BR100 Decreased By (-0.02%)
BR30 Decreased By (-0.26%)
KSE100 Decreased By (-0.01%)
KSE30 Decreased By (-0.02%)
BAFL 57.00 Increased By ▲ 0.13 (0.23%)
BIPL 24.88 Decreased By ▼ -0.08 (-0.32%)
BOP 30.30 Decreased By ▼ -0.05 (-0.16%)
CNERGY 13.10 Decreased By ▼ -0.02 (-0.15%)
DFML 16.66 Increased By ▲ 0.76 (4.78%)
DGKC 192.20 Decreased By ▼ -0.25 (-0.13%)
FABL 94.39 Increased By ▲ 0.25 (0.27%)
FCCL 52.78 Decreased By ▼ -0.01 (-0.02%)
FFL 14.71 Decreased By ▼ -0.01 (-0.07%)
GGL 19.36 Decreased By ▼ -0.20 (-1.02%)
HBL 306.89 Increased By ▲ 0.79 (0.26%)
HUBC 201.25 Decreased By ▼ -0.17 (-0.08%)
HUMNL 10.14 Decreased By ▼ -0.02 (-0.2%)
KEL 6.11 Increased By ▲ 0.02 (0.33%)
LOTCHEM 26.52 Increased By ▲ 0.06 (0.23%)
MLCF 93.00 Decreased By ▼ -0.16 (-0.17%)
OGDC 315.30 Decreased By ▼ -1.43 (-0.45%)
PAEL 35.60 Decreased By ▼ -0.03 (-0.08%)
PIBTL 14.80 Increased By ▲ 0.12 (0.82%)
PIOC 243.00 Decreased By ▼ -0.21 (-0.09%)
PPL 224.75 Decreased By ▼ -2.16 (-0.95%)
PRL 93.10 Increased By ▲ 0.08 (0.09%)
SNGP 91.99 Increased By ▲ 0.15 (0.16%)
SSGC 23.78 Decreased By ▼ -0.03 (-0.13%)
TELE 7.88 Increased By ▲ 0.08 (1.03%)
TPLP 12.81 Decreased By ▼ -0.16 (-1.23%)
TRG 56.55 Decreased By ▼ -0.01 (-0.02%)
UNITY 8.09 Increased By ▲ 0.02 (0.25%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
کاروبار اور معیشت

پاکستان میں سٹی بینک کے بینکاری آپریشنز کا بیلنس شیٹ ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا

  • سٹی بینک کے ہیڈ آف سروسز شاہ میر خالق نے کہا کہ ایک ارب ڈالر کی بیلنس شیٹ میں اثاثے اور واجبات، دونوں شامل ہیں
شائع اپ ڈیٹ

معروف عالمی بینک سٹی نے کہا ہے کہ اس نے حکومتِ پاکستان کو مالی معاونت کی فراہمی، تجارتی مالیات، ورکنگ کیپیٹل اور ٹرم فنانسنگ کی سہولتیں فراہم کرنے کا سلسلہ جاری رکھا، جس کے نتیجے میں 30 جون 2026 تک پاکستان میں اس کی بیلنس شیٹ کا حجم ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔

سٹی کے ہیڈ آف سروسز شاہ میر خالق نے اپنے حالیہ دورۂ پاکستان کے دوران بزنس ریکارڈر سے گفتگو میں کہا، ”ہم روزانہ کی بنیاد پر اپنی بیلنس شیٹ کے ذریعے مالی معاونت فراہم کر رہے ہیں۔ اگر آپ ہماری بیلنس شیٹ دیکھیں تو گزشتہ سال کے اختتام تک پاکستان میں اس کا حجم تقریباً ایک ارب ڈالر سے بڑھ چکا تھا۔“

انہوں نے واضح کیا، ”اس ایک ارب ڈالر کی بیلنس شیٹ میں اثاثے اور واجبات، دونوں شامل ہیں۔ اثاثوں کے حصے میں ہمارے مختلف صارفین کو فراہم کردہ فنانسنگ کا پورا پورٹ فولیو موجود ہے۔“

شاہ میر خالق نے بتایا کہ سٹی دنیا بھر میں ہر سال اپنی مختلف مالیاتی سہولتوں، جن میں امپورٹ فنانسنگ، ایکسپورٹ فنانسنگ، ایکسپورٹ کریڈٹ ایجنسی فنانسنگ اور دیگر ذرائع شامل ہیں، کے ذریعے تقریباً ایک کھرب ڈالر کی فنانسنگ میں سہولت فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کی حکومتوں کی ملکیت میں موجود ترقیاتی مالیاتی ادارے اور ایکسپورٹ کریڈٹ ایجنسیاں ابھرتی ہوئی معیشتوں اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے آلات اور مشینری کی برآمد میں معاونت کرتی ہیں۔

انہوں نے کہا، ”پاکستان میں بھی ہماری حکمت عملی مختلف نہیں۔ ہم اپنے صارفین کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے انہیں درآمدات اور برآمدات، دونوں کے لیے مالی سہولتیں فراہم کرتے ہیں اور آئندہ بھی ان کی معاونت جاری رکھیں گے۔“

شاہ میر خالق کے مطابق پاکستان، سٹی کی 90 ممالک پر مشتمل عالمی بینکاری سرگرمیوں میں ایک اہم مارکیٹ ہے، جبکہ بینک 1961 سے ملک میں کام کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا، ”پاکستان 25 کروڑ آبادی پر مشتمل ایک اہم معیشت ہے۔ یہاں کثیر القومی کمپنیاں، بڑے کاروباری ادارے، بینک، بروکریج ہاؤسز، حکومتِ پاکستان اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان، سب سٹی کے صارفین میں شامل ہیں۔“

انہوں نے کہا کہ سٹی کا مقصد اپنے صارفین کو کاروبار کے مؤثر انتظام، مالی معاونت، سرمایہ مارکیٹوں تک رسائی، مشاورتی خدمات، ٹریژری سروسز اور ہیجنگ کی سہولتیں فراہم کرنا ہے۔

شاہ میر خالق نے کہا، ”1961 سے 2026 تک پاکستان نے کئی معاشی بحران دیکھے ہیں۔ مختلف ادوار میں معاشی ماحول کبھی دباؤ کا شکار رہا اور کبھی سازگار، مگر ہمارا عزم ہمیشہ اپنے صارفین کی معاونت جاری رکھنا رہا ہے، چاہے حالات جیسے بھی ہوں۔“

انہوں نے بتایا کہ حکومتِ پاکستان نے یوروبانڈز اور سکوک کے اجرا کے ذریعے عالمی سرمایہ مارکیٹوں سے مالی وسائل حاصل کرنے کے لیے نئی ریکویسٹ فار پروپوزلز (آر ایف پیز) جاری کی ہیں۔

انہوں نے کہا، ”حکومت اضافی مالی وسائل کے حصول کے نئے ذرائع تلاش کر رہی ہے، جبکہ ہمارا مقصد اپنے عالمی نیٹ ورک کے ذریعے اسے سرمایہ مارکیٹوں تک رسائی دلانے میں معاونت فراہم کرنا ہے۔“

شاہ میر خالق کے مطابق پاکستان میں سٹی کی بنیادی توجہ کثیر القومی کمپنیوں پر مرکوز ہے۔

انہوں نے کہا، ”اگر کثیر القومی کمپنیاں ترقی کریں گی تو ہماری ترقی بھی ہوگی۔ یہ صرف انہی کے ساتھ کاروبار بڑھانے کی بات نہیں بلکہ ہم دیگر بینکوں کے ساتھ بھی مسابقت کر رہے ہیں۔ اگر ملک کی درآمدات میں اضافہ ان کمپنیوں کے ذریعے ہوتا ہے تو یقیناً اس کا مثبت اثر ہماری بیلنس شیٹ پر بھی نظر آئے گا۔“

انہوں نے مزید کہا، ”ہم پاکستان میں موجود رہے ہیں اور اپنی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مستقبل میں بھی اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے لیے پُرعزم ہیں۔“

شاہ میر خالق نے کہا کہ پاکستان سٹی کے لیے ایک انتہائی منافع بخش مارکیٹ ہے۔

انہوں نے کہا، ”ایک تو یہ منافع بخش مارکیٹ ہے، دوسرا ہم یہاں بڑی کثیر القومی کمپنیوں اور بڑے مقامی بینکوں کو خدمات فراہم کرتے ہیں، اس لیے ان صارفین کے لیے سٹی بینک کی موجودگی نہایت اہم ہے۔“

انہوں نے کہا کہ ”مالیاتی خدمات کا مستقبل تیزی سے ریئل ٹائم، ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی کی جانب بڑھ رہا ہے۔ سٹی مصنوعی ذہانت، ٹوکنائزیشن اور بلاک چین جیسی ٹیکنالوجیز میں سرمایہ کاری کر رہا ہے تاکہ صارفین سرحد پار رقوم کی منتقلی اور نقدی کے انتظام کو زیادہ مؤثر انداز میں انجام دے سکیں۔“

Comments

200 حروف