ایران کا آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کنٹرول نظام متعارف کرانے کا منصوبہ
ایران نے دنیا کے اہم ترین بحری راستوں میں سے ایک آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کے انتظام کے لیے ایک نیا نظام متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم عزیزی کے مطابق یہ نیا طریقہ کار مخصوص روٹ کے ذریعے جہازوں کی آمد و رفت کو منظم کرے گا اور اسے جلد باضابطہ طور پر پیش کیا جائے گا۔ ان کے مطابق یہ فریم ورک قومی خودمختاری اور بین الاقوامی تجارت کی سلامتی کی ضمانت کے دائرے میں تیار کیا گیا ہے اور یہ ایک پیشہ ورانہ ٹریفک مینجمنٹ نظام کے طور پر کام کرے گا۔
ابراہیم عزیزی نے بتایا کہ یہ نظام صرف تجارتی جہازوں اور ایران کے ساتھ تعاون کرنے والے بحری آپریٹرز پر لاگو ہوگا، جبکہ اس راستے سے فائدہ اٹھانے کی اہلیت اسی بنیاد پر طے کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مخصوص خدمات کے بدلے فیس وصول کی جائے گی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایک باقاعدہ ٹول بیسڈ نظام متعارف کرایا جا سکتا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی کہا کہ تہران عمان کے ساتھ اس مجوزہ فریم ورک پر مشاورت کر رہا ہے، کیونکہ دونوں ممالک اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کے دونوں جانب واقع ہیں۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز ایران اور عمان کی علاقائی حدود میں آتی ہے اور اس کا انتظام دونوں ممالک کے درمیان طے ہونا چاہیے۔
دوسری جانب امریکہ نے ماضی میں اس راستے پر ایرانی کنٹرول اور ٹرانزٹ فیس کے نفاذ کی مخالفت کی ہے۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کے تقریباً 20 فیصد تیل اور گیس کی ترسیل گزرتی ہے، جس کی وجہ سے یہ عالمی توانائی کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔
اس آبی راستے کے گرد کشیدگی ماضی میں بھی بڑھتی رہی ہے، تاہم اس بار ایران کے نئے منصوبے نے عالمی سطح پر نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔

























Comments