BR100 Decreased By (-0%)
BR30 Decreased By (-0.29%)
KSE100 Increased By (0%)
KSE30 Increased By (0.01%)
BAFL 57.00 Increased By ▲ 0.13 (0.23%)
BIPL 24.88 Decreased By ▼ -0.08 (-0.32%)
BOP 30.30 Decreased By ▼ -0.05 (-0.16%)
CNERGY 13.09 Decreased By ▼ -0.03 (-0.23%)
DFML 16.67 Increased By ▲ 0.77 (4.84%)
DGKC 192.10 Decreased By ▼ -0.35 (-0.18%)
FABL 94.39 Increased By ▲ 0.25 (0.27%)
FCCL 52.75 Decreased By ▼ -0.04 (-0.08%)
FFL 14.73 Increased By ▲ 0.01 (0.07%)
GGL 19.30 Decreased By ▼ -0.26 (-1.33%)
HBL 306.88 Increased By ▲ 0.78 (0.25%)
HUBC 201.50 Increased By ▲ 0.08 (0.04%)
HUMNL 10.14 Decreased By ▼ -0.02 (-0.2%)
KEL 6.11 Increased By ▲ 0.02 (0.33%)
LOTCHEM 26.52 Increased By ▲ 0.06 (0.23%)
MLCF 92.92 Decreased By ▼ -0.24 (-0.26%)
OGDC 315.30 Decreased By ▼ -1.43 (-0.45%)
PAEL 35.59 Decreased By ▼ -0.04 (-0.11%)
PIBTL 14.80 Increased By ▲ 0.12 (0.82%)
PIOC 243.00 Decreased By ▼ -0.21 (-0.09%)
PPL 224.72 Decreased By ▼ -2.19 (-0.97%)
PRL 93.16 Increased By ▲ 0.14 (0.15%)
SNGP 92.00 Increased By ▲ 0.16 (0.17%)
SSGC 23.75 Decreased By ▼ -0.06 (-0.25%)
TELE 7.88 Increased By ▲ 0.08 (1.03%)
TPLP 12.81 Decreased By ▼ -0.16 (-1.23%)
TRG 56.60 Increased By ▲ 0.04 (0.07%)
UNITY 8.06 Decreased By ▼ -0.01 (-0.12%)
WTL 1.02 Increased By ▲ 0.01 (0.99%)
پاکستان

ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں 60 روزہ توسیع زیر غور ہے، دفتر خارجہ

  • 17 اگست کو جنگ بندی کی مدت ختم ہونے میں ابھی چند روز باقی ہیں، اس لیے پاکستان نے معاملے کو ختم شدہ نہیں سمجھا، طاہر اندارنی
شائع اپ ڈیٹ

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں 60 روزہ توسیع زیر غور ہے اور پاکستان کو امید ہے کہ فریقین میں مذاکرات کے لیے حقیقی آمادگی موجود ہونے کی صورت میں جنگ بندی میں توسیع ہو جائے گی۔

بدھ کو ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران طاہر اندرابی نے کہا کہ 17 اگست کو جنگ بندی کی مدت ختم ہونے میں ابھی چند روز باقی ہیں، اس لیے پاکستان نے معاملے کو ختم شدہ نہیں سمجھا۔ امید ہے کہ مقررہ ڈیڈ لائن پوری نہ ہونے کی صورت میں بھی جنگ بندی میں توسیع ہوگی اور دونوں فریق دوبارہ مذاکرات کی جانب واپس آئیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آئندہ مذاکرات کے لیے فریم ورک اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) اور پاکستان، قطر مشترکہ اعلامیے میں پہلے ہی موجود ہے۔ پاکستان خلیج اور مشرق وسطیٰ کے بحران کے حل کے لیے دیگر برادر ممالک کے ساتھ مل کر مخلصانہ کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے اور دونوں فریقوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے بھرپور اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کشیدگی میں اضافے سے مایوس نہیں ہوتا اور نہ ہی عارضی سکون کے دوران ضرورت سے زیادہ پرامید ہوتا ہے، بلکہ تنازعات کے حل کے لیے فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے جاری رکھتا ہے۔

طاہر اندرابی نے بحیرہ احمر میں حوثی باغیوں کی جانب سے تجارتی جہاز پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے بتایا کہ واقعے میں 3 پاکستانی شہری جاں بحق اور ایک زخمی ہوا ہے۔ انہوں نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور بحری نقل و حرکت، سمندری سیکیورٹی اور عالمی تجارتی جہاز رانی کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان متعلقہ اتحاد کا رکن اور اس کے اعلامیے کا پابند ہے اور عالمی سپلائی چین اور بحری ٹریفک کے تحفظ کے لیے سعودی عرب اور دیگر اتحادی ممالک کی معاونت کے لیے تیار ہے۔

ترجمان نے آزاد جموں و کشمیر سے متعلق بھارتی وزارت خارجہ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کو انسانی حقوق پر بات کرنے سے پہلے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنے ریکارڈ کو دیکھنا چاہیے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی 2026 کی فنانشل ٹرانسپیرنسی رپورٹ پر انہوں نے کہا کہ پاکستان ان 67 ممالک میں شامل ہے جو مقررہ کم از کم معیار پر پورا نہیں اترے۔ تاہم پاکستان اس وقت آئی ایم ایف پروگرام میں ہے اور 3 جائزے مکمل کر چکا ہے، جبکہ اصلاحاتی عمل کو عالمی ریٹنگ ایجنسیوں اور آئی ایم ایف کی جانب سے سراہا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے ایرانی وزیر خارجہ اور اسپیکر پارلیمنٹ کو دورے کی دعوت دے رکھی ہے اور باہمی طور پر موزوں تاریخوں پر ان کے دورے متوقع ہیں۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

200 حروف