BR100 Increased By (0.12%)
BR30 Increased By (0.28%)
KSE100 Increased By (0.26%)
KSE30 Increased By (0.26%)
BAFL 58.16 Decreased By ▼ -1.57 (-2.63%)
BIPL 27.23 Increased By ▲ 0.23 (0.85%)
BOP 34.40 Increased By ▲ 0.29 (0.85%)
CNERGY 13.11 Increased By ▲ 0.27 (2.1%)
DFML 18.40 Increased By ▲ 0.15 (0.82%)
DGKC 213.66 Increased By ▲ 0.64 (0.3%)
FABL 99.56 Increased By ▲ 0.57 (0.58%)
FCCL 58.06 Increased By ▲ 0.40 (0.69%)
FFL 16.23 Increased By ▲ 0.03 (0.19%)
GGL 23.98 Increased By ▲ 0.18 (0.76%)
HBL 338.16 Increased By ▲ 4.45 (1.33%)
HUBC 213.36 Increased By ▲ 1.93 (0.91%)
HUMNL 10.58 Increased By ▲ 0.06 (0.57%)
KEL 7.43 Decreased By ▼ -0.05 (-0.67%)
LOTCHEM 27.67 Decreased By ▼ -0.32 (-1.14%)
MLCF 102.75 Increased By ▲ 2.10 (2.09%)
OGDC 318.92 Decreased By ▼ -1.37 (-0.43%)
PAEL 43.10 Decreased By ▼ -0.02 (-0.05%)
PIBTL 16.63 Increased By ▲ 0.07 (0.42%)
PIOC 273.00 Increased By ▲ 1.27 (0.47%)
PPL 229.45 Increased By ▲ 0.61 (0.27%)
PRL 70.80 Decreased By ▼ -0.22 (-0.31%)
SNGP 104.58 Increased By ▲ 2.36 (2.31%)
SSGC 27.41 Increased By ▲ 0.73 (2.74%)
TELE 8.53 Decreased By ▼ -0.08 (-0.93%)
TPLP 15.76 Increased By ▲ 0.65 (4.3%)
TRG 60.29 Increased By ▲ 0.45 (0.75%)
UNITY 11.72 Decreased By ▼ -0.33 (-2.74%)
WTL 1.20 Decreased By ▼ -0.03 (-2.44%)
دنیا

ایرانی وزیر خارجہ روس پہنچ گئے، ٹرمپ کی ایران کو مذاکرات کی دعوت

  • مذاکرات میں سب سے بڑا تنازع ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز تک رسائی ہے
شائع اپ ڈیٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اگر چاہے تو امریکہ سے رابطہ کر سکتا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان دو ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کیے جا سکیں، جبکہ اسی دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پیر کے روز روس پہنچے تاکہ صدر ولادیمیر پیوٹن سے حمایت حاصل کی جا سکے۔

اتوار کے روز دی سنڈے بریفنگ میں فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ بات کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے پاس آ سکتے ہیں یا ہمیں کال کر سکتے ہیں، آپ جانتے ہیں ہمارے پاس ٹیلیفون ہے اور محفوظ لائنیں بھی موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران جانتا ہے کہ معاہدے میں کیا ہونا چاہیے، اور سب سے اہم شرط یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا، ورنہ ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں۔

امن کی کوششیں اس وقت تعطل کا شکار ہو گئیں جب ٹرمپ نے ہفتے کے روز اپنے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا اسلام آباد کا مجوزہ دورہ منسوخ کر دیا۔ اس کے بعد ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان اور عمان میں ثالثی مذاکرات کے بعد روس کا رخ کیا۔

مذاکرات میں سب سے بڑا تنازع ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز تک رسائی ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ جنگ بندی کے باوجود حالات کشیدہ ہیں اور عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور اسٹاک فیوچرز میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایران نے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکہ کو ایک نیا تجویز نامہ بھیجا ہے جس میں آبنائے ہرمز کھولنے اور جنگ کے خاتمے کی بات شامل ہے، جبکہ جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ادھر روس میں ایرانی سفیر نے کہا کہ عباس عراقچی صدر پیوٹن سے ملاقات کریں گے تاکہ ممالک کے مفادات کے تحفظ اور بیرونی دباؤ کے خلاف سفارتی کوششیں جاری رکھی جا سکیں۔

دوسری جانب اختلافات صرف جوہری پروگرام تک محدود نہیں، بلکہ ایران کی علاقائی اتحادی تنظیموں اور میزائل صلاحیتوں پر بھی امریکہ اور ایران کے درمیان شدید اختلاف پایا جاتا ہے، جبکہ اسرائیلی حملے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔

Comments

200 حروف