اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا دباؤ، 100 انڈیکس تقریباً 800 پوائنٹس گر گیا
- کاروبار کے اختتام پر 100 انڈیکس 177,692.92 پوائنٹس پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں منگل کو اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہا، 100 انڈیکس بیشتر تجارتی سیشن کے دوران فروخت کے دباؤ کا شکار رہا اور تقریباً 800 پوائنٹس کھو بیٹھا۔
تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز مثبت زون میں ہوا، ابتدائی ٹریڈنگ کے دوران انڈیکس مختصر وقت کے لیے بڑھ کر دن کی بلند ترین سطح 179,405.55 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔
بعدازاں پرافٹ ٹیکنگ کا رجحان سامنے آگیا جس کے نتیجے میں مارکیٹ بتدریج تنزلی کا شکار ہوگئی۔
دوپہر کے سیشن میں فروخت کا دباؤ مزید شدت اختیار کرگیا جس کے باعث انڈیکس 178,000 پوائنٹس کی سطح سے نیچے آگیا اور دن کی کم ترین سطح 177,674.37 پوائنٹس تک گر گیا، اگرچہ کم قیمتوں پر خریداری کے رجحان نے مارکیٹ کو معمولی سہارا دیا تاہم کاروبار کے اختتام تک بینچ مارک انڈیکس نمایاں مندی کا شکار رہا۔
کاروبار کے اختتام پرکے ایس ای 100 انڈیکس 778.94 پوائنٹس یا 0.44 فیصد کی کمی سے 177,692.92 پوائنٹس پر بند ہوا۔
یاد رہے کہ پیر کو اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں مارکیٹ میں نمایاں تیزی کے بعد سرمایہ کاروں کی جانب سے منافع سمیٹنے کا رجحان دیکھا گیا جس کے باعث مارکیٹ منفی زون میں بند ہوئی۔ بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس 450.89 پوائنٹس یا 0.25 فیصد کی کمی سے 178,471.87 پوائنٹس پر بند ہوا۔
عالمی سطح پر ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں منگل کو زیادہ تر کمی دیکھی گئی جبکہ امریکہ کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی کے بعد تیل کی قیمتوں نے ابتدائی کاروبار میں دوبارہ مضبوطی حاصل کی۔ دوسری جانب سرمایہ کار اس بڑھتی توقع سے بھی نبرد آزما رہے کہ امریکی مرکزی بینک، فیڈرل ریزرو، رواں سال کے اواخر میں مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مزید سخت اقدامات کرسکتا ہے۔
جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک خطے کے حصص کا وسیع ترین ایم ایس سی آئی انڈیکس 0.5 فیصد گرگیا جبکہ ایس اینڈ پی 500 ای-منی فیوچرز میں 0.2 فیصد کمی دیکھی گئی۔
جاپان کا نکی 225 انڈیکس بھی 0.6 فیصد نیچے رہا تاہم اقتصادی اعدادوشمار سے ظاہر ہوا کہ جون میں جاپان کے مینوفیکچرنگ شعبے نے مضبوط نمو برقرار رکھی جبکہ نئے آرڈرز میں چار سال سے زائد عرصے کی تیز ترین رفتار سے اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے انڈیکس نے اپنی کچھ ابتدائی خسارے پورے کر لیے۔
جنوبی کوریا کے حصص میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا اور وہ آخری اطلاعات تک 2 فیصد کمی کے ساتھ ٹریڈ ہو رہے تھے جبکہ تائیوان کی اسٹاک مارکیٹ 0.9 فیصد اضافے کے ساتھ کھلی اور نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
دوسری جانب وال اسٹریٹ میں رات گئے کاروبار کے دوران حصص میں کمی دیکھی گئی جہاں ایس اینڈ پی 500 انڈیکس 0.4 فیصد نیچے بند ہوا جبکہ نیسڈیک کمپوزٹ 1.3 فیصد گر گیا۔ اس کمی کی بڑی وجہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے حصص میں گراوٹ تھی جن میں الفابیٹ اور اسپیس ایکس شامل ہیں۔
تاجروں کو اس توقع کا سامنا ہے کہ نئے چیئرمین کیون وارش کی قیادت میں امریکی مرکزی بینک، فیڈرل ریزرو، شرح سود میں اضافے کے عمل کو تیز کرسکتا ہے اور مزید سخت مانیٹری پالیسی اختیار کر سکتا ہے۔
سی ایم ای گروپ کے فیڈ واچ ٹول کے مطابق فیڈ فنڈز فیوچرز اس بات کا 54 فیصد امکان ظاہر کررہے ہیں کہ سال کے اختتام سے قبل شرح سود میں کم از کم دو مرتبہ 25 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا جائے گا جبکہ ایک ہفتہ قبل یہ امکان صرف 15.2 فیصد تھا۔
دریں اثناء انٹربینک مارکیٹ میں منگل کے روز امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی بہتری ریکارڈ کی گئی۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی ایک پیسے کے اضافے کے ساتھ 278.21 روپے فی ڈالر پر بند ہوئی۔
آل شیئر انڈیکس میں حصص کے کاروباری حجم میں کمی دیکھی گئی، جو گزشتہ سیشن کے 807.48 ملین شیئرز کے مقابلے میں گھٹ کر 765.14 ملین شیئرز رہ گیا۔
اسی طرح حصص کی مالیت بھی کم ہو کر 35.44 ارب روپے رہ گئی، جو گزشتہ سیشن میں 36.17 ارب روپے تھی۔
کے الیکٹرک لمیٹڈ 8 کروڑ 34 لاکھ 30 ہزار شیئرز کے ساتھ سب سے زیادہ کاروبار ہونے والا اسٹاک رہا، جبکہ ورلڈ کال ٹیلی کام 7 کروڑ 12 لاکھ 40 ہزار شیئرز کے ساتھ دوسرے اور سوئی سدرن گیس 3 کروڑ 23 لاکھ 50 ہزار شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔
منگل کو مجموعی طور پر 493 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جن میں سے 146 کمپنیوں کے حصص کی قیمت میں اضافہ، 308 میں کمی، جبکہ 39 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔
























Comments