ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم : آڈیٹر جنرل کا ایف بی آر کی ناقص مانیٹرنگ پر اظہار تشویش
- ٹیکس چوری کی نشاندہی کے باوجود ریکوری محدود، اے جی پی رپورٹ میں انکشاف
آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے ملک کے اہم شعبوں میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی ناقص کارکردگی اور کمزور مانیٹرنگ پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
قومی اسمبلی میں پیش کی گئی اے جی پی کی رپورٹ (2024-25) کے مطابق سیلز ٹیکس رولز 2006 کے تحت تمباکو، مشروبات، چینی، کھاد، سیمنٹ، پیٹرولیم اور اسٹیل کے شعبوں میں مصنوعات کی تیاری، درآمد اور سپلائی چین کی ریئل ٹائم الیکٹرانک مانیٹرنگ لازمی ہے۔ اس مقصد کے لیے ٹیکس چوری روکنے اور انفورسمنٹ یونٹس کے ساتھ ہم آہنگی کے لیے ان لینڈ ریونیو انفورسمنٹ نیٹ ورک (آئی آر ای این) قائم کیا گیا تھا۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جولائی 2023 سے جون 2024 کے دوران آئی آر ای این نے 2,358 ملین روپے کی ٹیکس چوری رپورٹ کی لیکن صرف 145 ملین روپے ہی برآمد کیے جا سکے۔ اس عرصے میں ملک بھر میں 671 چھاپے مارے گئے، مگر صرف 6 کاروباری مقامات سیل ہوئے اور محض 4 ایف آئی آرز درج کی گئیں، جس سے ریونیو میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا۔ مزید برآں رولز کے مطابق اس سسٹم کا سالانہ آڈٹ کرانے کا کوئی ثبوت بھی نہیں ملا۔
نومبر 2024 میں جب یہ معاملہ ایف بی آر کے سامنے اٹھایا گیا تو ان کا مؤقف تھا کہ زیادہ تر رقم تمباکو کے شعبے سے متعلق ہے جہاں ضبط شدہ مال کی ملکیت کا کسی نے دعویٰ نہیں کیا۔ تاہم آڈٹ حکام نے اس جواب کو مسترد کرتے ہوئے چینی، سیمنٹ، کھاد اور تمباکو کے چاروں شعبوں پر جامع رپورٹ طلب کی ہے۔ ڈی اے سی نے پروجیکٹ ڈائریکٹر کو 15 دنوں کے اندر تفصیلی جواب داخل کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اے جی پی نے سفارش کی ہے کہ سیمنٹ اور مشروبات کے شعبوں میں بھی ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کو فوری اور مؤثر طریقے سے نافذ کیا جائے اور اس کی باقاعدہ نگرانی کا نظام وضع کیا جائے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026





















Comments