BR100 Decreased By (-0.71%)
BR30 Decreased By (-0.89%)
KSE100 Decreased By (-0.7%)
KSE30 Decreased By (-0.66%)
BAFL 59.38 Decreased By ▼ -0.46 (-0.77%)
BIPL 27.11 Decreased By ▼ -0.07 (-0.26%)
BOP 34.66 Decreased By ▼ -0.62 (-1.76%)
CNERGY 12.83 Decreased By ▼ -0.30 (-2.28%)
DFML 18.44 Increased By ▲ 0.36 (1.99%)
DGKC 213.61 Decreased By ▼ -3.40 (-1.57%)
FABL 99.90 Decreased By ▼ -0.05 (-0.05%)
FCCL 57.18 Decreased By ▼ -0.79 (-1.36%)
FFL 16.26 Decreased By ▼ -0.16 (-0.97%)
GGL 24.11 Decreased By ▼ -0.25 (-1.03%)
HBL 327.45 Increased By ▲ 1.24 (0.38%)
HUBC 210.41 Decreased By ▼ -3.01 (-1.41%)
HUMNL 10.50 Decreased By ▼ -0.31 (-2.87%)
KEL 7.54 Increased By ▲ 0.06 (0.8%)
LOTCHEM 27.88 Increased By ▲ 0.13 (0.47%)
MLCF 100.02 Decreased By ▼ -2.96 (-2.87%)
OGDC 320.90 Decreased By ▼ -2.88 (-0.89%)
PAEL 43.40 Decreased By ▼ -0.50 (-1.14%)
PIBTL 16.58 Decreased By ▼ -0.10 (-0.6%)
PIOC 272.26 Decreased By ▼ -3.93 (-1.42%)
PPL 229.65 Increased By ▲ 0.18 (0.08%)
PRL 70.24 Increased By ▲ 0.13 (0.19%)
SNGP 103.13 Decreased By ▼ -0.53 (-0.51%)
SSGC 27.00 Decreased By ▼ -0.11 (-0.41%)
TELE 8.69 Decreased By ▼ -0.03 (-0.34%)
TPLP 15.14 Decreased By ▼ -0.54 (-3.44%)
TRG 60.00 Decreased By ▼ -1.13 (-1.85%)
UNITY 12.19 Increased By ▲ 0.15 (1.25%)
WTL 1.21 Decreased By ▼ -0.02 (-1.63%)
دنیا

جے ڈی وینس کا دورہِ سوئٹزرلینڈ منسوخ، ایران کے ساتھ بات چیت تعطل کا شکار

  • امریکی نائب صدر کا دورہ 14 نکاتی امن معاہدے پر عمل درآمد کے لیے طے کیا گیا تھا
شائع اپ ڈیٹ

وائٹ ہاؤس کے ترجمان کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ایرانی مذاکرات کاروں سے ملاقات کے لیے اپنا طے شدہ دورہ منسوخ کر دیا۔ اس ملاقات کا مقصد تہران اور واشنگٹن کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے طے پانے والے 14 نکاتی معاہدے پر عمل درآمد کے حوالے سے پیچیدہ مذاکرات کا آغاز کرنا تھا۔

امریکی حکام کا کہنا تھا کہ جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان معاہدے کی باضابطہ دستخطی تقریب منعقد کی جائے گی، تاہم ایران کی وزارتِ خارجہ نے اس کی ضرورت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بدھ کو دونوں ممالک کے صدور پہلے ہی معاہدے پر دستخط کرچکے ہیں لہٰذا مزید کسی رسمی تقریب کی ضرورت نہیں رہی۔

ایران نے کہا تھا کہ وہ اس معاہدے کے تحت دونوں حریف ممالک کے درمیان قائم نازک جنگ بندی میں کم از کم 60 دن کی توسیع کے بعد تکنیکی مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم نیم سرکاری خبر رساں ادارے تسنیم نے جمعرات کو جے ڈی وینس کے اعلان سے قبل ہی رپورٹ کیا تھا کہ ایرانی مذاکرات کاروں کا مؤقف ہے کہ اگلے مرحلے کی امن بات چیت شروع ہونے سے پہلے امریکہ کو عبوری معاہدے پر عمل درآمد کے عملی اور قابلِ اعتماد اشارے دینا ہوں گے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ایران نے اپنے کسی وفد کے جنیوا روانہ ہونے کی تصدیق نہیں کی تھی۔

ترجمان وائٹ ہاؤس نے جمعرات کی شب جاری بیان میں کہا کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ان کے ہمراہ وفد مذاکراتی منصوبے کو حتمی شکل ملتے ہی سوئٹزرلینڈ روانہ ہونے کے لیے تیار تھے۔

تاہم ان مذاکرات کی لاجسٹکس کبھی بھی نہ تو سادہ رہی ہیں اور نہ ہی قابلِ پیش گوئی۔

ایرانی حکومت کی جانب سے اس پر فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔

مجوزہ تقریب اور فوٹو سیشن پر جاری سفارتی بیان بازی اس غیر یقینی صورتحال میں مزید اضافہ کررہی ہے کہ آیا اس علاقائی جنگ کا کوئی دیرپا حل نکل سکے گا یا نہیں جس میں اب تک کم از کم 7,000 افراد مارے جاچکے ہیں، توانائی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے اور عالمی منڈیاں بری طرح متاثر ہوئی ہیں۔

Comments

200 حروف