BR100 Decreased By (-0.4%)
BR30 Decreased By (-0.65%)
KSE100 Decreased By (-0.29%)
KSE30 Decreased By (-0.22%)
BAFL 56.50 Increased By ▲ 0.03 (0.05%)
BIPL 24.78 Increased By ▲ 0.15 (0.61%)
BOP 29.93 Decreased By ▼ -0.19 (-0.63%)
CNERGY 12.72 Decreased By ▼ -0.26 (-2%)
DFML 18.48 Increased By ▲ 0.99 (5.66%)
DGKC 187.07 Decreased By ▼ -0.15 (-0.08%)
FABL 93.18 Decreased By ▼ -0.53 (-0.57%)
FCCL 51.13 Decreased By ▼ -0.52 (-1.01%)
FFL 14.41 Decreased By ▼ -0.08 (-0.55%)
GGL 18.80 Decreased By ▼ -0.24 (-1.26%)
HBL 302.29 Decreased By ▼ -1.49 (-0.49%)
HUBC 198.64 Decreased By ▼ -0.32 (-0.16%)
HUMNL 9.68 Decreased By ▼ -0.17 (-1.73%)
KEL 5.97 Decreased By ▼ -0.09 (-1.49%)
LOTCHEM 26.25 Increased By ▲ 0.08 (0.31%)
MLCF 90.14 Decreased By ▼ -1.09 (-1.19%)
OGDC 314.62 Increased By ▲ 1.23 (0.39%)
PAEL 34.77 Decreased By ▼ -0.47 (-1.33%)
PIBTL 14.20 Decreased By ▼ -0.51 (-3.47%)
PIOC 234.00 Decreased By ▼ -5.62 (-2.35%)
PPL 220.66 Decreased By ▼ -0.70 (-0.32%)
PRL 90.35 Decreased By ▼ -0.87 (-0.95%)
SNGP 90.36 Decreased By ▼ -0.51 (-0.56%)
SSGC 23.27 Decreased By ▼ -0.03 (-0.13%)
TELE 7.36 Decreased By ▼ -0.25 (-3.29%)
TPLP 12.10 Decreased By ▼ -0.46 (-3.66%)
TRG 54.39 Decreased By ▼ -1.40 (-2.51%)
UNITY 7.95 Decreased By ▼ -0.07 (-0.87%)
WTL 1.00 No Change ▼ 0.00 (0%)
مارکٹس

لبنان-اسرائیل جنگ بندی کے بعد ایران معاہدے کی امیدیں، تیل کی قیمتوں میں کمی

  • برینٹ خام تیل کی قیمت میں 2.82 ڈالر (2.88 فیصد) کمی، 94.99 ڈالر فی بیرل پر آ گیا
شائع اپ ڈیٹ

عالمی منڈی میں جمعرات کو تیل کی قیمتوں میں تقریباً 3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، کیونکہ سرمایہ کار لبنان اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع کے خاتمے کی امیدیں لگا رہے ہیں، جس سے آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے کی توقعات بھی بڑھ گئی ہیں۔

برینٹ خام تیل کے فیوچرز 2.82 ڈالر (2.88 فیصد) کمی کے ساتھ 94.99 ڈالر فی بیرل پر آگئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) خام تیل 3.19 ڈالر (3.32 فیصد) کمی کے بعد 92.83 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ یہ اعداد و شمار 11:21 بجے (ای ڈی ٹی) کے مطابق ہیں۔

منگل کو ان معاہدوں میں تقریباً 2 فیصد اضافہ دیکھا گیا تھا، جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی دوبارہ بڑھ گئی تھی، جس میں ایران کے کویت پر حملے اور آبنائے ہرمز کے قریب امریکی فوجی کارروائیاں شامل تھیں۔

مارکیٹ ماہرین کے مطابق حالیہ پیش رفت نے خطے میں کشیدگی میں ممکنہ کمی اور توانائی کی سپلائی کے استحکام کی امیدوں کو تقویت دی ہے۔

توانائی کے تجزیہ کاروں کے مطابق خام تیل کی فیوچرز قیمتیں بدھ کے روز ہونے والے اضافے کو واپس لے رہی ہیں، کیونکہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن معاہدے کی خبروں نے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے تسلسل کی امیدیں بڑھا دی ہیں۔

بی او کے فنانشل کے سینئر نائب صدر برائے ٹریڈنگ ڈینس کِسلر نے کہا کہ:

”خام تیل کے فیوچرز گزشتہ روز کی تیزی کو ریورس کر رہے ہیں بلکہ اس سے بھی زیادہ کمی دکھا رہے ہیں، کیونکہ خبر ہے کہ اسرائیل اور لبنان نے امن معاہدہ کر لیا ہے، جس سے امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات جاری رہنے کی گنجائش پیدا ہوگی۔“

انہوں نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز میں شپنگ ٹریفک اب بھی تقریباً رکی ہوئی ہے، تاہم کچھ بحری جہازوں کی دوبارہ پوزیشننگ اس طرف اشارہ کر رہی ہے کہ خلیج فارس جلد کھل سکتی ہے۔

دوسری جانب لبنان کے حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے کہا کہ جب تک لبنانی دیہات پر بمباری اور شہریوں کی ہلاکتیں جاری رہیں گی، شمالی اسرائیل بھی محفوظ نہیں ہوگا، اور اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کو انہوں نے ”بے شرمی“ قرار دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو عندیہ دیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں اسی ہفتے کے آخر تک پیش رفت ممکن ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران اور واشنگٹن کے رابطے منقطع نہیں ہوئے، تاہم مذاکرات میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی، اور دونوں فریق زیرِ تبادلہ مسودوں کا جائزہ لے رہے ہیں۔

امریکہ میں ایوانِ نمائندگان نے بدھ کے روز ایک قرارداد منظور کی جس کا مقصد صدر ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے سے روکنا ہے، تاہم اس کے نفاذ کے لیے سینیٹ کی منظوری اور دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔

یو بی ایس کے تجزیہ کار جیووانی اسٹانووو نے کہا کہ جب تک سپلائی محدود رہے گی، قیمتوں کے لیے اوپر جانے کا رجحان زیادہ مضبوط رہے گا۔

روس کے نائب وزیراعظم الیکزینڈر نوواک نے کہا کہ غیر متوقع ریفائنری مینٹیننس کے باعث رواں سال روسی تیل کی پیداوار میں کمی آئی ہے، جو کہ پہلی بار ہے کہ کسی روسی اہلکار نے اس کمی کو تسلیم کیا ہے۔

امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق 29 مئی کو ختم ہونے والے ہفتے میں خام تیل کے ذخائر 8 ملین بیرل کم ہو کر 433.7 ملین بیرل رہ گئے، جو تجزیہ کاروں کی توقع سے کہیں زیادہ کمی ہے۔

تاجروں کے مطابق ایرانی تیل پہلی بار اپریل کے بعد ڈسکاؤنٹ پر آ گیا ہے، جبکہ روسی خام تیل کی قیمتوں میں بھی کمی دیکھی گئی ہے کیونکہ کمزور طلب کے باعث خریداروں کو راغب کرنے کے لیے قیمتیں گھٹائی جا رہی ہیں۔

اوپیک کے سیکرٹری جنرل حیثم الغیص نے سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم میں کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے باوجود عالمی تیل کی طلب میں مضبوط اضافہ جاری رہے گا اور تنظیم اپنی پیشگوئیوں میں کوئی تبدیلی نہیں کر رہی۔

Comments

200 حروف