کراچی کو رہائشی سہولتوں کی کمی اور بوسیدہ انفرااسٹرکچر کے مسائل کا سامنا مگر یہ سب قابل اصلاح ہیں
- شہر قائد جو کبھی ایک گارڈن سٹی کے طور پرجانا جاتا تھا،تاہم اب ایک وسیع و عریض کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہو چکا ہے
کراچی جو کبھی ایک گارڈن سٹی کے طور پرجانا جاتا تھا،تاہم اب ایک وسیع و عریض کنکریٹ کے جنگل میں تبدیل ہو چکا ہے۔
ایک ساحلی شہر سے منسوب نسیمِ سحر اور ٹھنڈی سمندری ہواؤں کے برعکس کراچی کی آغوش اب ہر گزرتے سال کے ساتھ ایک تپتے ہوئے اور دم گھٹتے ہوئے حصار میں بدلتی جا رہی ہے۔ یہ اب محض موسم کی سختی یا بے آرامی کا معاملہ نہیں رہا، بلکہ ایک ایسے سنگین بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کے دور رس نتائج خاص طور پر شہر کے پسماندہ اور غریب طبقے کی بقا کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔
پاکستان کا سب سے بڑا میٹروپولیس اور دنیا کا 13 واں بڑا شہر ہونے کے ناطے کراچی ملک کی بنیادی بندرگاہ اور معاشی مرکز ہے، جس نے حیران کن رفتار سے ترقی کی ہے۔ 1947 میں محض ساڑھے چار لاکھ آبادی والے اس شہر کی آبادی آج 2 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے (اور یہ تعداد اب بھی حقیقت سے کم معلوم ہوتی ہے)۔ اس کا شہری منظرنامہ اب بلند و بالا عمارتوں، پھیلی ہوئی غیر رسمی بستیوں اور بوسیدہ انفرااسٹرکچر کا ایک پیوند بن چکا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ترقی ہو رہی ہے لیکن اس کی رفتار شہر کے پھیلاؤ کا مقابلہ کرنے میں ناکام رہی ہے۔
کراچی کی اس برق رفتار مگر غیر منصوبہ بند اور قلیل مدتی توسیع نے ایک ایسے خاموش بحران کو جنم دیا ہے جسے اربن ہیٹ آئی لینڈ کہا جاتا ہے۔ یہ محض کوئی نظریاتی بحث نہیں بلکہ ایک ایسا تلخ مشاہدہ ہے جو شہر کے درجہ حرارت میں ہولناک اضافے اور فضائی آلودگی کی سنگینی کی صورت میں شہریوں کے معیارِ زندگی کو تیزی سے نگل رہا ہے۔ کنکریٹ کے اس بے ہنگم پھیلاؤ نے شہر کے بنیادی ڈھانچے اور عوامی سہولیات کو ان کی آخری حدوں تک دھکیل دیا ہے۔ تپش کا یہ بڑھتا ہوا گراف اور بنیادی ڈھانچے کی فرسودگی ہی وہ وجوہات ہیں جن کی بنا پر آج کراچی کا شمار دنیا کے رہنے کے لیے بدترین شہروں کی فہرست میں ہو رہا ہے۔
شہری بھٹی: کراچی کی تپش
اب آپ کو اس کا تصور کرنے کی ضرورت نہیں، یہ ایک حقیقت بن چکا ہے، کراچی کی ایک جھلسا دینے والی دوپہر جہاں درجہ حرارت 40 سینٹی گریڈ کے قریب ہو اور سڑکیں تپش جذب کرنے والے تارکول (اسفالٹ) سے بنی ہوں اور بلند عمارتوں سے گھری ہوں، جو سورج ڈھلنے کے بعد بھی شدید حرارت خارج کرتی رہیں۔ یہی اربن ہیٹ آئی لینڈ اثر ہے جسے کراچی کے شہری شدت سے محسوس کرتے ہیں۔ یہ اثر تب پیدا ہوتا ہے جب شہر تعمیراتی مواد (کنکریٹ، اسفالٹ اور شیشہ) اور انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے گرمی کو قید کر لیتے ہیں، جس کے نتیجے میں شہری اور دیہی علاقوں کے درجہ حرارت میں 7 سینٹی گریڈ تک کا فرق پیدا ہو سکتا ہے۔
گرمیوں کے مہینوں میں بعض علاقوں میں درجہ حرارت 40 سینٹی گریڈ سے تجاوز کر جاتا ہے، جس کے بعد گزشتہ سال کی طرح اکتوبر اور نومبر کے آخر تک غیر معمولی ہیٹ ویوز کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق گزشتہ چند دہائیوں میں کراچی کے اوسط درجہ حرارت میں تقریباً 2.4 سینٹی گریڈ کا اضافہ ہوا ہے، جو زیادہ شدید اور طویل ہیٹ ویوز کا باعث بن رہا ہے۔ اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ کراچی کی زمین کا 66 فیصد حصہ بنجر جبکہ 21 فیصد تعمیر شدہ رقبے پر مشتمل ہے، جبکہ محض 10.4 فیصد حصہ سبزہ زاروں کے لیے مختص ہے۔
شہر کی ساحلی جغرافیہ جو قدرتی طور پر اسے ٹھنڈا رکھ سکتی تھی، اب ہوا میں نمی کے تناسب کی وجہ سے مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔ شہر کی 62 فیصد آبادی گنجان آباد محلوں میں رہتی ہے جہاں تنگ، دھوپ سے جھلستی گلیاں اور سبزہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایک تحقیق میں سبز علاقوں اور ٹھنڈک پیدا کرنے کی صلاحیت کے درمیان گہرا تعلق پایا گیا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ کراچی ویسٹ اور ملیر کے اضلاع میں یوایچ آئی کا اثر زیادہ شدید ہے جبکہ جن علاقوں میں سبزہ زیادہ ہے وہاں درجہ حرارت نسبتاً کم پایا گیا۔
اورنگی ٹاؤن اور کورنگی جیسے گنجان آباد علاقے، جہاں درختوں کا سایہ نہیں ہے، نادانستہ طور پر تپش کے جال بن چکے ہیں۔ شارع فیصل، طارق روڈ اور شاہراہِ قائدین جیسے مصروف راستوں پر بھی یہی صورتحال ہے جہاں گاڑیوں سے پیدا ہونے والی تپش برقرار رہتی ہے۔ بلند عمارتیں ہوا کے بہاؤ کو روک دیتی ہیں، جس سے گرمی سورج غروب ہونے کے بعد بھی فضا میں قید رہتی ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر غریب طبقے پر پڑتا ہے، جہاں ریڑھی بانوں اور پیدل چلنے والوں کے لیے سائے کی کمی مشکلات بڑھا دیتی ہے، اگرچہ تحقیق بتاتی ہے کہ شدید دھوپ میں محض سایہ بھی اب کافی نہیں رہا۔ بدقسمتی سے، ناقص شہری منصوبہ بندی اور شجرکاری کے بڑے منصوبوں میں ناکامی نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
شکستہ حال انفرااسٹرکچر
جیسے جیسے شہر میں گرمی قید ہو رہی ہے، یوٹیلیٹی انفرااسٹرکچر پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ہیٹ ویوز کے دوران بجلی کی طلب میں بے پناہ اضافہ کے الیکٹرک کے نظام پر بوجھ بڑھاتا ہے۔ کنڈا سسٹم کے ذریعے بجلی کی چوری اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیتی ہے، جس سے لائن لاسز بڑھتے ہیں اور بڑے علاقوں کی بجلی متاثر ہوتی ہے۔ پانی کا مسئلہ بھی گرمیوں میں شدت اختیار کر جاتا ہے۔ کراچی کا آبی نظام پرانا اور غیر مؤثر ہے اور ہیٹ ویو کے دوران جب پانی کی طلب بڑھتی ہے تو شہر کے کئی حصوں میں اس کی شدید قلت پیدا ہو جاتی ہے، چاہے وہ محلہ امیر ہو یا غریب۔
گرمی کم کرنے میں سبزے کا کردار: سبزہ ہی نیا سونا ہے
اب ہم جانتے ہیں کہ پارکس، باغات اور درختوں کا جھنڈ گرمی کے خلاف قدرت کا بہترین علاج ہے اور کراچی کی اس جنگ میں سب سے بڑی کمی یہی ہے۔ یہ سایہ فراہم کرتے ہیں اور ہوا کو ٹھنڈا رکھتے ہیں۔ بدقسمتی سے کراچی میں فی کس سبزے کی شرح انتہائی کم ہے، یہاں فی فرد ایک مربع میٹر سے بھی کم سبزہ موجود ہے، جبکہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیوایچ او) کم از کم 9 مربع میٹر کی سفارش کرتا ہے۔
دنیا کے دیگر شہروں جیسے سیول اور ممبئی نے سبز راہداریوں اور پارکوں کے ذریعے درجہ حرارت میں نمایاں کمی کی ہے، جو کراچی کے لیے ایک مثال بن سکتے ہیں۔ کراچی نے ماضی میں سڑکوں کے کنارے یوکلپٹس اور پیپل کے درخت لگانے کی کوشش کی لیکن پانی کی زیادہ ضرورت جیسے مسائل نے کراچی اسٹریٹجک ڈویلپمنٹ پلان 2020 جیسے منصوبوں کو غیر مؤثر بنا دیا۔
کراچی کے لیے سبزے میں اضافہ اور بہتر شہری نظم و نسق اب محض خوبصورتی کا مسئلہ نہیں بلکہ عوامی صحت اور یوٹیلیٹی مینجمنٹ کی ضرورت بن چکا ہے۔ شہری پارکس اور درخت گرمی کا درجہ حرارت کم کر سکتے ہیں اور بجلی کی کھپت کا دباؤ گھٹا سکتے ہیں مگر اس راہ میں محدود زمین، زیادہ دیکھ بھال کے اخراجات، سیاسی عزم کی کمی اور عمل درآمد کی کمزوری جیسے بڑے چیلنجز اب بھی موجود ہیں۔























Comments