عراقی وزیر خارجہ کا اسد حکومت کے خاتمے کے بعد پہلا دورۂ شام
- عراقی وزیر خارجہ اپنے دورۂ شام کے دوران شامی صدر احمد الشرع، وزیر خارجہ اور وزیرِ توانائی سے ملاقاتیں کریں گے
عراق کے وزیر خارجہ فؤاد حسین نے پیر کو دسمبر 2024 میں بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد پہلی بار شام کا دورہ کیا۔
اسد حکومت کے خاتمے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں تبدیلی آئی، کیونکہ بشار الاسد بغداد کی سابق حکومتوں کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے تھے۔
ابتدائی طور پر عراق نے شام کے نئے حکمران احمد الشرع کے ساتھ محتاط رویہ اختیار کیا، تاہم اب بغداد شام کے ساتھ تجارت اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے، جبکہ شام برسوں پر محیط خانہ جنگی کے بعد بحالی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔
ایک عراقی سفارتی ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ فؤاد حسین اپنے دورے کے دوران احمد الشرع کے علاوہ شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی اور وزیر توانائی محمد البشیر سے بھی ملاقات کریں گے۔
فؤاد حسین کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اس دورے کا مقصد سیاسی، سکیورٹی، اقتصادی اور تجارتی شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانا اور خطے و دنیا میں رونما ہونے والی تازہ پیش رفت پر تبادلہ خیال کرنا ہے۔
بیان کے مطابق ملاقاتوں میں مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے رابطوں اور مشاورت کو مزید مؤثر بنانے کے طریقوں پر بھی غور کیا جائے گا۔
مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث تیل کی برآمدات متاثر ہونے کے بعد عراق نے حالیہ مہینوں میں شام کے راستے محدود پیمانے پر تیل برآمد کرنا شروع کیا ہے۔
نئی شامی حکومت کے اقتدار سنبھالنے کے بعد فؤاد حسین دمشق کا دورہ کرنے والے پہلے اعلیٰ عراقی سیاسی رہنما ہیں، اگرچہ اس سے قبل دیگر عراقی حکام بھی شام جا چکے ہیں۔
عراق کے انٹیلی جنس سربراہ حمید الشطری نے بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے والے مہینے میں دمشق کا دورہ کیا تھا، جبکہ شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے گزشتہ سال مارچ میں پہلی مرتبہ بغداد کا سفر کیا تھا۔
مئی 2025 میں عراق کے کئی بااثر سیاست دانوں نے عرب لیگ کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے احمد الشرع کے متوقع دورۂ عراق کی مخالفت کی تھی۔ اس وقت سکیورٹی ذرائع نے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ القاعدہ سے وابستگی کے ماضی کے الزام کے باعث ان کے خلاف جاری ایک پرانا وارنٹ گرفتاری اب بھی برقرار ہے۔
بعد ازاں عرب لیگ اجلاس میں احمد الشرع کے بجائے اسعد الشیبانی نے شرکت کی تھی۔
احمد الشرع 2003 میں امریکہ کی قیادت میں عراق پر حملے کے بعد القاعدہ سے وابستگی کے الزام میں کئی برس تک عراق میں قید رہے تھے۔
رواں سال فروری میں امریکہ نے شمال مشرقی شام میں کرد انتظامیہ کے زیرانتظام جیلوں میں برسوں سے قید داعش کے 5,700 مشتبہ ارکان، جن میں سیکڑوں غیر ملکی بھی شامل تھے، عراق کے حوالے کرنے کا عمل مکمل کیا۔
اپریل میں عراق نے ایک دہائی سے زائد عرصے بعد شام کے ساتھ اپنی ایک اہم سرحدی گزرگاہ دوبارہ تجارت کے لیے کھول دی، جسے داعش کے عروج کے بعد بند کر دیا گیا تھا۔
اس وقت دونوں ممالک کے درمیان تین سرحدی گزرگاہیں فعال ہیں۔
عراقی حکام اس نئی گزرگاہ کو اس لیے بھی تزویراتی اہمیت کا حامل قرار دیتے ہیں کہ اس سے عراق اور خلیجی ممالک کو ایک علاقائی بنیادی ڈھانچے کے منصوبے کے تحت ترکی سے جوڑنے میں مدد ملے گی۔






















Comments