امریکی وفد کی مذاکرات کے لیے آج اسلام آباد روانگی، ایران کا براہِ راست ملاقات سے انکار
- ایران کے پاس امریکہ کے ساتھ ایک اچھا معاہدہ کرنے کا موقع موجود ہے، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ
امریکی مذاکرات کاروں کی ہفتے کو پاکستان روانگی متوقع ہے، تاہم ایران نے واضح کیا ہے کہ اس کے حکام کا امریکی وفد سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وِٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر ہفتے کی صبح ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ مذاکرات کے لیے روانہ ہونے والے ہیں۔
وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے صحافیوں کو بتایا کہ ایران کے پاس امریکہ کے ساتھ ایک اچھا معاہدہ کرنے کا موقع موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران جانتا ہے کہ ان کے پاس اب بھی سمجھداری سے انتخاب کرنے کے لیے ایک کھڑکی کھلی ہے۔ انہیں صرف اتنا کرنا ہے کہ بامعنی اور قابلِ تصدیق طریقوں سے جوہری ہتھیاروں کو ترک کردیں۔
ایران کی جانب سے معاہدے کی پیشکش متوقع، ڈونلڈ ٹرمپ کا انکشاف
یرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی جمعہ کو دارالحکومت اسلام آباد پہنچے تاہم ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ ایرانی حکام کا امریکی نمائندوں سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں اور تہران کے تحفظات ثالث پاکستان تک پہنچا دیے جائیں گے۔
وائٹ ہاؤس نے ایرانی بیان پر تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔
واشنگٹن اور تہران ایک مہنگے تعطل کا شکار ہیں کیونکہ ایران نے آبنائے ہرمز کو بڑی حد تک بند کر رکھا ہے جہاں سے عام طور پر عالمی تیل کی ترسیل کا پانچواں حصہ گزرتا ہے جبکہ امریکہ ایران کی تیل کی برآمدات کو روک رہا ہے۔ نویں ہفتے میں داخل ہونے والے اس تنازع نے توانائی کی قیمتوں کو کئی سالوں کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے جس سے مہنگائی میں اضافہ ہوا اور عالمی ترقی کے امکانات دھندلا گئے ہیں۔
ٹرمپ نے جمعہ کو رائٹرز کو بتایا کہ ایران ایک ایسی پیشکش کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے جس کا مقصد امریکی مطالبات کو پورا کرنا ہے، تاہم وہ نہیں جانتے کہ اس پیشکش میں کیا شامل ہے۔ انہوں نے یہ بتانے سے گریز کیا کہ واشنگٹن کس سے مذاکرات کر رہا ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ ہم ان لوگوں کے ساتھ معاملہ کر رہے ہیں جو ابھی بااختیار ہیں۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ امریکہ نے حالیہ دنوں میں ایرانی جانب سے کچھ پیش رفت دیکھی ہے اور امید ہے کہ اس ہفتے کے آخر میں مزید پیش رفت ہوگی جبکہ نائب صدر جے ڈی وینس بھی پاکستان جانے کے لیے تیار تھے۔
وینس، وِٹکوف، کشنر اور عراقچی کے ساتھ ساتھ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے دو ہفتے قبل اسلام آباد میں ہونے والے غیر حتمی مذاکرات میں حصہ لیا تھا۔
پاکستانی ذرائع کا کہنا ہے کہ عراقچی، جنہوں نے ایکس پر پوسٹ کیا کہ وہ پاکستان، عمان اور روس کا دورہ بھی کریں گے نے جمعہ کو سیرینا ہوٹل میں پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے ملاقات کی جہاں پہلے بھی مذاکرات ہوئے تھے جبکہ امریکی لاجسٹکس اور سیکیورٹی ٹیم اسلام آباد میں موجود تھی۔
جنگ بندی نافذ، آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی محدود آمد و رفت شروع
صدر ٹرمپ نے منگل کو یکطرفہ طور پر دو ہفتوں کی جنگ بندی میں توسیع کر دی تاکہ مذاکرات کاروں کو دوبارہ اکٹھا ہونے کے لیے مزید وقت مل سکے۔
امن مذاکرات کے مستقبل کے حوالے سے بے یقینی اور خطے میں تشدد کی نئی لہر کے باعث اس ہفتے تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں برینٹ کروڈ کے مستقبل کے سودوں میں 16 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔
جمعہ کو سامنے آنے والے شپنگ کے اعدادوشمار ظاہر کرتے ہیں کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران صرف پانچ بحری جہازوں نے آبنائے ہرمز عبور کیا جبکہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی جنگ سے قبل یہاں سے روزانہ تقریباً 130 جہاز گزرتے تھے۔ ان پانچ جہازوں میں ایرانی پٹرولیم مصنوعات کا ایک ٹینکر تو شامل تھا لیکن خام تیل لے جانے والا وہ کوئی بھی بڑا سپر ٹینکر شامل نہیں تھا جو عام طور پر عالمی توانائی کی منڈیوں کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔
جمعرات کو اسرائیل اور لبنان نے وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ کی ثالثی میں ہونے والی ملاقات کے دوران اپنی جنگ بندی میں تین ہفتوں کی توسیع کی تاہم جنوبی لبنان میں لڑائی کے خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آئے۔
اسرائیل نے گزشتہ ماہ اپنے شمالی پڑوسی ملک (لبنان) پر حملہ کیا تھا تاکہ سرحد پار حملوں کے بعد ایران کی اتحادی تنظیم حزب اللہ کا قلع قمع کر سکے۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہاں جنگ بندی مذاکرات کے لیے بنیادی شرط ہے۔























Comments