وزیرِاعظم کی ایف بی آر کو دسمبر تک 5 مزید شعبوں میں ڈیجیٹل پروڈکشن مانیٹرنگ شروع کرنیکی ہدایت
- چینی، سیمنٹ، تمباکو، ٹائلز اور کھاد کے شعبے میں ٹریکنگ سسٹم مکمل فعال ہے، بریفنگ
وزیراعظم شہباز شریف نے بدھ کو وفاقی ٹیکس وصول کرنے والے ادارے کو ہدایت کی کہ ٹیکسٹائل، اسٹیل، پولٹری، خوردنی تیل اور گھی اور ٹائرز کے شعبوں میں پیداوار کی ڈیجیٹل نگرانی کا نظام دسمبرتک فعال بنایا جائے.
وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ایف بی آر اصلاحات پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس ہوا جس میں محصولات میں اضافے اور ادارہ جاتی اصلاحات پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا گیا۔
اجلاس کے دوران وزیرِ اعظم نے ہدایات دیں کہ مختلف شعبوں میں ٹیکس کی استعداد کے تخمینے کیلئے ایک جامع و سائنٹیفک طریقہ کار وضع کرکے پیش کیا جائے. پاور سیکٹر کے ساتھ تعاون سے غیر رسمی معاشی سرگرمیوں اور ٹیکس چوری میں ملوث افراد و کارباروں کا تعین کرکے انکے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ چینی کے پیداواری شعبے اور ایف بی آر کے اعدادوشمار میں ہم آہنگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ایف بی آر کی جانب سے نصب شدہ ٹریکنگ نظام فعال اور بہتر کارکردگی دکھا رہا ہے.
اس ضمن میں چئیرمین ایف بی آر اور انکی ٹیم کی کاوشیں لائق تحسین ہیں. ٹیکس نظام میں رہتے ہوئے تمام تر ضابطوں کی پابندی کرنے اور ٹیکس جمع کروانے والے افراد و کاروبار ملک و قوم کا قیمتی سرمایہ اور لائق تحسین ہیں.
مزید برآں وزیرِاعظم نے مزید کہا کہ حکومت نے ٹیکس کے حوالے سے برآمدی اور مقامی شعبے کو جس قدر ممکن ہوا سہولت فراہم کی اور آئندہ کیلئے بھی کرتی رہے گی.
وزیرِاعظم نے ہدایت کی کہ چیئرمین ایف بی آر اور سینئر افسران ہر ماہ کے پہلے ہفتے کراچی میں موجود ہوں تاکہ کاروباری برادری کے مسائل بروقت سنے اور حل کیے جا سکیں.
اس کے علاوہ وزیراعظم کو ایف بی آر کی جانب سے پیداواری شعبے کے لیے ٹریکنگ سسٹم کی تنصیب، ایف بی آر میں افرادی قوت کے حوالے سے لاگو کی جانے والی اصلاحات اور آپریشنل کارکردگی کو بڑھانے کے لیے کی جانے والی کوششوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ چینی، سیمنٹ، تمباکو، ٹائلز اور کھاد کے شعبے میں ٹریکنگ سسٹم مکمل طور پر فعال جبکہ مزید 5 شعبوں میں نفاذ حتمی مراحل میں ہے جس کی ٹیکس استعداد 700 ارب روپے سے زیادہ ہے۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ 9 پیداواری شعبوں میں ٹریکنگ نظام وضع کرنے اور اسکے نفاذ کیلئے شعبوں کے ساتھ مل کر کام جاری ہے جس کی بدولت 560 ارب روپے کے ٹیکس کی استعداد کار سے فائدہ اٹھایا جا سکے گا۔
وزیرِ اعظم نے ہدایت کی کہ پیداواری شعبے میں بالواسطہ ٹیکس اکٹھا کرنے کیلئے ٹریکنگ نظام کے نفاذ کو رواں برس کے اختتام تک یقینی بنایا جائے.
افرادی قوت کے حوالے اصلاحات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ افسران کی بھرتی کے وقت انکی ٹریننگ ملک کی مایہ ناز یونیورسٹی سے کرائی جارہی ہے جس میں میرٹ اور اچھی کارکردگی کے اصولوں پر عملدرآمد یقینی بنایا جا رہا ہے.
اس کے ساتھ ساتھ حاضر افسران کی ٹریننگ بھی کروائی جارہی ہے. ٹریننگ ماڈیولز بین الاقوامی معیار اور پاکستان کے ٹیکس نظام کی ضروریات سے ہم آہنگ ہیں.
اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ ایف بی آر میں ایسے افسران و اہلکار جن کی کارکردگی بہتر ہے ان کی پزیرائی اور خراب کارکردگی والے افسران و اہلکاروں کی سزا کا نظام بھی متعارف کروایا گیا ہے.
ایف بی آر میں تقرریوں اور تبادلوں کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا کہ یہ عمل مکمل طور پر میرٹ کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔






















Comments