خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے لیے گلیشیائی جھیلوں میں اچانک طغیانی کا الرٹ جاری
- این ڈی ایم اے نے متعلقہ اداروں کو احتیاطی اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کر دی
قومی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے گلگت بلتستان اور خیبرپختونخوا میں گلیشیائی جھیلوں میں اچانک طغیانی (جی ایل او ایف) کے خطرے کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے، کیونکہ شدید گرمی کی موجودہ لہر جولائی 2026 کے پہلے ہفتے تک برقرار رہنے کا امکان ہے۔
توقع ہے کہ درجہ حرارت میں نمایاں اضافے کے باعث برفانی وادیوں میں برف اور گلیشیئر تیزی سے پگھلیں گے۔ اس کے نتیجے میں دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح غیر معمولی حد تک بلند رہنے کا خدشہ ہے، موجودہ گلیشیائی جھیلیں تیزی سے پھیل سکتی ہیں، جبکہ پگھلتے ہوئے پانی کی بڑی مقدار کے باعث نئی جھیلیں بھی وجود میں آ سکتی ہیں۔
موجودہ صورتحال کے پیش نظر این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ وفاقی وزارتوں، صوبائی حکومتوں، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان کے صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں (پی ڈی ایم اے اور جی بی ڈی ایم اے)، ضلعی انتظامیہ اور بلدیاتی اداروں کو سخت احتیاطی اقدامات پر عمل درآمد کی ہدایت کی ہے۔
صوبائی اور ضلعی حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ جی ایل او ایف کے خطرے سے دوچار مقامات کی پیشگی اور مسلسل نگرانی کی جائے، خطرے سے دوچار آبادیوں میں انخلا کی مشقیں کرائی جائیں، اور محفوظ انخلا کے لیے قائم پناہ گاہوں میں تمام ضروری سہولتیں اور سامان ہر وقت دستیاب رکھا جائے۔
تمام شہری اداروں اور ہنگامی امدادی سروسز، جن میں ریسکیو 1122، فائر بریگیڈ اور سول ڈیفنس شامل ہیں، کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے اور انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ عملہ اور ضروری آلات چوبیس گھنٹے دستیاب رکھے جائیں۔
این ڈی ایم اے نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی (این ایچ اے)، فرنٹیئر ورکس آرگنائزیشن (ایف ڈبلیو او) اور محکمہ مواصلات و تعمیرات (سی اینڈ ڈبلیو) کو بھی باہمی رابطہ مضبوط بنانے کی ہدایت کی ہے تاکہ سڑکوں کی بندش یا لینڈ سلائیڈنگ کی صورت میں فوری بحالی کے لیے بھاری مشینری پہلے سے ہی حساس مقامات پر تعینات رکھی جا سکے۔ ٹریفک پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ٹریفک کی مؤثر نگرانی کریں اور گاڑیوں کو خطرے سے دوچار علاقوں سے دور متبادل راستوں پر منتقل کریں۔
مزید برآں، این ڈی ایم اے نے عوامی آگاہی مہم بھی شروع کی ہے، جس کے تحت نشیبی علاقوں کے رہائشیوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ غیر معمولی احتیاط برتیں اور مقامی ندی نالوں میں پانی کے رنگ میں اچانک تبدیلی یا پتھروں کی غیر معمولی رگڑ کی آوازوں پر کڑی نظر رکھیں، کیونکہ یہ ممکنہ طغیانی کی ابتدائی علامات ہو سکتی ہیں۔ مقامی آبادی کو ہدایت کی گئی ہے کہ مویشیوں کو محفوظ اور بلند مقامات پر منتقل کریں اور کمیونٹی کی سطح پر قائم ڈیزاسٹر مینجمنٹ کمیٹیوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہیں۔
شمالی علاقوں کا رخ کرنے والے سیاحوں کو بھی مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ گلیشیئر والے علاقوں میں ٹریکنگ سے گریز کریں، گلیشیئرز کے قریب تصاویر یا ویڈیوز بنانے سے اجتناب کریں اور خطرناک برفانی مقامات کے قریب ہرگز نہ جائیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
این ڈی ایم اے نے کہا ہے کہ اگر خطرے کی شدت میں اضافہ ہوا تو متعلقہ ادارے ممکنہ طور پر خطرناک گلیشیائی جھیلوں سے پانی کو کنٹرولڈ انداز میں خارج (کنٹرولڈ بریچنگ) کرنے کا اقدام بھی کر سکتے ہیں، تاکہ اچانک اور تباہ کن سیلابی ریلے سے بچا جا سکے۔






















Comments