BR100 Decreased By (-0.18%)
BR30 Decreased By (-0.56%)
KSE100 Decreased By (-0.18%)
KSE30 Decreased By (-0.18%)
BAFL 57.02 Increased By ▲ 0.15 (0.26%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.23 Decreased By ▼ -0.12 (-0.4%)
CNERGY 13.01 Decreased By ▼ -0.11 (-0.84%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 190.77 Decreased By ▼ -1.68 (-0.87%)
FABL 94.11 Decreased By ▼ -0.03 (-0.03%)
FCCL 52.65 Decreased By ▼ -0.14 (-0.27%)
FFL 14.59 Decreased By ▼ -0.13 (-0.88%)
GGL 19.30 Decreased By ▼ -0.26 (-1.33%)
HBL 306.40 Increased By ▲ 0.30 (0.1%)
HUBC 200.92 Decreased By ▼ -0.50 (-0.25%)
HUMNL 10.01 Decreased By ▼ -0.15 (-1.48%)
KEL 6.16 Increased By ▲ 0.07 (1.15%)
LOTCHEM 26.25 Decreased By ▼ -0.21 (-0.79%)
MLCF 92.57 Decreased By ▼ -0.59 (-0.63%)
OGDC 315.06 Decreased By ▼ -1.67 (-0.53%)
PAEL 35.39 Decreased By ▼ -0.24 (-0.67%)
PIBTL 14.67 Decreased By ▼ -0.01 (-0.07%)
PIOC 242.50 Decreased By ▼ -0.71 (-0.29%)
PPL 223.36 Decreased By ▼ -3.55 (-1.56%)
PRL 92.20 Decreased By ▼ -0.82 (-0.88%)
SNGP 91.75 Decreased By ▼ -0.09 (-0.1%)
SSGC 23.69 Decreased By ▼ -0.12 (-0.5%)
TELE 7.68 Decreased By ▼ -0.12 (-1.54%)
TPLP 12.70 Decreased By ▼ -0.27 (-2.08%)
TRG 56.42 Decreased By ▼ -0.14 (-0.25%)
UNITY 8.08 Increased By ▲ 0.01 (0.12%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
دنیا

ایران کا آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کنٹرول نظام متعارف کرانے کا منصوبہ

یہ نظام صرف تجارتی جہازوں اور ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے بحری آپریٹرز پر لاگو ہوگا، ابراہیم عزیزی
شائع اپ ڈیٹ

ایران نے دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں سے ایک آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کے انتظام کے لیے ایک نیا نظام متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم عزیزی کے مطابق یہ نیا طریقہ کار مخصوص روٹ کے ذریعے جہازوں کی آمد و رفت کو منظم کرے گا اور اسے جلد باضابطہ طور پر پیش کیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ فریم ورک قومی خودمختاری اور بین الاقوامی تجارت کی سلامتی کی ضمانت کے دائرے میں تیار کیا گیا ہے اور یہ ایک پیشہ ورانہ ٹریفک مینجمنٹ نظام کے طور پر کام کرے گا۔

ابراہیم عزیزی نے بتایا کہ یہ نظام صرف تجارتی جہازوں اور ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے بحری آپریٹرز پر لاگو ہوگا، جبکہ اس راستے سے فائدہ اٹھانے کی اہلیت اسی بنیاد پر طے کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مخصوص خدمات کے بدلے فیس وصول کی جائے گی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک باقاعدہ ٹول بیسڈ نظام متعارف کرایا جا سکتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی کہا کہ تہران عمان کے ساتھ اس مجوزہ فریم ورک پر مشاورت کر رہا ہے، کیونکہ دونوں ممالک اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کے دونوں جانب واقع ہیں۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز ایران اور عمان کی علاقائی حدود میں آتی ہے اور اس کا انتظام دونوں ممالک کے درمیان طے ہونا چاہیے۔

دوسری جانب امریکہ نے ماضی میں اس راستے پر ایرانی کنٹرول اور ٹرانزٹ فیس کے نفاذ کی مخالفت کی ہے۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل گزرتی ہے، جس کی وجہ سے یہ عالمی توانائی کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔

اس آبی راستے کے گرد کشیدگی ماضی میں بھی بڑھتی رہی ہے، تاہم اس بار ایران کے نئے منصوبے نے عالمی سطح پر نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔

Comments

200 حروف