BR100 Decreased By (-0.67%)
BR30 Decreased By (-0.66%)
KSE100 Decreased By (-0.49%)
KSE30 Decreased By (-0.57%)
BAFL 56.76 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 26.99 Decreased By ▼ -0.09 (-0.33%)
BOP 33.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.69%)
CNERGY 10.60 Decreased By ▼ -0.16 (-1.49%)
DFML 17.95 Decreased By ▼ -0.06 (-0.33%)
DGKC 205.34 Decreased By ▼ -2.55 (-1.23%)
FABL 99.98 Decreased By ▼ -0.31 (-0.31%)
FCCL 53.81 Decreased By ▼ -0.87 (-1.59%)
FFL 16.07 No Change ▼ 0.00 (0%)
GGL 24.10 Decreased By ▼ -0.38 (-1.55%)
HBL 300.89 Decreased By ▼ -2.36 (-0.78%)
HUBC 217.10 Decreased By ▼ -2.23 (-1.02%)
HUMNL 10.48 Decreased By ▼ -0.01 (-0.1%)
KEL 7.18 Decreased By ▼ -0.11 (-1.51%)
LOTCHEM 27.22 Decreased By ▼ -0.10 (-0.37%)
MLCF 94.39 Decreased By ▼ -1.28 (-1.34%)
OGDC 314.25 Decreased By ▼ -2.80 (-0.88%)
PAEL 41.90 Decreased By ▼ -0.44 (-1.04%)
PIBTL 17.19 Increased By ▲ 0.42 (2.5%)
PIOC 272.00 Decreased By ▼ -4.22 (-1.53%)
PPL 215.74 Decreased By ▼ -2.41 (-1.1%)
PRL 56.68 Decreased By ▼ -0.69 (-1.2%)
SNGP 99.89 Decreased By ▼ -1.19 (-1.18%)
SSGC 25.18 Decreased By ▼ -0.39 (-1.53%)
TELE 8.30 Decreased By ▼ -0.02 (-0.24%)
TPLP 12.68 Decreased By ▼ -0.11 (-0.86%)
TRG 62.27 Increased By ▲ 1.27 (2.08%)
UNITY 10.01 Decreased By ▼ -0.05 (-0.5%)
WTL 1.19 Decreased By ▼ -0.01 (-0.83%)

تجزیاتی اداروں کے جمعرات کو جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق قطر انرجی کے زیرِ انتظام ایل این جی بردار ایک ٹینکر راتوں رات آبنائے ہرمز سے نکل گیا اور اس کے 31 جولائی کو پاکستان کی پورٹ قاسم پہنچنے کی توقع ہے۔ جہازوں کی نقل و حرکت کے ریکارڈ کے مطابق 11 جولائی کے بعد یہ پہلا ایل این جی بردار جہاز ہے جو آبنائے ہرمز سے روانہ ہوتا ہوا دیکھا گیا ہے۔

کلپلر اور ایل ایس ای جی کے مطابق الاریش نامی ایل این جی بردار ٹینکر جس نے تقریباً 4 سے 6 جولائی کے دوران قطر کے راس لفان ٹرمینل سے کارگو لوڈ کیا تھا 29 جولائی کی شب آبنائے ہرمز سے نکل گیا۔

ایل ایس ای جی کے اعدادوشمار کے مطابق یہ ٹینکر اس وقت پاکستان کی پورٹ قاسم کی جانب رواں دواں ہے جہاں اس کی متوقع آمد 31 جولائی کو ہے۔ اس کی روانگی اس لحاظ سے اہم ہے کہ جولائی کے آغاز میں الرقیات ٹینکر پر حملے کے بعد یہ پہلا قطر انرجی کے زیرِ انتظام ایل این جی بردار جہاز ہے جو آبنائے ہرمز سے کامیابی کے ساتھ باہر نکلا ہے۔

کلپلر کے مطابق اس سے قبل آبنائے ہرمز سے نکلنے والا آخری ایل این جی بردار ٹینکر الحمرا تھا جو 11 جولائی کو متحدہ عرب امارات کے داس آئی لینڈ سے ایل این جی کا کارگو لے کر روانہ ہوا تھا۔

دوسری جانب مروح نامی ایل این جی بردار ٹینکر جو 24 جولائی کو بیلسٹ میں آبنائے ہرمز سے باہر دیکھا گیا تھا، جمعرات کو دوبارہ آبنائے ہرمز کے اندر نظر آیا۔ کلپلر اور ایل ایس ای جی کے مطابق اے ڈی نوک گیس کے زیرِ انتظام یہ جہاز اب بھی بیلسٹ حالت میں ہے۔

قطر انرجی اور اے ڈی نوک نے دفتری اوقات ختم ہونے کے باعث تبصرے کی درخواست پر فوری طور پر کوئی ردِعمل نہیں دیا۔

کلپلر کے مطابق بدھ کو 12 تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے جن میں 6 جہاز آبنائے میں داخل ہوئے جب کہ 6 وہاں سے روانہ ہوئے۔ یہ تعداد گزشتہ دو روز کے مقابلے میں زیادہ رہی۔

کلپلر کے مطابق بدھ کو باب المندب آبنائے سے 19 تجارتی جہاز گزرے جو پیر اور منگل کے مقابلے میں کم تعداد ہے۔ تاہم ایل ایس ای جی نے اس روز گزرنے والے جہازوں کی تعداد 26 بتائی۔ کلپلر کے مطابق گزرنے والے 19 جہازوں میں سے 8 آبنائے میں داخل ہوئے جبکہ 11 وہاں سے باہر نکلے۔ باہر نکلنے والے جہازوں میں 4 خام تیل بردار ٹینکر بھی شامل تھے۔

اعدادوشمار میں ان جہازوں کو شامل نہیں کیا گیا جنہوں نے ممکنہ طور پر اپنے ٹرانسپونڈرز بند کر رکھے تھے اور اسی حالت میں سفر جاری رکھا۔ کلپلر اور اے ایکس ایس میرین کے مطابق یمن کے حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد گزشتہ ہفتے بحیرۂ احمر کی ینبع بندرگاہ سے خام تیل کی نمایاں لوڈنگ میں کم از کم 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم ورٹیکسا کا اندازہ ہے کہ نام نہاد ڈارک ٹینکرز (جو اپنی شناختی نشریات بند رکھ کر سفر کرتے ہیں) کے ذریعے لوڈنگ میں اضافے کے باعث مجموعی خام تیل کی برآمدات بڑی حد تک مستحکم رہیں۔

ورٹیکسا کے تجزیہ کار جارج مورس نے کہا کہ ہم نے بحیرۂ احمر میں خام تیل اور کنڈینسیٹ لوڈ کرنے کے بعد شمال کی جانب جانے والے ٹینکروں کی تعداد میں واضح اضافہ دیکھا ہے۔ یہ تبدیلی باب المندب کے اطراف سکیورٹی خطرات میں دوبارہ اضافے کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جون کے دوران ینبع سے لوڈ ہونے والے کارگو ایشیا کی سمندری راستے سے آنے والی خام تیل اور کنڈینسیٹ کی درآمدات کا تقریباً 15 فیصد تھے لہٰذا اگر یہ خلل طویل عرصے تک برقرار رہا تو اس کے ایشیائی ریفائنریوں پر نمایاں اثرات مرتب ہوں گے۔

Comments

200 حروف