BR100 Increased By (0.71%)
BR30 Increased By (1.01%)
KSE100 Increased By (0.45%)
KSE30 Increased By (0.47%)
BAFL 58.57 Increased By ▲ 0.13 (0.22%)
BIPL 25.58 Increased By ▲ 0.38 (1.51%)
BOP 34.35 Increased By ▲ 0.36 (1.06%)
CNERGY 8.20 Increased By ▲ 0.09 (1.11%)
DFML 20.96 Increased By ▲ 0.12 (0.58%)
DGKC 195.96 Increased By ▲ 2.99 (1.55%)
FABL 89.95 Increased By ▲ 0.16 (0.18%)
FCCL 53.65 Increased By ▲ 0.82 (1.55%)
FFL 18.13 Increased By ▲ 0.18 (1%)
GGL 19.60 Increased By ▲ 0.63 (3.32%)
HBL 286.50 Increased By ▲ 1.00 (0.35%)
HUBC 215.79 Increased By ▲ 1.41 (0.66%)
HUMNL 10.93 Increased By ▲ 0.05 (0.46%)
KEL 8.11 Increased By ▲ 0.09 (1.12%)
LOTCHEM 27.70 Decreased By ▼ -0.19 (-0.68%)
MLCF 87.35 Increased By ▲ 0.84 (0.97%)
OGDC 323.90 Increased By ▲ 3.94 (1.23%)
PAEL 39.90 Increased By ▲ 0.48 (1.22%)
PIBTL 17.47 Increased By ▲ 0.80 (4.8%)
PIOC 268.97 Increased By ▲ 2.91 (1.09%)
PPL 229.58 Increased By ▲ 1.40 (0.61%)
PRL 34.84 Increased By ▲ 0.16 (0.46%)
SNGP 99.79 Increased By ▲ 0.61 (0.62%)
SSGC 27.08 Increased By ▲ 0.48 (1.8%)
TELE 8.60 Increased By ▲ 0.32 (3.86%)
TPLP 8.58 Increased By ▲ 0.36 (4.38%)
TRG 70.35 Increased By ▲ 0.64 (0.92%)
UNITY 11.69 Increased By ▲ 0.02 (0.17%)
WTL 1.29 Increased By ▲ 0.01 (0.78%)

وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی جس میں ملک میں خوراک کی فراہمی کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا اور بدلتے ہوئے علاقائی حالات کے تناظر میں خلیجی ممالک کو غذائی اشیاء کی برآمدات بڑھانے کے مواقع پر غور کیا گیا۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان کے پاس اس وقت غذائی اشیاء کے وافر ذخائر موجود ہیں اور ملک میں ضروری اشیاء کی کوئی کمی نہیں ہے۔ وزیراعظم نے حکام کو ہدایت کی کہ رسد اور طلب کی کڑی نگرانی کی جائے، تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ ملکی غذائی ضروریات مکمل طور پر پوری رہیں۔

وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی سپلائی چین میں تعطل نے پاکستان کے لیے علاقائی منڈیوں خاص طور پر خلیجی خطے میں اپنی مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کا موقع پیدا کر دیا ہے۔ انہوں نے حکام کو ہدایت کی کہ پاکستان کی اپنی غذائی حفاظت کو متاثر کیے بغیر اضافی غذائی اشیاء دوست خلیجی ممالک کو برآمد کرنے کے لیے ایک جامع حکمت عملی مرتب کی جائے۔

وزیراعظم نے یہ بھی واضح کیا کہ تمام غذائی برآمدات کے لیے اعلیٰ معیار کے معیارات کو ہر صورت یقینی بنایا جائے۔ مزید برآں انہوں نے پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن (پی این ایس سی) کو ہدایت کی کہ سمندری راستوں کے ذریعے خلیجی ممالک تک غذائی اشیاء کی ترسیل کو آسان بنانے کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔

اجلاس کے دوران شرکاء کو ملک میں غذائی اشیاء کے موجودہ ذخائر اور پیداواری سطح کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ حکام نے بتایا کہ پاکستان زرعی شعبے بشمول اجناس، گوشت، پولٹری، ڈیری اور سی فوڈ (سمندری خوراک) میں برآمدات کی وسیع صلاحیت رکھتا ہے۔

وزیراعظم نے ایک کمیٹی قائم کرنے کی بھی ہدایت کی جو روزانہ کی بنیاد پر صورتحال کا جائزہ لے گی۔ انہوں نے خلیجی ممالک میں تعینات پاکستانی سفیروں اور ٹریڈ افسران کو برآمدات کے فروغ کے لیے متحرک رہنے کی ہدایت بھی کی۔

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء جام کمال خان، رانا تنویر حسین، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان سمیت اعلیٰ حکام، صوبائی چیف سیکرٹریز اور نجی شعبے کی متعلقہ تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

Comments

200 حروف