مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی برقرار، تیل بردار جہازوں کی آمدورفت سے تیل سستا
- برینٹ خام تیل کے نرخ 1.29 ڈالر یا 1.42 فیصد کی کمی سے 89.45 ڈالر فی بیرل پر آگئے
خام تیل کی قیمتوں میں ہونے والے کچھ اضافے کا زورشور ختم ہوگیا کیونکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے اور امریکہ ایران جنگ کے اہم محاذوں سے آگے پھیل جانے کے باوجود تیل بردار جہازوں کی اس خطے سے آمدورفت جاری رہی۔
برینٹ خام تیل کے نرخ 1.29 ڈالر یا 1.42 فیصد کی کمی سے 89.45 ڈالر فی بیرل پر آگئے۔
امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 56 سینٹ یا 0.66 فیصد کی کمی سے 83.90 ڈالر فی بیرل پر آگیا۔
گزشتہ سیشن میں برینٹ خام تیل 7.91 فیصد جب کہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) 6.56 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوا جو ایران جنگ کے دوران قیمتوں میں آنے والے تیز ترین اچھال میں سے ایک تھا۔ اس اضافے نے منگل کو جنگ کے پانچ ماہ پر محیط تنازع میں عارضی جنگ بندی کے بعد آنے والی تقریباً 5 فیصد گراوٹ کا بھی ازالہ کردیا۔
ایران جنگ کے دوران تیل کی قیمتوں میں ہونے والے نمایاں ترین ادوار میں سے ایک میں پچھلے سیشن میں برینٹ 7.91 فیصد اور ڈبلیو ٹی آئی 6.56 فیصد اضافے کے ساتھ بند ہوئے۔ پانچ ماہ پرانی اس جنگ میں کشیدگی رکنے کی وجہ سے منگل کو آنے والی 5 فیصد گراوٹ ان قیمتوں سے پلٹ گئی۔
ابتدائی شپنگ ڈیٹا کے مطابق منگل کو 39 تجارتی مال بردار جہاز باب المندب آبنائے عبور کرتے ہوئے بحیرۂ احمر میں داخل ہوئے جو 19 جولائی کے بعد ایک دن میں سب سے زیادہ تعداد ہے جبکہ صرف چند جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے۔
آئی جی مارکیٹ کے تجزیہ کار ٹونی سائیکامور نے ایک نوٹ میں کہا کہ اگرچہ مجموعی ترسیلی حجم میں کمی آئی ہے، تاہم تیل اب بھی مختلف متبادل راستوں کے ذریعے خطے سے باہر جارہا ہے اور مزید متبادل ذرائع بھی تلاش کیے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال جتنی طویل برقرار رہے گی، اتنا ہی یہ متبادل راستے اور طریقے آبنائے ہرمز پر ایران کے اثرورسوخ کو کمزور کرتے جائیں گے۔
آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل بردار گزرگاہ سمجھی جاتی ہے جہاں سے ماضی میں عالمی سطح پر تیل اور گیس کی مجموعی ترسیل کا تقریباً پانچواں حصہ گزرتا تھا۔
فروری میں امریکہ۔ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے کے لیے سفارتی پیش رفت کی کوششوں کے باوجود آبنائے ہرمز بڑی حد تک بند رہی ہے۔
ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے بتایا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے مشترکہ علاقائی انتظام سے متعلق عمان کی تجویز مسترد کردی ہے۔
ادھر امریکہ اور سعودی عرب نے بدھ کو عراق میں ایران کی حمایت یافتہ نیم فوجی گروہوں پر فضائی حملے کیے۔ یہ پہلا موقع تھا کہ سعودی عرب نے کھلے عام امریکی فضائی کارروائیوں میں شرکت کی۔ یہ حملے عراق سے سعودی تیل تنصیبات پر کیے گئے ڈرون حملوں کے جواب میں کیے گئے۔
اس کارروائی کے ساتھ ہی مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فضائی حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہوگیا کیونکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے آخر میں اسلحہ کے ذخائر میں کمی کے باعث بمباری کی مہم عارضی طور پر روک دی تھی۔
ایران نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اس نے اردن میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز سے مبینہ طور پر غیر مجاز راستے سے گزرنے والے تین آئل ٹینکروں پر بھی حملہ کیا۔
ذرائع کے مطابق سعودی عرب بحیرۂ احمر میں حوثی حملوں سے جہاز رانی کے تحفظ کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد قائم کرنے کی کوشش کررہا ہے۔






















Comments