تربیلا ففتھ ایکسٹینشن منصوبے پر کام شیڈول کے مطابق جاری، فورتھ ایکسٹینشن مکمل فعال ہوچکا، ورلڈ بینک
- منصوبے کے فعال ہونے کے بعد تربیلا کمپلیکس کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت بڑھ کر 6,418 میگاواٹ تک پہنچنے کی توقع ہے
ورلڈ بینک نے پاکستان کے تربیلا فورتھ ایکسٹینشن ہائیڈرو پاور پروجیکٹ (ٹی فور ایچ پی) پر تسلی بخش پیش رفت کی رپورٹ دیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ یہ منصوبہ کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے اور اب مکمل طور پر فعال ہے، جبکہ تربیلا ففتھ ایکسٹینشن ہائیڈرو پاور پروجیکٹ (ٹی فائیو ایچ پی) کی تعمیر مقررہ شیڈول کے مطابق جاری ہے اور اس کی تکمیل جون 2027 میں متوقع ہے۔
ورلڈ بینک کی تازہ ترین امپلیمنٹیشن اسٹیٹس اینڈ رزلٹس رپورٹ (آئی ایس آر) کے مطابق منصوبے کے ترقیاتی ہدف، یعنی پاکستان کی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں پائیدار اضافہ، کے حصول کی مجموعی پیش رفت کو بدستور تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔
منصوبے پر عمل درآمد کی مجموعی پیش رفت بھی تسلی بخش درجہ بندی برقرار رکھے ہوئے ہے، تاہم مجموعی خطرے کی درجہ بندی اب بھی سبسٹینشل ہے۔
مارچ 2012 میں منظور ہونے والے تربیلا فورتھ ایکسٹینشن ہائیڈرو پاور پروجیکٹ نے قومی گرڈ میں 1,410 میگاواٹ صاف بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت کا اضافہ کیا۔ اس کی تکمیل کے بعد تربیلا ڈیم کمپلیکس کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت بڑھ کر 4,888 میگاواٹ ہو گئی ہے۔
یہ منصوبہ پاکستان کی اس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد کم لاگت قابل تجدید توانائی کے ذرائع کو فروغ دینا اور تھرمل پاور پر انحصار کم کرنا ہے۔
اس کامیابی کے بعد 1,530 میگاواٹ صلاحیت کے حامل تربیلا ففتھ ایکسٹینشن ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پر کام جاری ہے۔ اس منصوبے کے لیے ورلڈ بینک کی جانب سے 390 ملین ڈالر جبکہ ایشیائی انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) کی جانب سے 300 ملین ڈالر کا قرض فراہم کیا جا رہا ہے۔
سول ورکس اور الیکٹرو مکینیکل آلات کی تنصیب کا کام جاری ہے اور منصوبے کی تکمیل جون 2027 میں متوقع ہے۔
ٹی فائیو ایچ پی کے فعال ہونے کے بعد تربیلا کمپلیکس کی مجموعی نصب شدہ صلاحیت بڑھ کر 6,418 میگاواٹ تک پہنچنے کی توقع ہے۔ چوتھے اور پانچویں ایکسٹینشن منصوبے مجموعی طور پر 2,940 میگاواٹ قابل تجدید توانائی قومی نظام میں شامل کریں گے۔
رپورٹ میں منصوبے کے مختلف حصوں میں مسلسل پیش رفت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ ٹی فور پاور ہاؤس اور انٹیک میں کی گئی تبدیلیوں کا کام 100 فیصد مکمل ہو چکا ہے۔
ٹی فائیو پاور ہاؤس اور ٹنل کنکشنز سے متعلق سول ورکس تقریباً 52 فیصد مکمل ہو چکے ہیں، جبکہ ٹنل 5 کے انٹیک میں تبدیلیوں کا کام دسمبر 2025 تک تقریباً 47 فیصد مکمل ہو چکا تھا۔
اسی دوران تربیلا سے اسلام آباد ویسٹ سب اسٹیشن تک بجلی کی ترسیل کے لیے 500 کلو وولٹ ٹرانسمیشن لائن بھی زیر تعمیر ہے، تاکہ اضافی بجلی کو قومی گرڈ میں مؤثر طریقے سے شامل کیا جا سکے۔
تربیلا کمپلیکس سے سالانہ بجلی کی فراہمی 2012 میں 14,175 گیگاواٹ آور (جی ڈبلیو ایچ) کی بنیادی سطح سے بڑھ کر نومبر 2025 تک 18,455 جی ڈبلیو ایچ تک پہنچ گئی۔ صرف تربیلا فورتھ ایکسٹینشن نے جنوری سے نومبر 2025 کے دوران 5,163 جی ڈبلیو ایچ بجلی فراہم کی۔ ٹی فائیو ایچ پی کی تکمیل کے بعد سالانہ پیداوار 19,000 جی ڈبلیو ایچ تک پہنچنے کی پیش گوئی ہے۔
منصوبے میں سماجی، ماحولیاتی اور ادارہ جاتی بہتری کے اقدامات بھی شامل ہیں۔ ماحولیاتی اور سماجی ایکشن پلانز، ڈیم مانیٹرنگ سسٹمز اور واٹر اینڈ پاور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے لیے استعداد کار بڑھانے کے پروگرامز پر عمل درآمد جاری ہے۔
تکنیکی اور ادارہ جاتی صلاحیت میں اضافے کے لیے ایشین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ذریعے کئی تربیتی پروگرام بھی منعقد کیے گئے ہیں۔
اگرچہ تربیلا ریزروائر اور غازی بروتھا کمپلیکس پر پائلٹ فلوٹنگ سولر منصوبوں کے لیے ابتدائی مطالعات مکمل کر لیے گئے تھے، تاہم پاور ڈویژن کی رہنمائی کے بعد فلوٹنگ سولر اقدام کو بالآخر ترک کر دیا گیا۔
مالیاتی لحاظ سے فنڈز کے اجرا کی رفتار بھی شیڈول کے مطابق ہے۔ اصل آی بی آر ڈی اور آئی ڈی اے قرضے مکمل طور پر جاری اور بند ہو چکے ہیں، جبکہ 2016 میں منظور ہونے والی اضافی آئی بی آر ڈی فنانسنگ کا 71 فیصد سے زائد حصہ جنوری 2026 تک جاری کیا جا چکا ہے۔
کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026






















Comments