ایرانی وزیر خارجہ روس پہنچ گئے، ٹرمپ کی ایران کو مذاکرات کی دعوت
- مذاکرات میں سب سے بڑا تنازع ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز تک رسائی ہے
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران اگر چاہے تو امریکہ سے رابطہ کر سکتا ہے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان دو ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کیے جا سکیں، جبکہ اسی دوران ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی پیر کے روز روس پہنچے تاکہ صدر ولادیمیر پیوٹن سے حمایت حاصل کی جا سکے۔
اتوار کے روز دی سنڈے بریفنگ میں فاکس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ اگر وہ بات کرنا چاہتے ہیں تو ہمارے پاس آ سکتے ہیں یا ہمیں کال کر سکتے ہیں، آپ جانتے ہیں ہمارے پاس ٹیلیفون ہے اور محفوظ لائنیں بھی موجود ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران جانتا ہے کہ معاہدے میں کیا ہونا چاہیے، اور سب سے اہم شرط یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا، ورنہ ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں۔
امن کی کوششیں اس وقت تعطل کا شکار ہو گئیں جب ٹرمپ نے ہفتے کے روز اپنے ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا اسلام آباد کا مجوزہ دورہ منسوخ کر دیا۔ اس کے بعد ایرانی وزیر خارجہ نے پاکستان اور عمان میں ثالثی مذاکرات کے بعد روس کا رخ کیا۔
مذاکرات میں سب سے بڑا تنازع ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز تک رسائی ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم ہے۔ جنگ بندی کے باوجود حالات کشیدہ ہیں اور عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور اسٹاک فیوچرز میں اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران نے پاکستانی ثالثوں کے ذریعے امریکہ کو ایک نیا تجویز نامہ بھیجا ہے جس میں آبنائے ہرمز کھولنے اور جنگ کے خاتمے کی بات شامل ہے، جبکہ جوہری مذاکرات کو بعد کے مرحلے تک مؤخر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ادھر روس میں ایرانی سفیر نے کہا کہ عباس عراقچی صدر پیوٹن سے ملاقات کریں گے تاکہ ممالک کے مفادات کے تحفظ اور بیرونی دباؤ کے خلاف سفارتی کوششیں جاری رکھی جا سکیں۔
دوسری جانب اختلافات صرف جوہری پروگرام تک محدود نہیں، بلکہ ایران کی علاقائی اتحادی تنظیموں اور میزائل صلاحیتوں پر بھی امریکہ اور ایران کے درمیان شدید اختلاف پایا جاتا ہے، جبکہ اسرائیلی حملے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا رہے ہیں۔
























Comments