اقتصادی رابطہ کمیٹی نے اہم گرانٹس اور مختلف شعبوں سے متعلق پالیسی اقدامات کی منظوری دے دی
- منظور شدہ گرانٹس میں اسلام آباد امن مذاکرات کے دوران کیے گئے سکیورٹی انتظامات کے لیے 69 کروڑ 29 لاکھ روپے شامل ہیں
اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے جمعے کے روز اہم ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس ( ٹی ایس جیز) اور مختلف شعبوں سے متعلق پالیسی اقدامات کی منظوری دے دی۔ یہ بات وزارتِ خزانہ نے ایک بیان میں کہی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ای سی سی نے کابینہ ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ سمری کی منظوری دیتے ہوئے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول کے پروگرام (ایس اے پی) کے لیے 702.63 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ منظور کر لی۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق یہ رقم ترقیاتی منصوبوں کے تسلسل کو یقینی بنانے، لاگت میں اضافے کو روکنے اور پروگرام کے اہداف بروقت حاصل کرنے میں مدد دے گی۔
دریں اثنا، ای سی سی نے وزارتِ دفاع کی سمری کی منظوری دیتے ہوئے پاکستان نیوی کے ہنگور منصوبے کے لیے نظرثانی شدہ آرمڈ فورسز ڈویلپمنٹ پلان (آر اے ایف ڈی پی-2030) کے تحت 10.15 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ بھی منظور کی۔
کمیٹی نے وزارتِ داخلہ و نارکوٹکس کنٹرول کی جانب سے پیش کی گئی سات سمریوں کی بھی منظوری دی۔ ان میں اسلام آباد امن مذاکرات کے دوران سکیورٹی انتظامات کے لیے 69 کروڑ 29 لاکھ روپے، اسلام آباد میں امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ ترلائی میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں معاوضہ اخراجات کے لیے 24 کروڑ 10 لاکھ روپے، پاکستان لینڈ پورٹس اتھارٹی ( پی ایل پی اے) کے آپریشنل اخراجات کے لیے 52 کروڑ 80 لاکھ روپے، پاکستان کوسٹ گارڈز کے لیے فاسٹ پیٹرول بوٹس اور متعلقہ انفراسٹرکچر کی خریداری کے لیے 80 کروڑ روپے، اسلام آباد سیف سٹی منصوبے کی توسیع کے لیے 1.8837 ارب روپے، نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (نیکٹا) کے آپریشنل اخراجات کے لیے 15 کروڑ روپے اور ریکو ڈک منصوبے سے متعلق سکیورٹی اخراجات کے لیے 41 کروڑ 39 لاکھ روپے شامل ہیں۔
کمیٹی نے اسلام آباد امن مذاکرات کے کامیاب انعقاد کو سراہتے ہوئے اس میں شامل تمام فریقین کی کاوشوں کو بھی سراہا۔
اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے مختلف وزارتوں اور اداروں کی جانب سے پیش کی گئی مالی اور پالیسی سمریوں کی منظوری دے دی، جس میں تنخواہوں کی ادائیگی، ترقیاتی منصوبے، ٹیلی کام، توانائی اور دیگر شعبوں سے متعلق اہم فیصلے شامل ہیں۔
تفصیلات کے مطابق وزارتِ اطلاعات و نشریات کی سمری پر ای سی سی نے پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن ( پی ٹی وی سی ) کے لیے جون 2026 کی تنخواہوں کی ادائیگی کی مد میں 73 کروڑ 30 لاکھ روپے جاری کرنے کی منظوری دی۔
وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کی سمری پر کمیٹی نے اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن ( ایس سی او) کے لیے گلگت بلتستان کے ضلع شگر میں ٹیلی کام سائٹس اور ٹاورز کی تنصیب کے لیے 18 کروڑ 35 لاکھ روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ ( ٹی ایس جی) کی منظوری دی، جس سے دور دراز علاقوں میں رابطے اور موبائل کوریج بہتر ہونے کی توقع ہے۔
پارلیمانی امور کی وزارت کی سمری پر ای سی سی نے پارلیمانی سیکرٹریز کی نظرثانی شدہ تنخواہوں اور الاونسز کی مد میں مالی سال 2025-26 کے لیے 11 کروڑ 99 لاکھ روپے کی منظوری دی۔
وزارتِ ہاؤسنگ اینڈ ورکس کی دو سمریوں کی منظوری دیتے ہوئے کمیٹی نے پاکستان انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ کمپنی لمیٹڈ ( پی آئی ڈی سی ایل ) کے کرنٹ اکاؤنٹ میں ترقیاتی فنڈز منتقل کرنے کی اجازت دی، جس میں کراچی اور حیدرآباد اربن انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ پیکیجز کے لیے 87 ارب 58 کروڑ 90 لاکھ روپے اور خیبر پختونخوا کے لیے ایس اے پی کے تحت 28 ارب 40 کروڑ روپے شامل ہیں۔
وزارتِ خزانہ کی تین سمریوں پر غور کے بعد ای سی سی نے پاکستان منٹ کی جدید کاری و اپ گریڈیشن (فیز-II-A) کے پی ایس ڈی پی منصوبے کے لیے 1.3 ارب روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ اور حکومتِ گلگت بلتستان کے لیے جاری اخراجات اور ترجیحی اقدامات کی مد میں 43 کروڑ 77 لاکھ روپے کی منظوری بھی دی۔
کمیٹی نے بجٹ ہوناریم (بجٹ اعزازیہ) کی پالیسی کی منظوری دیتے ہوئے وزارتِ تجارت، وزارتِ قانون و انصاف اور آڈیٹر جنرل پاکستان ریونیو (اے جی پی آر) کے دفتر کو بھی اس کے اہل اداروں میں شامل کر لیا۔
ای سی سی نے آئندہ مالی سال 2025-26 کے لیے آئی پی او پاکستان کے بجٹ تخمینوں کی بھی منظوری دی، جس کے مطابق ادارے کے مجوزہ اخراجات 91 کروڑ 47 لاکھ روپے اور آمدنی 91 کروڑ 80 لاکھ روپے ہوگی۔
وزارتِ بحری امور کی سمری پر کمیٹی نے اینگرو ووپک ٹرمینل لمیٹڈ (ای وی ٹی ایل ) کی آپریشنل تسلسل سے متعلق فیصلہ بھی منظور کیا۔
پیٹرولیم ڈویژن کی دو سمریوں کی منظوری دیتے ہوئے ای سی سی نے پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) کے لیے 100 ارب روپے کی حد تک سینڈیکیٹڈ رننگ فنانس سہولت کے تسلسل اور سینرجیکو پی کے لمیٹڈ کے ساتھ معاہدہ تصفیہ (ڈی او ایس) کے نظرثانی شدہ فریم ورک کی منظوری دی، جس کا مقصد لیٹ پیمنٹ سرچارج (ایل پی ایس ) کے مسئلے کا حل اور ریفائنری اپ گریڈ و سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔
مزید برآں، ای سی سی نے اقتصادی امور ڈویژن کی سمری پر سرکاری رہائشی سہولیات کے کرایے کی ادائیگی کے لیے 2 کروڑ 99 لاکھ روپے اور وزارتِ داخلہ کی سمری پر پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد کی جامع مسجد کی توسیع و اپ گریڈیشن کے لیے 3 کروڑ روپے کی ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹ کی بھی منظوری دی۔
























Comments