BR100 Decreased By (-0.53%)
BR30 Decreased By (-0.98%)
KSE100 Decreased By (-0.46%)
KSE30 Decreased By (-0.43%)
BAFL 56.95 Increased By ▲ 0.08 (0.14%)
BIPL 24.95 Decreased By ▼ -0.01 (-0.04%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 13.00 Decreased By ▼ -0.12 (-0.91%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.99 Decreased By ▼ -4.46 (-2.32%)
FABL 93.90 Decreased By ▼ -0.24 (-0.25%)
FCCL 52.38 Decreased By ▼ -0.41 (-0.78%)
FFL 14.57 Decreased By ▼ -0.15 (-1.02%)
GGL 19.26 Decreased By ▼ -0.30 (-1.53%)
HBL 306.48 Increased By ▲ 0.38 (0.12%)
HUBC 200.00 Decreased By ▼ -1.42 (-0.7%)
HUMNL 10.00 Decreased By ▼ -0.16 (-1.57%)
KEL 6.12 Increased By ▲ 0.03 (0.49%)
LOTCHEM 26.39 Decreased By ▼ -0.07 (-0.26%)
MLCF 91.80 Decreased By ▼ -1.36 (-1.46%)
OGDC 315.00 Decreased By ▼ -1.73 (-0.55%)
PAEL 35.18 Decreased By ▼ -0.45 (-1.26%)
PIBTL 14.65 Decreased By ▼ -0.03 (-0.2%)
PIOC 240.89 Decreased By ▼ -2.32 (-0.95%)
PPL 222.72 Decreased By ▼ -4.19 (-1.85%)
PRL 91.39 Decreased By ▼ -1.63 (-1.75%)
SNGP 91.00 Decreased By ▼ -0.84 (-0.91%)
SSGC 23.35 Decreased By ▼ -0.46 (-1.93%)
TELE 7.70 Decreased By ▼ -0.10 (-1.28%)
TPLP 12.61 Decreased By ▼ -0.36 (-2.78%)
TRG 56.50 Decreased By ▼ -0.06 (-0.11%)
UNITY 8.08 Increased By ▲ 0.01 (0.12%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
کاروبار اور معیشت

وزیر خزانہ کی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ آر ای آئی ٹیز کے فروغ کیلئے مشاورت

  • اجلاس میں سرکاری و نجی شعبے کے اہم اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی
شائع اپ ڈیٹ

وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے ہفتہ کے روز ریئل اسٹیٹ انویسٹمنٹ ٹرسٹس (آر ای آئی ٹیز) کے فروغ اور انہیں مراعات دینے سے متعلق اقدامات پر غور کے لیے فوکس گروپ کے ایک ورچوئل اجلاس کی صدارت کی۔

وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اجلاس میں سرکاری و نجی شعبے کے اہم اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی، جنہوں نے آر ای آئی ٹی فریم ورک کو مضبوط بنانے اور اسے اقتصادی سرگرمیوں اور کیپٹل مارکیٹ کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنانے کے لیے مختلف تجاویز پر تبادلہ خیال کیا۔

وزیر خزانہ نے اسٹیک ہولڈرز کی فعال شرکت کو سراہتے ہوئے کاروباری برادری، مالیاتی اداروں اور مارکیٹ کے شرکا کے تعمیری کردار کو پالیسی سازی کے عمل میں اہم قرار دیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اصلاحاتی عمل کو مارکیٹ کی ضروریات سے ہم آہنگ رکھنے کے لیے مسلسل اور منظم مشاورت ناگزیر ہے۔

اجلاس میں آر ای آئی ٹی سیکٹر کی ترقی اور وسعت سے متعلق اہم امور زیر غور آئے، جن میں ٹیکس نظام میں بہتری، آر ای آئی ٹی جاری کرنے والوں کے لیے طریقہ کار کو آسان بنانا، اور سرمایہ کاروں کی شرکت بڑھانے کے لیے مارکیٹ کے مجموعی نظام کو مضبوط بنانا شامل تھا۔ خاص طور پر ریٹیل سرمایہ کاروں کی شمولیت بڑھانے پر زور دیا گیا۔

شرکاء نے اس بات کا اعتراف کیا کہ پاکستان میں آر ای آئی ٹی مارکیٹ نے ابتدائی پیش رفت ضرور کی ہے، تاہم اس میں مزید وسعت کی گنجائش موجود ہے، جس کے لیے مؤثر پالیسی اقدامات اور بہتر ہم آہنگی ضروری ہے۔ طریقہ کار کی پیچیدگیوں کو کم کرنا، ضوابط میں وضاحت لانا اور اداروں کے درمیان تعاون کو فروغ دینا اس سلسلے میں اہم قرار دیا گیا۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ آر ای آئی ٹیز رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاری کو معیشت کے پیداواری شعبوں کی جانب منتقل کرنے کا ایک شفاف اور منظم ذریعہ فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے اس شعبے کو دستاویزی بنانے اور تعمیرات و ترقیاتی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں آر ای آئی ٹیز کے کردار کو بھی اجاگر کیا۔

اجلاس میں سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان سمیت متعلقہ اداروں کو ٹیکس، ریگولیٹری اور مارکیٹ سے متعلق امور پر تفصیلی جائزے کے لیے مخصوص ذمہ داریاں سونپ دی گئیں، تاکہ ایک مؤثر اور نتیجہ خیز اصلاحاتی حکمت عملی کو یقینی بنایا جا سکے۔

Comments

200 حروف