ٹرمپ اعلانات سے قبل ہونے والے سودوں سے ان سائیڈر ٹریڈنگ کے خدشات کو ہوا ملی، رپورٹ
- متعدد مواقع پر ان تجارتی سودوں سے بھاری منافع حاصل کیا گیا
ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے دوران غیر معمولی تجارتی سرگرمیوں کا ایک واضح رجحان سامنے آیا ہے جس میں تاجر امریکی صدر کے اہم اعلانات سے عین قبل بڑی سرمایہ کاری کرتے دکھائی دیتے ہیں، اس صورتحال نے ممکنہ ان سائیڈر ٹریڈنگ کے حوالے سے خدشات کو جنم دیا ہے۔
بی بی سی کے ایک تجزیے کے مطابق سوشل میڈیا پوسٹس یا میڈیا انٹرویوز کے منظرِ عام پر آنے سے چند گھنٹے، بلکہ بعض اوقات چند منٹ پہلے ہی ٹریڈنگ میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا جو ایک مستقل اور قابلِ توجہ رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق متعدد مواقع پر ان تجارتی سودوں سے بھاری منافع حاصل کیا گیا، کیونکہ متعلقہ اعلانات کے بعد مارکیٹوں نے شدید ردِعمل ظاہر کیا۔
رپورٹ کے مطابق اس کی ایک واضح ترین مثال 9 مارچ 2026 کو ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کے تنازع کے دوران سامنے آئی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سی بی ایس نیوز کو یہ بتانے سے تقریباً 47 منٹ قبل ہی تیل کی تجارت کے حجم میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا کہ جنگ تقریباً اختتام پذیر ہے۔ جیسے ہی یہ انٹرویو نشر ہوا، تیل کی قیمتوں میں تقریباً 25 فیصد کی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جن تاجروں نے یہ داؤ لگائے، انہوں نے تیل کی قیمتوں میں آنے والی اس تبدیلی سے ممکنہ طور پر کروڑوں ڈالر کا منافع کمایا۔
اسی طرح 23 مارچ کو جب ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ پلیٹ فارم پر ایران کے ساتھ انتہائی اچھی اور نتیجہ خیز بات چیت اور دشمنی کے مکمل اور حتمی خاتمے کے بارے میں پوسٹ شیئر کی۔
تیل کی منڈیوں نے فوری ردِعمل ظاہر کیا اور قیمتوں میں تیزی سے گراوٹ آئی۔ تاہم اس پوسٹ سے تقریباً 14 منٹ قبل ہی امریکی تیل کی قیمت پر غیر معمولی طور پر بھاری تعداد میں داؤ لگائے جا چکے تھے جسے ایک تجزیہ کار نے یقینی طور پر غیر فطری قرار دیا۔
بی بی سی کی رپورٹ میں یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ ایکویٹی مارکیٹوں (حصص بازار) میں بھی اسی طرح کے رجحانات دیکھے گئے ہیں۔
اپریل 2025 میں ٹرمپ کی جانب سے بڑے پیمانے پر عائد ٹیرف (محصولات) میں 90 روز کے وقفے کے اعلان سے کچھ ہی دیر پہلے تاجروں نے اسٹاک مارکیٹ میں تیزی کی بحالی پر بھاری داؤ لگانا شروع کردیے تھے۔
رپورٹ کے مطابق بینچ مارک ایس اینڈ پی 500 انڈیکس میں 9.5 فیصد کا اضافہ ہوا جو کہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد سے اب تک ایک ہی دن میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ تھا۔
مزید بتایا گیا کہ اطلاعات کے مطابق کچھ تاجروں نے 20 لاکھ ڈالر سے زائد کے داؤ لگائے جس سے تقریباً 2 کروڑ ڈالر کا منافع حاصل ہوا۔
بی بی سی نے مبینہ ان سائیڈر ٹریڈنگ کے چار دیگر واقعات کی فہرست بھی دی ہے جن میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کا واقعہ بھی شامل ہے۔
دریں اثنا تجزیہ کار ان اثرات کے حوالے سے منقسم ہیں۔ کچھ کا کہنا ہے کہ ان تجارتی سودوں میں غیر قانونی ان سائیڈر ٹریڈنگ کی تمام علامات موجود ہیں جبکہ دیگر کا خیال ہے کہ مارکیٹ کے شرکاء شاید اب ٹرمپ کے اقدامات کا زیادہ مؤثر طریقے سے پہلے ہی اندازہ لگا لیتے ہیں۔
قانونی ماہرین نے یہ انتباہ بھی کیا ہے کہ کسی بھی غلط کام کو ثابت کرنا مشکل کام ہے۔ مزید برآں امریکی ریگولیٹرز نے اب تک ان سائیڈر ٹریڈنگ کے ان الزامات میں سے کسی کی بھی تصدیق یا اعتراف نہیں کیا ہے۔























Comments