پاکستان تمام تصفیہ طلب مسائل کے حل کے لیے امن،بات چیت اور سفارت کاری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ، وزیراعظم
- پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کررہا ہے، شہباز شریف
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نےملک کے خلاف دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنانے کے آہنی عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان آج دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کررہا ہے، پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے ،دشمن ہمارے امن اور استحکام کو نقصان پہنچانے کے لیے بزدلانہ ہتھکنڈے اور اپنی پراکسیوں کا استعمال کر رہا ہے۔
مسلح افواج غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں، پوری قوم اپنی بہادر مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے، پاکستان تمام تصفیہ طلب مسائل کے حل کے لیے امن، بات چیت اور سفارت کاری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، خطے کی بدلتی صورتحال نے عالمی معیشت اور بین الاقوامی سپلائی چین کے لئے میری ٹائم سکیورٹی کی اہمیت کو پہلے سے زیادہ اجاگر کیا ہے، آج آزادانہ بحری آمدورفت اور جہازرانی کی آزادی پوری دنیا کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے، حکومت پاک بحریہ کو مزید مضبوط موثر اور جدید دفاعی فورس بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے ان خیالات کا اظہار ہفتہ کو یہاں پاکستان نیول اکیڈمی پی این ایس رہبر میں 125 مڈشپ مین اور 33ویں شارٹ سروس کمیشن کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں وزیر دفاع خواجہ محمد آصف،وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ،گورنر سندھ نہال ہاشمی، وزیراعلی ٰسندھ سید مراد علی شاہ ،پاک بحریہ کے سربراہ ایڈ مرل نوید اشرف اور اور دیگر اعلی افسران بھی موجود تھے۔ تقریب میں آمد پر پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل نوید اشرف نے وزیراعظم کا استقبال کیا،اس موقع پر وزیراعظم کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا،
وزیراعظم نے پریڈ کا معائنہ کیا۔ وزیرِ اعظم نے اعلی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے کیڈٹس میں اعزازات تقسیم کئے، مڈ شپ مین عمر مختار کو مجموعی بہترین کارکردگی پر اعزازی شمشیر سے نوازا گیا، آفیسر کیڈٹ حافظ محمد احمد منور کو چیف اف ڈیفنس فورسز گولڈ میڈل سے نوازا گیا، اکیڈمی ڈرک مڈ شپ مین کا اعزاز ہادی عباس خان کے حصے میں آیا، شارٹ سروس کمیشن کورس کی آفیسر کیڈٹ الویرا حمزہ کو کمانڈٹ گولڈ میڈل سے نوازا گیا۔ تقریب میں کیڈٹ آفیسرز سے پیشہ ورانہ حلف لیا گیا جبکہ پاک بحریہ کے ہیلی کاپٹرز اور بحری جہازوں نے سلامی پیش کی۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاسنگ آؤٹ پریڈ میں شرکت پر انہیں خوشی ہوئی ہے ، تمام پاس آؤٹ ہونے والے اور اعزازات حاصل کرنے والے کیڈٹس کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
وزیراعظم نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ پاس آؤٹ ہونے والوں میں برادر ممالک ترکیہ، بحرین، بنگلہ دیش، عراق، سری لنکا اور جبوتی سے تعلق رکھنے والے کیڈٹس بھی شامل ہیں، مجھے امید ہے کہ اس بہترین تربیتی مرکز سے حاصل ہونے والا علم، تربیت اور پیشہ ورانہ مہارت ان کے لیے پورے کیریئر کے دوران انتہائی مفید ثابت ہوگی اور وہ اپنے اپنے ممالک کی بحریہ کی پیشہ ورانہ سرگرمیوں میں موثر طریقے سے حصہ لے سکیں گے، سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہاں تربیت کے دوران ان کی خوشگوار یادیں ،دوستی اور تعلق ہمارے دوست ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگی۔
وزیراعظم نے کہا کہ تقریب میں پاس آؤٹ ہونے والے کیڈٹس کے اہل خانہ اور دوست بھی موجود ہیں، ان کی دعاؤں اور حمایت و تعاون کا آپ کی کامیابیوں میں اہم کردار ہے اور جب آپ پاک بحریہ میں قابل فخر کیریئر کا آغاز کر رہے ہیں تو یہ آپ کے لیے ایک عظیم طاقت رہے گی۔
وزیراعظم نے اکیڈمی میں تربیت کے اعلی معیار کی فراہمی ،ڈسپلن کے قیام اور مثالی لیڈرشپ کو یقینی بنانے پر اکیڈمی کے کمانڈنٹ ،فیکلٹی اور ٹریننگ سٹاف کو خراج تحسین پیش کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ مجھے اعتماد ہے کہ کمیشن حاصل کرنے والے آفیسرز نہ صرف اپنے آپ کو علم اور مہارت سےمستفید ہوں گے بلکہ جرات و بہادری اور مقابلے کے جذبے سے سرشار رکھیں گے جو مستقبل کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے درکار ہوں گے اور اپنی اپنی بحریہ کی شاندار روایات کو برقرار رکھیں گے۔
وزیراعظم نے کہا کہ وہ اس اکیڈمی میں ایسے موقع پر خطاب کررہے ہیں جب عالمی سطح پہ بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، جو ہماری زندگیوں پر ایسے اثرات مرتب کر رہی ہیں جن کا پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج پاکستان کو فخر ہے کہ وہ اللہ کے فضل و کرم سے دنیا میں امن کے علمبردار کا کردار ادا کر رہا ہے، برادر اور دوست ممالک کے تعاون سے پاکستان کی پرخلوص ثالثی کاوشوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوئے ہیں جس پر مجھے بھی ثالث کے طور پر دستخط کرنے کا اعزاز حاصل ہے۔
وزیراعظم نے قیام امن کے لیے دن رات انتھک کاوشوں اور فریقین کو امن اور ہم آہنگی کے راستے پر لانے کے لئے پر چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراج تحسین پیش کیا۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کے پاکستان کے حالیہ دورہ سے نہ صرف پاکستان اور ایران کے برادرانہ تعلقات کی عکاسی ہوتی ہے بلکہ یہ خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی کاوشوں کا بھی اعتراف ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال نے عالمی معیشت اور بین الاقوامی سپلائی چین کے لئے میری ٹائم سکیورٹی کی اہمیت کی حقیقت کو پہلے سے زیادہ اجاگر کیا ہے، آج آزادانہ بحری آمدورفت اور جہازرانی کی آزادی ایک سہولت ہی نہیں پوری دنیا کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ حکومت پاک بحریہ کو مزید مضبوط، موثر اور جدید دفاعی فورس بنانے کے لیے پرعزم ہے جو نہ صرف ہمارے قومی دفاع کو یقینی بنانے کی مؤثر صلاحیت رکھتی ہو بلکہ وسیع بنیادوں پر میری ٹائم ریجن میں بھی بھرپور کردار ادا کر سکے،پاک بحریہ نے معرکہ حق ،آپریشن بنیان مرصوص میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور لوہا منوایا ہے اور اپنے بحری سرحدوں کا تحفظ کرتے ہوئے دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا۔معرکہ حق میں پاک بحریہ کا کردار شاندار رہا۔
انہوں نے کیڈٹس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ پاک بحریہ کے ہیروز کموڈور ایس ایم انور،کمانڈر ظفر محمد خان اور وائس ایڈ مرل احمد تسنیم کی قابل فخر میراث کے وارث ہیں،جن کی جرات و بہادری،قربانی اور پیشہ ورانہ مہارت پاکستان کے لیے ایک اعزاز ہے،آپ بھی حوصلے ،عزم،ڈسپلن اور وقار کی اقدار کے فروغ کے لیے ثابت قدم رہیں مجھے یقین ہے کہ آپ مادر وطن کے دفاع کے لیے ہر چیلنج کا ثابت قدمی، ولولے اور عزم کے ساتھ مقابلہ کریں گے اور جو تربیت اور پیشہ ورانہ تجربہ حاصل کیا ہے وہ عملی میدان میں آپ کے بھرپور کام آئے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج کمیشن حاصل کرنے والے افسران صرف علم اور مہارت ہی نہیں بلکہ اعتماد، حوصلے اور جنگی جذبے سے بھی لیس ہو کر نکل رہے ہیں، جو مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ضروری ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ افسران ایسے دور میں پاک بحریہ کا حصہ بن رہے ہیں جب سمندری شعبہ تیزی سے جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (آرٹیفیشل انٹیلی جنس) اور بغیر پائلٹ نظام کی طرف بڑھ رہا ہے، انہوں نے نئے افسران پر زور دیا کہ وہ عزم، جرات، نظم و ضبط، دیانت داری اور وفاداری جیسی اقدار کو ہمیشہ مقدم رکھیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ آج ان افسران کے کندھوں پر سجنے والا رینک ایک بڑی ذمہ داری کی علامت ہے، پرسکون سمندر کبھی ملاح کی آزمائش نہیں لیتا اور نہ ہی موافق ہوائیں ایک کپتان کی صلاحیت کا معیار ہوتی ہیں، بلکہ طوفانی سمندر اور تیز ہوائیں ہی انسان کے حوصلے اور کردار کا اصل امتحان ہوتی ہیں۔
وزیراعظم نے خطے کے چیلنجنگ سکیورٹی ماحول میں آپریشن محافظ البحر کے ذریعے بندرگاہوں تک توانائی کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو بھی سراہا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کو بین الاقوامی اور بیرونی خطرات کے پیش نظر مختلف سکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے،ہمارے مشرقی ہمسائے کو گزشتہ سال مئی میں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا وہ ہمارے ملک کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کے لیے بزدلانہ ہتھکنڈے اور اپنی پراکسیوں کو استعمال کر رہا ہے جبکہ ہماری بہادر مسلح افواج ہماری مغربی سرحدوں سے غیر ملکی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں، پوری پاکستانی قوم اپنی بہادر مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پورا ملک دشمنوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنانے کے لیے آہنی عزم رکھتا ہے جبکہ پاکستان تمام تصفیہ طلب مسائل کے حل کے لیے امن،بات چیت اور سفارت کاری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
وزیراعظم نے کشمیر،فلسطین اور غزہ کے عوام کی حمایت کے لیے بھی پاکستان کے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔وزیراعظم کا اعزازات حاصل کرنے والے اور دیگر کیڈٹس کے ساتھ گروپ فوٹو ہوا جبکہ وزیراعظم نے مہمانوں کی کتاب میں تاثرات بھی قلمبند کئے۔






















Comments