ٹیلی نار پاکستان کے حصول کے بعد پی ٹی سی ایل کی نظریں ڈیجیٹل والٹ پر
- مجوزہ لین دین ڈیو ڈیلیجنس، کامیاب مذاکرات، متعلقہ ریگولیٹری منظوریوں اور حتمی معاہدوں پر دستخط سے مشروط ہے، اعلامیہ
مارکیٹ میں یہ قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ گزشتہ سال ٹیلی نار پاکستان کا حصول مکمل کرنے کے بعد پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) اب ایک معروف ڈیجیٹل والٹ کے حصول کی منصوبہ بندی کررہی ہے جس کے نتیجے میں ملک کا صفِ اول کا ڈیجیٹل مالیاتی خدمات فراہم کرنے والا پلیٹ فارم بھی پی ٹی سی ایل گروپ کا حصہ بن سکتا ہے۔
یہ قیاس آرائیاں اس وقت مزید شدت اختیار کرگئیں جب پی ٹی سی ایل نے جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو آگاہ کیا کہ اس کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے ایک نامعلوم ٹارگٹ کمپنی میں اکثریتی حصص کے حصول کیلئے بائنڈنگ آفر جمع کرانے کی منظوری دی۔
کمپنی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا کہ مجوزہ لین دین (ٹرانزیکشن) تاحال ڈیو ڈیلیجنس، کامیاب مذاکرات، متعلقہ ریگولیٹری منظوریوں اور حتمی معاہدوں پر دستخط سے مشروط ہے۔
صنعتی حلقوں کا خیال ہے کہ ٹارگٹ کمپنی ایک ڈیجیٹل والٹ ہوسکتی ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو ٹیلی نار پاکستان کے حصول کے بعد یہ پاکستان کے ٹیلی کام اور فن ٹیک شعبوں میں انضمام کا ایک اور بڑا مرحلہ ثابت ہوگا۔
اگر یہ ڈیل مکمل ہوجاتی ہے تو اس کے نتیجے میں ایک ڈیجیٹل والٹ دوبارہ پی ٹی سی ایل گروپ کا حصہ بن جائے گا۔
تاہم پی ٹی سی ایل نے ٹارگٹ کمپنی کی شناخت ظاہر نہیں کی اور کہا کہ تجارتی شرائط ابھی طے ہونا باقی ہیں اور کوئی حتمی معاہدہ عمل میں نہیں لایا گیا۔
کمپنی نے اسٹاک ایکسچینج کو کسی بھی اہم پیش رفت سے باخبر رکھنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
جب معروف ڈیجیٹل والیٹ سے اس کے باضابطہ ردعمل کیلئے رابطہ کیا گیا تو کمپنی نے جواب دیا
اگرچہ اس معاملے پر عوامی سطح پر بحث ہوئی ہے لیکن ہم مارکیٹ کی قیاس آرائیوں پر تبصرہ نہیں کرتے۔ ہماری توجہ بدستور اپنے صارفین کو خدمات فراہم کرنے پر مرکوز ہے۔
کمپنی اپنے صارفین کو یقین دلاتی ہے کہ ان کے فنڈز محفوظ اور ہر وقت قابلِ رسائی ہیں۔




















Comments