزگار کے مواقع پیدا ہونے کی توقع ہے۔
2021 میں ایئر لنک کی اسٹاک ایکسچینج میں لسٹنگ کا حوالہ دیتے ہوئے مظفر حیات پراچہ نے کہا کہ عوامی ملکیت میں آنے سے کمپنی کے کارپوریٹ گورننس کے معیار بہتر ہوئے اور یہ ایک پیشہ ورانہ انداز میں چلنے والے ادارے میں تبدیل ہوگئی۔
انہوں نے کہا، ”جب کوئی کمپنی اسٹاک ایکسچینج میں فہرست ہوتی ہے تو وہ خاندانی ڈھانچے سے نکل کر ایک کارپوریٹ نظام کا حصہ بن جاتی ہے۔ ایئر لنک کی لسٹنگ سے ہم نے یہی سب سے اہم سبق سیکھا۔“
انہوں نے مزید کہا، ”ہمارا مقصد صرف سرمایہ اکٹھا کرنا نہیں، بلکہ ایک ایسی کمپنی قائم کرنا ہے جو مضبوط کارپوریٹ گورننس، شفافیت اور طویل المدتی بنیادوں پر وسعت اختیار کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔“






















Comments