یورپ شدید ہیٹ ویو کی لپیٹ میں، ہائی الرٹ جاری
- یہ ہیٹ ویو یورپ کی تاریخ کی شدید ترین لہر ہے، سائنسدان
یورپ بھر میں محکمہ صحت کے حکام جمعہ کو ہائی الرٹ پر تھے جس کی وجہ پورے براعظم میں جان لیوا ہیٹ ویو شدت اختیار کرچکا ہے۔
برطانیہ اور فرانس سے لے کر جرمنی، اٹلی، آسٹریا اور سربیا تک یورپ ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر کے زیرِ اثر جھلس رہا ہے ۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ ہیٹ ویو یورپ کی تاریخ کی شدید ترین لہر ہے جہاں موسمیاتی تبدیلی دنیا کے دیگر حصوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے اثر انداز ہورہی ہے۔
فرانس اور برطانیہ میں درجہ حرارت غالباً اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے جہاں جون کے ریکارڈ بھی ٹوٹ گئے ہیں۔ تاہم اٹلی میں ہفتے کے آخر تک گرمی میں مزید شدت آنے کی توقع ہے جس کے باعث موسمِ گرما میں پہلی مرتبہ درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ (104 فارن ہائیٹ) تک پہنچ سکتا ہے۔
فرانس میں ہیٹ ویو سے کم از کم 55 ہلاکتوں کی اطلاع ملی ہے جہاں بدھ کو پیرس میں درجہ حرارت 40.9 ڈگری تک پہنچ گیا تھا، اگرچہ درجہ حرارت میں کمی متوقع تھی لیکن حکام مزید جانی نقصان کے لیے تیار ہیں۔
پورے براعظم میں ثقافتی مقامات کو بند کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے اور زراعت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ پیرس پولیس نے سولیڈیز میوزک فیسٹیول سمیت بڑے ایونٹس کے منتظمین سے انہیں منسوخ کرنے کی درخواست کی ہے۔ پرائیڈ فیسٹیول کے منتظمین نے کہا ہے کہ وہ پروگرام کا نیا شیڈول طے کریں گے۔
انگلینڈ اور نیدرلینڈزمیں ہنگامی صورتحال
بی زیڈ اخبار کے مطابق جمعرات کی شام مشرقی جرمنی میں شدید گرمی کے باعث A2 موٹروے کی سطح کئی لینوں پر مڑ گئی اور پھٹ گئی، جس سے تقریباً 30 گاڑیاں متاثر ہوئیں، دو افراد معمولی زخمی ہوئے اور ہائی وے کو بند کرنا پڑا۔
برطانیہ کے محکمہ موسمیات نے جنوبی انگلینڈ کے ایک بڑے حصے کے لیے گرمی کے ریڈ الرٹ کو جمعہ تک بڑھا دیا ہے، یہ پہلا موقع ہے کہ مسلسل تین دنوں کے لیے ایسی وارننگ جاری کی گئی ہے۔
نیدرلینڈز کے تقریباً پورے حصے کے لیے شدید گرمی کا نایاب کوڈ ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا اور بہت سے اسکول بند کر دیے گئے کیونکہ 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک درجہ حرارت متوقع تھا۔
سربیا میں حکام نے ایمبر الرٹ (درمیانے درجے کا خطرہ) جاری کیا جہاں درجہ حرارت تقریباً 36 ڈگری سینٹی گریڈ رہنے کی توقع تھی۔ بلغراد میں حکام نے لوگوں کو خبردار کیا کہ وہ دن کے گرم ترین اوقات میں پانی کا زیادہ استعمال کریں اور گھروں کے اندر رہیں۔






















Comments