دبئی محفوظ پناہ گاہ کی حیثیت سخت آزمائش میں
- ہفتے کے روز ایران کی جوابی کارروائیوں کے دوران میزائل حملوں نے دبئی کے اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا
خلیجی کشیدگی کے حالیہ مرحلے نے دبئی کی اس شناخت کو دھچکا پہنچایا ہے جو گزشتہ چار دہائیوں میں ایک محفوظ اور مستحکم کاروباری مرکز کے طور پر قائم کی گئی تھی۔
ہفتے کے روز ایران کی جوابی کارروائیوں کے دوران میزائل حملوں نے دبئی کے اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا، جن میں دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ، جبل علی بندرگاہ کا ایک برتھ اور معروف ہوٹل برج العرب شامل ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کے مطابق ان حملوں میں 3 افراد ہلاک اور 58 زخمی ہوئے۔
متحدہ عرب امارات کی نیشنل ایمرجنسی کرائسز اینڈ ڈیزاسٹرز مینجمنٹ اتھارٹی نے صورت حال کو قابو میں قرار دیا، تاہم شہر میں خوف کی فضا برقرار ہے۔ ہزاروں افراد فضائی حدود کی بندش کے باعث پھنسے رہے جبکہ ابوظہبی اور دبئی کی اسٹاک مارکیٹس 2 دن کے لیے بند کر دی گئیں، جو ملکی تاریخ میں غیر معمولی اقدام ہے۔
دبئی کی معیشت اب تقریباً مکمل طور پر غیر تیل شعبوں پر انحصار کرتی ہے، جہاں تیل کا حصہ مجموعی قومی پیداوار کا 2 فیصد سے بھی کم رہ گیا ہے۔ تجارت، سیاحت، جائیداد اور مالیاتی خدمات نے اسے عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش بنایا۔ 2004 میں دبئی انٹرنیشنل فنانشل سینٹر کے قیام کے بعد 290 سے زائد بینک، 100 سے زیادہ ہیج فنڈز اور سینکڑوں ویلتھ مینجمنٹ ادارے یہاں قائم ہوئے۔
ماہرین کے مطابق اگر جنگ طول پکڑتی ہے تو دبئی کی محفوظ پناہ گاہ کی حیثیت متاثر ہو سکتی ہے۔ سونے کی طلب میں اضافہ اور سرمایہ کاروں کی جانب سے متبادل مقامات کی تلاش اس بات کا اشارہ ہے کہ طویل کشیدگی شہر کے معاشی ماڈل کے لیے بڑا چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔
























Comments