ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ ملک کو امریکا کی جانب سے موصول ہونے والی ”نئی تجاویز“ کا جائزہ لیا جا رہا ہے، تاہم ساتھ ہی واضح کیا ہے کہ ایرانی مذاکرات کار واشنگٹن کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں کریں گے۔
سرکاری میڈیا کے مطابق سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے بیان میں کہا گیا ہے کہ ”گزشتہ دنوں پاکستان کی فوج کے سربراہ کی تہران میں بطور ثالث اور مذاکرات میں سہولت کار موجودگی کے دوران امریکی فریق کی جانب سے نئی تجاویز پیش کی گئی ہیں، جن کا اسلامی جمہوریہ ایران اس وقت جائزہ لے رہا ہے اور ابھی تک اس کا کوئی جواب نہیں دیا گیا۔“
ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے بیان کے مطابق ایرانی مذاکراتی وفد ”کسی بھی قسم کی معمولی سی رعایت، پسپائی یا نرمی“ نہیں کرے گا اور ایران کے قومی مفادات کا پوری قوت سے دفاع کرے گا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان دونوں فریقین کے درمیان مرکزی ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے، اور اسی کی میزبانی میں اسلام آباد میں گزشتہ ہفتے ہونے والے ابتدائی مذاکرات ہوئے جو کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئے۔
نئی تجاویز کا انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا جب ایران نے اعلان کیا کہ وہ اپنے بندرگاہوں پر جاری امریکی ناکہ بندی کے جواب میں آبنائے ہرمز کی بندش دوبارہ نافذ کر رہا ہے، جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واشنگٹن کو ”بلیک میل“ کرنے کی کوشش کے خلاف انتباہ جاری کیا۔
سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے کہا ہے کہ ”ایران جنگ کے حتمی خاتمے تک آبنائے ہرمز سے گزرنے والی ٹریفک کی نگرانی اور کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے“، اور اس بات پر زور دیا کہ امریکی ناکہ بندی کسی بھی ”مشروط یا محدود دوبارہ کھلنے“ کی اجازت نہیں دیتی۔
کونسل کے مطابق کسی بھی ممکنہ کھولنے کی صورت میں ایران جہازوں کے لیے ٹرانزٹ سرٹیفکیٹس جاری کرے گا، جبکہ سیکیورٹی، حفاظت اور ماحولیاتی تحفظ سے متعلق خدمات کی فیس کی ادائیگی بھی لازمی ہوگی۔






















Comments