جے ڈی وینس کا دورہِ سوئٹزرلینڈ منسوخ، ایران کے ساتھ بات چیت تعطل کا شکار
- امریکی نائب صدر کا دورہ 14 نکاتی امن معاہدے پر عمل درآمد کے لیے طے کیا گیا تھا
وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ایرانی مذاکرات کاروں سے ملاقات کے لیے اپنا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا۔ اس ملاقات کا مقصد تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے 14 نکاتی معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے پیچیدہ مذاکرات کا آغاز کرنا تھا۔
امریکی حکام کا کہنا تھا کہ جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کی باضابطہ دستخطی تقریب منعقد کی جائے گی، تاہم ایران کی وزارتِ خارجہ نے اس کی ضرورت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بدھ کو دونوں ممالک کے صدور پہلے ہی معاہدے پر دستخط کرچکے ہیں لہٰذا مزید کسی رسمی تقریب کی ضرورت نہیں رہی۔
ایران نے کہا تھا کہ وہ اس معاہدے کے تحت دونوں حریف ممالک کے درمیان قائم نازک جنگ بندی میں کم از کم 60 دن کی توسیع کے بعد تکنیکی مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے جمعرات کو جے ڈی وینس کے اعلان سے قبل ہی رپورٹ کیا تھا کہ ایرانی مذاکرات کاروں کا مؤقف ہے کہ اگلے مرحلے کی امن بات چیت شروع ہونے سے پہلے امریکہ کو عبوری معاہدے پر عمل درآمد کے عملی اور قابلِ اعتماد اشارے دینا ہوں گے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران نے اپنے کسی وفد کے جنیوا روانہ ہونے کی تصدیق نہیں کی تھی۔
ترجمان وائٹ ہاؤس نے جمعرات کی شب جاری بیان میں کہا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ان کے ہمراہ وفد مذاکراتی منصوبے کو حتمی شکل ملتے ہی سوئٹزرلینڈ روانہ ہونے کے لیے تیار تھے۔
تاہم ان مذاکرات کی لاجسٹکس کبھی بھی نہ تو سادہ رہی ہیں اور نہ ہی قابلِ پیش گوئی۔
ایرانی حکومت کی جانب سے اس پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
مجوزہ تقریب اور فوٹو سیشن پر جاری سفارتی بیان بازی اس غیر یقینی صورتحال میں مزید اضافہ کررہی ہے کہ آیا اس علاقائی جنگ کا کوئی دیرپا حل نکل سکے گا یا نہیں جس میں اب تک کم از کم 7,000 افراد مارے جاچکے ہیں، توانائی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے اور عالمی منڈیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔


























Comments