BR100 Decreased By (-0.91%)
BR30 Decreased By (-1.47%)
KSE100 Decreased By (-0.78%)
KSE30 Decreased By (-0.75%)
BAFL 56.47 Decreased By ▼ -0.40 (-0.7%)
BIPL 24.63 Decreased By ▼ -0.33 (-1.32%)
BOP 30.12 Decreased By ▼ -0.23 (-0.76%)
CNERGY 12.98 Decreased By ▼ -0.14 (-1.07%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 187.22 Decreased By ▼ -5.23 (-2.72%)
FABL 93.71 Decreased By ▼ -0.43 (-0.46%)
FCCL 51.65 Decreased By ▼ -1.14 (-2.16%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.04 Decreased By ▼ -0.52 (-2.66%)
HBL 303.78 Decreased By ▼ -2.32 (-0.76%)
HUBC 198.96 Decreased By ▼ -2.46 (-1.22%)
HUMNL 9.85 Decreased By ▼ -0.31 (-3.05%)
KEL 6.06 Decreased By ▼ -0.03 (-0.49%)
LOTCHEM 26.17 Decreased By ▼ -0.29 (-1.1%)
MLCF 91.23 Decreased By ▼ -1.93 (-2.07%)
OGDC 313.39 Decreased By ▼ -3.34 (-1.05%)
PAEL 35.24 Decreased By ▼ -0.39 (-1.09%)
PIBTL 14.71 Increased By ▲ 0.03 (0.2%)
PIOC 239.62 Decreased By ▼ -3.59 (-1.48%)
PPL 221.36 Decreased By ▼ -5.55 (-2.45%)
PRL 91.22 Decreased By ▼ -1.80 (-1.94%)
SNGP 90.87 Decreased By ▼ -0.97 (-1.06%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.61 Decreased By ▼ -0.19 (-2.44%)
TPLP 12.56 Decreased By ▼ -0.41 (-3.16%)
TRG 55.79 Decreased By ▼ -0.77 (-1.36%)
UNITY 8.02 Decreased By ▼ -0.05 (-0.62%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)
دنیا

ایران میں احتجاجی لہر دوبارہ بیدار کرنے کے لیے ٹرمپ کا فضائی حملوں پر غور، ذرائع کا دعویٰ

  • ٹرمپ کے مشیروں کے زیرِ غور آپشنز میں بڑا حملہ بھی شامل ہے جس کا مقصد دیرپا اثرات مرتب کرنا ہے، امریکی ذرائع
شائع اپ ڈیٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں جاری احتجاجی تحریک کو تقویت دینے کے لیے ایرانی سیکورٹی فورسز اور قیادت پر محدود فضائی حملوں سمیت مختلف فوجی آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق ان کا مقصد حالیہ کریک ڈاؤن سے دب جانے والے مظاہرین کو یہ حوصلہ دینا ہے کہ وہ حکومتی عمارتوں پر قبضہ کر سکیں۔

ٹرمپ کے مشیروں کے زیرِ غور منصوبوں میں بیلسٹک میزائل تنصیبات یا جوہری پروگرام پر بڑے حملے بھی شامل ہیں، تاکہ دیرپا اثرات مرتب کیے جا سکیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے (آرمادہ) کی حالیہ آمد نے ٹرمپ کی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کر دیا ہے، تاہم عرب اور مغربی سفارت کاروں نے تشویش ظاہر کی ہے کہ ایسے حملے عوامی تحریک کو ابھارنے کے بجائے مزید کمزور کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب ایران نے کسی بھی تصادم کے لیے تیار رہنے کا اعلان کیا ہے جبکہ اقوامِ متحدہ میں ایرانی مشن کا کہنا ہے کہ وہ باہمی احترام کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہیں مگر کسی بھی حملے کا بھرپور دفاع کریں گے۔واشنگٹن فی الحال تہران کے جوہری پروگرام اور میزائلوں پر سخت پابندیوں کا خواہاں ہے۔

Comments

Comments are closed.