کوئٹہ، کوئلہ کان میں دھماکا، 18 کان کن جاں بحق، ریسکیو آپریشن جاری
بلوچستان میں ایک کوئلہ کان میں دھماکے کے نتیجے میں کان کنی کے ایک کمپلیکس کا بڑا حصہ ملبے تلے دب گیا جس کے باعث کم از کم 18 کوئلہ کان کن جاں بحق ہوگئے۔
بلوچستان حکومت نے ایک بیان کے مطابق پھنسے ہوئے باقی 14 کان کنوں کی تلاش اور انہیں بحفاظت نکالنے کے لیے امدادی کارروائی تاحال جاری ہے۔
بلوچستان کے وزیر برائے کان کنی و معدنی ترقی شعیب نوشیروانی نے اس سے قبل رائٹرز کو بتایا تھا کہ دھماکے کے وقت کان کے متاثرہ حصے میں 36 افراد موجود تھے جن میں سے جمعرات کی رات گئے تک 25 افراد لاپتا تھے۔
صوبے کے چیف انسپکٹر آف مائنز محمد عاطف کے مطابق امدادی ٹیمیں 4,000 فٹ (1,219 میٹر) کی گہرائی میں پھنسے کان کنوں تک پہنچنے کے لیے ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ کچھ کان کن زندہ مل جائیں گے، تاہم اس کے امکانات بہت کم ہیں۔
علاقے میں کان کنی سے متعلق ایک سینئر سرکاری عہدیدار عبدالغنی بلوچ نے بتایا کہ میتھین گیس کے ایک شدید دھماکے کے نتیجے میں دو کانوں کو نقصان پہنچا۔
یہ دھماکا صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کے قریب واقع دور افتادہ علاقے سورنگ میں پیش آیا۔





















Comments