BR100 Decreased By (-1.39%)
BR30 Decreased By (-1.72%)
KSE100 Decreased By (-1.3%)
KSE30 Decreased By (-1.25%)
BAFL 56.74 Decreased By ▼ -0.95 (-1.65%)
BIPL 27.04 Decreased By ▼ -0.38 (-1.39%)
BOP 33.68 Decreased By ▼ -0.51 (-1.49%)
CNERGY 9.81 Increased By ▲ 0.19 (1.98%)
DFML 18.52 Decreased By ▼ -0.11 (-0.59%)
DGKC 207.87 Decreased By ▼ -5.16 (-2.42%)
FABL 98.90 Decreased By ▼ -1.89 (-1.88%)
FCCL 53.52 Decreased By ▼ -0.63 (-1.16%)
FFL 16.68 Decreased By ▼ -0.16 (-0.95%)
GGL 23.57 Decreased By ▼ -0.40 (-1.67%)
HBL 304.39 Decreased By ▼ -4.87 (-1.57%)
HUBC 218.11 Decreased By ▼ -3.42 (-1.54%)
HUMNL 10.66 Decreased By ▼ -0.23 (-2.11%)
KEL 7.35 Decreased By ▼ -0.24 (-3.16%)
LOTCHEM 29.11 Decreased By ▼ -1.32 (-4.34%)
MLCF 95.50 Decreased By ▼ -2.66 (-2.71%)
OGDC 317.94 Decreased By ▼ -5.42 (-1.68%)
PAEL 41.83 Decreased By ▼ -0.42 (-0.99%)
PIBTL 16.50 Decreased By ▼ -0.32 (-1.9%)
PIOC 280.01 Decreased By ▼ -5.95 (-2.08%)
PPL 219.74 Decreased By ▼ -4.99 (-2.22%)
PRL 44.59 Increased By ▲ 2.94 (7.06%)
SNGP 107.49 Decreased By ▼ -2.70 (-2.45%)
SSGC 28.93 Decreased By ▼ -0.38 (-1.3%)
TELE 8.76 Decreased By ▼ -0.23 (-2.56%)
TPLP 12.10 Decreased By ▼ -0.67 (-5.25%)
TRG 60.03 Decreased By ▼ -0.42 (-0.69%)
UNITY 10.11 Decreased By ▼ -0.26 (-2.51%)
WTL 1.23 Decreased By ▼ -0.04 (-3.15%)
دنیا

ایران میں احتجاجی لہر دوبارہ بیدار کرنے کے لیے ٹرمپ کا فضائی حملوں پر غور، ذرائع کا دعویٰ

  • ٹرمپ کے مشیروں کے زیرِ غور آپشنز میں بڑا حملہ بھی شامل ہے جس کا مقصد دیرپا اثرات مرتب کرنا ہے، امریکی ذرائع
شائع اپ ڈیٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران میں جاری احتجاجی تحریک کو تقویت دینے کے لیے ایرانی سیکورٹی فورسز اور قیادت پر محدود فضائی حملوں سمیت مختلف فوجی آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ذرائع کے مطابق ان کا مقصد حالیہ کریک ڈاؤن سے دب جانے والے مظاہرین کو یہ حوصلہ دینا ہے کہ وہ حکومتی عمارتوں پر قبضہ کر سکیں۔

ٹرمپ کے مشیروں کے زیرِ غور منصوبوں میں بیلسٹک میزائل تنصیبات یا جوہری پروگرام پر بڑے حملے بھی شامل ہیں، تاکہ دیرپا اثرات مرتب کیے جا سکیں۔

مشرقِ وسطیٰ میں امریکی طیارہ بردار بحری بیڑے (آرمادہ) کی حالیہ آمد نے ٹرمپ کی فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کر دیا ہے، تاہم عرب اور مغربی سفارت کاروں نے تشویش ظاہر کی ہے کہ ایسے حملے عوامی تحریک کو ابھارنے کے بجائے مزید کمزور کر سکتے ہیں۔

دوسری جانب ایران نے کسی بھی تصادم کے لیے تیار رہنے کا اعلان کیا ہے جبکہ اقوامِ متحدہ میں ایرانی مشن کا کہنا ہے کہ وہ باہمی احترام کی بنیاد پر مذاکرات کے لیے تیار ہیں مگر کسی بھی حملے کا بھرپور دفاع کریں گے۔واشنگٹن فی الحال تہران کے جوہری پروگرام اور میزائلوں پر سخت پابندیوں کا خواہاں ہے۔

Comments

200 حروف