امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ کیخلاف قرارداد مسترد کر دی، ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت
- ووٹنگ میں 219 ارکان نے قرارداد کی مخالفت جبکہ 212 نے حمایت کی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے جمعرات کو ایک قرارداد مسترد کر دی جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف جاری فضائی کارروائی کو روکنے اور ایران کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کے لیے کانگریس کی منظوری لازمی قرار دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ ووٹنگ میں 219 ارکان نے قرارداد کی مخالفت جبکہ 212 نے حمایت کی، جس کے بعد ریپبلکن صدر کی فوجی مہم کو عملی طور پر حمایت مل گئی۔
یہ ووٹنگ زیادہ تر جماعتی بنیادوں پر ہوئی کیونکہ ایوان میں ریپبلکن پارٹی کو معمولی اکثریت حاصل ہے۔ دو ریپبلکن ارکان نے قرارداد کے حق میں جبکہ چار ڈیموکریٹس نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔ قرارداد کے مخالفین نے ڈیموکریٹس پر الزام لگایا کہ وہ صرف ٹرمپ کی مخالفت کی وجہ سے اس معاملے کو ووٹنگ کے لیے لا رہے ہیں جس سے امریکیوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
ایوان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے ریپبلکن چیئرمین رک کرافورڈ نے بحث کے دوران کہا کہ اگر صدر کا نام ڈونلڈ ٹرمپ نہ ہوتا تو یہ معاملہ ایوان میں زیر بحث ہی نہ آتا۔
قرارداد کے حامیوں کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد آئین کے مطابق جنگ کی منظوری دینے کا اختیار دوبارہ کانگریس کے پاس لانا ہے۔ ڈیموکریٹ رکن گریگوری میکس نے کہا کہ یہ ایسی جنگ ہے جسے حکومت نے واضح مقاصد یا حکمت عملی کے بغیر شروع کیا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل نے گزشتہ ہفتے ایران پر حملے شروع کیے تھے جس کے نتیجے میں اب تک ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ خطے میں کشیدگی اور عدم استحکام میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی سینیٹ بھی ایک الگ ووٹنگ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی حمایت کر چکی ہے۔
























Comments