اگرچہ وزیرِ مملکت برائے خزانہ نے حالیہ مشاورتی اجلاسوں کے دوران تاجروں کے وفد کو یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ بجٹ میں ان کے سادہ ٹیکس نظام کے مطالبے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے گا، تاہم بڑی حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا ٹیکس نظام دن بہ دن زیادہ پیچیدہ، سخت گیر اور معاشی طور پر نقصان دہ بنتا جارہا ہے۔
ٹیکس شرح میں مسلسل اضافے، پیچیدہ تعمیلی تقاضوں اور سخت گیر نفاذی اقدامات نے کارپوریٹ شعبے، تنخواہ دار طبقے اور ٹیکس قوانین پر عمل کرنے والے افراد پر غیر متناسب بوجھ ڈال دیا ہے جبکہ اس کے باوجود ٹیکس نیٹ بدستور محدود ہی رہا ہے۔
ریٹیلرز اور تھوک فروشوں کی جانب سے مطالبہ کیا گیا سادہ ٹیکس نظام بلاشبہ وقت کی اہم ضرورت ہے، تاہم یہ ایک واضح تضاد بھی ہے کہ ریلیف کے ایسے مطالبات اُس طبقے کی جانب سے سامنے آرہے ہیں جسے مسلسل آنے والی حکومتوں نے طویل عرصے تک غیر معمولی سہولتیں اور رعایتیں فراہم کیں جبکہ دوسری طرف دستاویزی معیشت کا بڑا حصہ اب بھی ایک غیر مؤثر اور غیر منصفانہ مالیاتی نظام کا بوجھ اٹھا رہا ہے۔
موجودہ ٹیکس نظام میں موجود بگاڑ کی سب سے واضح مثال یہ ہے کہ تقریباً ہر باضابطہ معاشی سرگرمی پر منافع ہو یا نہ ہو، ٹرن اوور کی بنیاد پر کم از کم ٹیکس عائد کردیا جاتا ہے، کسی بھی معقول ٹیکس نظام میں ٹیکس کی ذمہ داری خالص آمدنی سے منسلک ہوتی ہے جبکہ نقصانات کو آئندہ برسوں کی آمدنی کے مقابل ایڈجسٹ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
تاہم پاکستان میں ٹرن اوور پر مبنی (مجموعی کاروبار پر) عائد کم از کم ٹیکسز درحقیقت کاروباری اداروں کی مجموعی آمدنی پر ٹیکس لگا کر انہیں محض کام کرنے کی سزا دیتے ہیں۔ اس کا ناگزیر نتیجہ منافع میں کمی اور فارمل (دستاویزی) شعبے کی توسیع کے لیے مراعات کے سکڑنے کی صورت میں نکلتا ہے۔ اس بوجھ کو ودہولڈنگ ٹیکس کا نظام مزید سنگین بنا دیتا ہے جو تجارتی سرگرمی کے تقریباً ہر مرحلے پر ٹیکس نچوڑتا ہے۔
سپلائی چین کے تمام مراحل یعنی مینوفیکچرنگ (پیداوار) اور ڈسٹری بیوشن (تقسیم) سے لے کر ریٹیل (خوردہ فروشی) تک کام کرنے والے کاروباری اداروں کو ہر لین دین (ٹرانزیکشن) پر بار بار ٹیکس کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے پیداواری عمل کے دوران قانون کے پابند کاروباری اداروں کے آپریشنل اخراجات حد سے زیادہ بڑھ جاتے ہیں۔
ایسے (ٹیکس) نظام کے معاشی نقصانات بالکل واضح ہیں، جیسا کہ ورلڈ بینک گروپ کی ایک تحقیق میں یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ کارپوریٹ ٹیکس کی مؤثر شرح میں اضافہ براہِ راست نجی سرمایہ کاری میں کمی اور نئے کاروباری اداروں کے قیام کی حوصلہ شکنی کا باعث بنتا ہے۔ تحقیق میں یہ بات بھی نوٹ کی گئی ہے کہ کارپوریٹ ٹیکس کی مؤثر شرح میں 10 فیصد اضافہ نجی سرمایہ کاری کو جی ڈی پی کے دو فیصد تک کم کر سکتا ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ یہ مارکیٹ میں نئے کاروبار کی آمد کو بھی روکتا ہے۔
قانون کے پابند کاروباری اداروں کو جس جابرانہ ٹیکسیشن کا سامنا ہے، اس کے علاوہ انہیں بار بار کے آڈٹس کے ذریعے مسلسل جانچ پڑتال، بیوروکریسی کی روز بروز بڑھتی ہوئی رکاوٹوں اور ٹیکس ریفنڈز کی وصولی میں تاخیر کا بھی مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ دوسری جانب غیر دستاویزی شعبے بالخصوص ریٹیل، ہول سیل اور زراعت، اب بھی بہت کم ذمہ داریوں کے ساتھ اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اس کا نتیجہ ایسے نظام کی صورت میں نکلتا ہے جو رجسٹرڈ کاروباری اداروں کو تو حد سے زیادہ نچوڑتا ہے جبکہ معیشت کے بڑے حصوں کو ٹیکس نیٹ سے باہر رہنے کی ترغیب دیتا ہے۔
حکومت نے زراعت جیسے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے کوئی خاص سنجیدگی نہیں دکھائی اور حالیہ دنوں میں اس شعبے پر ٹیکس عائد کرنے کے حوالے سے جو تھوڑی بہت پیشرفت ہوئی، وہ بھی حقیقی سیاسی عزم کے بجائے زیادہ تر آئی ایم ایف کے دباؤ کا نتیجہ ہے۔
اس کی وجہ سمجھنا کچھ مشکل نہیں: زرعی شعبہ اقتدار کے ایوانوں میں وسیع سیاسی اثر و رسوخ رکھتا ہے، اسی طرح تاجر برادری نے بھی ہمیشہ یہ ثابت کیا ہے کہ جب بھی اس شعبے کو زیادہ مؤثر طریقے سے ٹیکس نیٹ میں لانے یا دستاویزی بنانے کی معمولی سی کوشش بھی کی جائے تو وہ فوراً ہی شٹر ڈاؤن ہڑتالوں اور احتجاج کا راستہ اپنا کر حکومت کے لیے دردِ سر بن جاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اب سیاسی اثر و رسوخ اور دباؤ ڈالنے کی صلاحیت ہی ٹیکس اصلاحات اور ٹیکس نیٹ میں توسیع کے حوالے سے حکومتی حکمتِ عملی کا تعین کرتی ہے۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ایف بی آر نے تیزی سے آسان ترین اہداف کو نشانہ بنانے پر انحصار کیا ہے، جہاں بامعنی ساختی اصلاحات کے بجائے ٹیکس جمع کرنے کی آسانی کو ترجیح دی جاتی ہے۔ اگرچہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایک آسان ٹیکس ڈھانچے کی شدید ضرورت ہے لیکن اس کے فوائد کا دائرہ پوری معیشت تک پھیلنا چاہیے، نہ کہ اسے بنیادی طور پر صرف سیاسی طور پر بااثر طبقات کی سہولت کے لیے تیار کیا جائے۔
اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ٹیکس نظام میں کسی بھی قسم کی آسانی کے ساتھ ساتھ ٹیکس نیٹ کو پھیلانے کے لیے ایک سنجیدہ اور وسیع البنیاد کوشش کا ہونا لازمی ہے جس کے بغیر موجودہ نظام کی ناانصافیاں اسی طرح برقرار رہیں گی۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026
























Comments