اسٹاک ایکسچینج میں شدید اتار چڑھاؤ : کے ایس ای 100 انڈیکس 700 پوائنٹس گر گیا
- بینچ مارک انڈیکس 170,478.94 کی سطح پر بند
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں جمعہ کو شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جس کے باعث بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس تقریباً 700 پوائنٹس کی گراوٹ کے ساتھ ہفتے کے اختتام پر مندی کا شکار ہو کر بند ہوا۔
کاروبار کے دوران مارکیٹ میں 1,848 پوائنٹس کا بڑا اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آیا، جہاں انڈیکس ایک وقت میں 172,102.91 پوائنٹس کی بلند ترین سطح کو چھو گیا، تاہم بعد میں یہ گر کر 170,254.64 پوائنٹس کی کم ترین سطح پر آ گیا۔
کاروباری سیشن کے دوسرے ہاف میں فروخت کا دباؤ بڑھنے کی وجہ سے مارکیٹ میں ابتدا میں ہونے والا اضافہ زائل ہو گیا اور انڈیکس منفی زون میں چلا گیا۔
کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 696.56 پوائنٹس یا 0.41 فیصد کی کمی کے ساتھ 170,478.94 کی سطح پر بند ہوا۔
بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے مارکیٹ کے اختتام پر جاری کردہ اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مارکیٹ میں محتاط کاروباری سرگرمی کی بڑی وجہ رواں ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان امن مذاکرات میں محدود پیش رفت تھی۔ دوسری جانب خطے میں اپریل میں قائم ہونے والی کمزور جنگ بندی کے باوجود جھڑپیں جاری رہنے سے نئی کشیدگی برقرار رہی جبکہ لبنان میں جاری لڑائی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو مزید متاثر کیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ انڈیکس کو سہارا دینے میں سب سے مثبت کردار پی ایس ایکس، جے وی ڈی سی، کے ٹی ایم ایل، ایم ٹی ایل اور این پی ایل نے ادا کیا، جنہوں نے مجموعی طور پر انڈیکس میں 138 پوائنٹس کا اضافہ کیا۔ دوسری طرف یو بی ایل، او جی ڈی سی، پی پی ایل، ایم سی بی اور میزان بینک (ایم ای بی ایل) کی قدر میں کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے باعث انڈیکس پر 476 پوائنٹس کا دباؤ آیا۔
جمعرات کو اسٹاک ایکسچینج نے اپنی تیزی کا سلسلہ برقرار رکھا کیونکہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ سفارتی پیش رفت سے متعلق محتاط امید نے بڑے شیئرز میں منتخب خریداری کو فروغ دیا جس کے نتیجے میں بینچ مارک انڈیکس مضبوط سطح پر بند ہوا۔
گزشتہ روز بینچ مارک 100 انڈیکس 984.86 پوائنٹس یا 0.58 فیصد اضافے سے 171,175.51 پوائنٹس پر بند ہوا۔
بین الاقوامی سطح پر جمعہ کو ایشیائی شیئر بازاروں میں کمی دیکھی گئی کیونکہ سرمایہ کاروں نے ٹیکنالوجی اسٹاکس میں منافع سمیٹا اور ہفتے کے اختتام سے قبل محتاط رویہ اختیار کیا۔ اس کی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور امریکا-ایران امن مذاکرات کا تعطل کا شکار ہونا تھا۔
ایران کی حمایت یافتہ حزب اللہ نے جمعرات کو لبنان میں جنگ بندی کے نئے معاہدے کو مسترد کردیا اور اسرائیل نے کہا کہ وہ ملک سے اپنی فوجیں واپس نہیں بلائے گا، جس سے لڑائی روکنے اور تہران کے ساتھ امن معاہدہ کرنے کی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوششوں کو دھچکا پہنچا ہے۔
دوسری جانب اے آئی سے متعلق تیزی جس نے ہفتے کے آغاز میں اسٹاکس کو سہارا دیا تھا مدھم پڑ گئی کیونکہ چِپ ساز کمپنی بریڈ کوم نے توقعات سے کمزور نتائج رپورٹ کیے۔
ان تمام عوامل کی وجہ سے جاپان کے علاوہ ایشیا بحرالکاہل کے حصص کے وسیع ترین ایم ایس سی آئی انڈیکس میں ابتدائی ایشیائی کاروبار کے دوران 1.6 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ دوسری جانب جنوبی کوریا کا ٹیکنالوجی کے غلبے والا کوسپی انڈیکس 6 فیصد سے زیادہ گرگیا جبکہ جاپان کے نکی انڈیکس میں 1.3 فیصد کی کمی دیکھی گئی۔
وال اسٹریٹ میں رات بھر ملے جلے رجحان کے بعد نیسڈیک فیوچرز میں 1 فیصد کمی آئی، جبکہ ایس اینڈ پی 500 فیوچرز 0.5 فیصد نیچے رہے۔ یورو اسٹاکس 50 فیوچرز میں 0.2 فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ ڈیکس فیوچرز 0.5 فیصد گر گئے اور ایف ٹی ایس ای فیوچرز بغیر کسی خاص تبدیلی کے مستحکم رہے۔
جمعہ کو خام تیل کی قیمتوں میں معمولی اتار چڑھاؤ دیکھا گیا کیونکہ تاجر امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کے حوالے سے مزید وضاحت کا انتظار کر رہے ہیں، تاہم ہفتے کے اوائل میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث طویل مدتی توانائی بحران کے خدشات کی وجہ سے یہ ہفتہ وار اضافے کی جانب گامزن ہیں۔
ادھر انٹربینک مارکیٹ میں جمعہ کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ کاروبار کے اختتام پر مقامی کرنسی 1 پیسے کے اضافے کے ساتھ 278.41 پر بند ہوئی۔
آل شیئر انڈیکس پر کاروباری حجم گزشتہ سیشن کے 697.16 ملین شیئرز سے بڑھ کر 727.17 ملین شیئرز تک پہنچ گیا۔ شیئرز کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 26.13 ارب روپے کے مقابلے میں بڑھ کر 26.75 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔
کاروباری حجم کے لحاظ سے ٹی پی ایل پراپرٹیز 42.06 ملین شیئرز کے ساتھ پہلے، ٹی پی ایل کارپوریشن لمیٹڈ 41.99 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے اور پیس (پاکستان) لمیٹڈ 41.81 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہی۔
جمعہ کو مجموعی طور پر 491 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں سے 248 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ، 205 میں کمی جبکہ 38 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔























Comments