امریکہ کے پاس ناممکن فوجی آپریشن یا برے معاہدے کا انتخاب باقی، ایرانی پاسداران انقلاب
- امریکہ کے لیے فیصلہ سازی کا وقت کم ہو گیا ہے، بیان
ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ امریکہ کو اب ”ناممکن“ فوجی آپریشن یا اسلامی جمہوریہ کے ساتھ ”برے معاہدے“ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
فروری کے آخر میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی مشرقِ وسطیٰ کی جنگ 8 اپریل سے رکی ہوئی ہے، جبکہ اس دوران پاکستان میں امن مذاکرات کا ایک دور ناکام ہو چکا ہے۔ مذاکرات اس وقت سے تعطل کا شکار ہیں جب سے امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کی ہے، جبکہ ایران نے کلیدی اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز کو بڑی حد تک بند کر رکھا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب کی انٹیلی جنس تنظیم نے سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک آن لائن پوسٹ میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ “ٹرمپ کو ’اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ ایک ناممکن آپریشن یا برے معاہدے میں سے کسی ایک کو چننا ہوگا۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکہ کے لیے فیصلہ سازی کا وقت کم ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ چین، روس اور یورپ کے واشنگٹن کی جانب بدلے ہوئے لہجے اور امریکی بحری ناکہ بندی پر ایران کی جانب سے دی گئی ڈیڈ لائن کو قرار دیا گیا، تاہم اس کی مزید وضاحت نہیں کی گئی۔
امریکی ادارے ایکسیس نے ایران کی جانب سے امریکہ کو دی گئی حالیہ تجویز سے باخبر دو ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ تہران نے “آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے، امریکی بحری ناکہ بندی ختم کرنے اور ایران و لبنان میں مستقل جنگ بندی کے لیے مذاکرات کی ایک ماہ کی مہلت مقرر کی ہے۔
اتوار کو ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں کہا کہ وہ ایران کی تازہ ترین تجویز کا جائزہ لیں گے لیکن انہوں نے مزید کہا کہ وہ تصور نہیں کر سکتے کہ یہ قابلِ قبول ہوگی۔
تسنیم اور فارس نیوز ایجنسیوں سمیت ایرانی میڈیا نے ہفتے کے روز اس تجویز کے مندرجات پر رپورٹ دی۔ تسنیم کے مطابق ایران نے کہا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان دیرینہ مسائل 30 دنوں کے اندر حل ہونے چاہئیں اور توجہ جنگ بندی میں توسیع کے بجائے جنگ کے خاتمے پر ہونی چاہیے۔
تسنیم کے مطابق ان مسائل میں ایران کے گرد و نواح سے امریکی فوجی افواج کا انخلا، بحری ناکہ بندی کا خاتمہ، ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی اور پابندیوں کا خاتمہ شامل ہے۔ رپورٹ میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کے لیے ایک نئے طریقہ کار پر اتفاق کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
























Comments