BR100 Increased By (0.2%)
BR30 Increased By (0.41%)
KSE100 Increased By (0.07%)
KSE30 Increased By (0.23%)
BAFL 57.20 Increased By ▲ 0.46 (0.81%)
BIPL 26.89 Decreased By ▼ -0.15 (-0.55%)
BOP 33.69 Increased By ▲ 0.01 (0.03%)
CNERGY 10.61 Increased By ▲ 0.80 (8.15%)
DFML 18.05 Decreased By ▼ -0.47 (-2.54%)
DGKC 209.90 Increased By ▲ 2.03 (0.98%)
FABL 98.95 Increased By ▲ 0.05 (0.05%)
FCCL 53.74 Increased By ▲ 0.22 (0.41%)
FFL 16.46 Decreased By ▼ -0.22 (-1.32%)
GGL 23.82 Increased By ▲ 0.25 (1.06%)
HBL 302.42 Decreased By ▼ -1.97 (-0.65%)
HUBC 218.94 Increased By ▲ 0.83 (0.38%)
HUMNL 10.54 Decreased By ▼ -0.12 (-1.13%)
KEL 7.28 Decreased By ▼ -0.07 (-0.95%)
LOTCHEM 29.65 Increased By ▲ 0.54 (1.86%)
MLCF 96.36 Increased By ▲ 0.86 (0.9%)
OGDC 318.22 Increased By ▲ 0.28 (0.09%)
PAEL 41.77 Decreased By ▼ -0.06 (-0.14%)
PIBTL 16.81 Increased By ▲ 0.31 (1.88%)
PIOC 296.62 Increased By ▲ 16.61 (5.93%)
PPL 220.17 Increased By ▲ 0.43 (0.2%)
PRL 49.05 Increased By ▲ 4.46 (10%)
SNGP 106.13 Decreased By ▼ -1.36 (-1.27%)
SSGC 29.14 Increased By ▲ 0.21 (0.73%)
TELE 8.82 Increased By ▲ 0.06 (0.68%)
TPLP 12.51 Increased By ▲ 0.41 (3.39%)
TRG 60.22 Increased By ▲ 0.19 (0.32%)
UNITY 10.02 Decreased By ▼ -0.09 (-0.89%)
WTL 1.23 No Change ▼ 0.00 (0%)
دنیا

بنگلہ دیش میں اسلام پسند جماعت کی مقبولیت میں اضافہ، اعتدال پسند فکر مند

  • جماعتِ اسلامی برسراقتدار آگئی تو بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلی متوقع، پاکستان سے قربت مزید بڑھ سکتی، تجزیہ کاروں کی رائے
شائع اپ ڈیٹ

بنگلہ دیش کی سب سے بڑی اسلامی جماعت جسے طویل عرصے تک آزادی کی مخالفت پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ایک دہائی سے زائد عرصے تک انتخابی سیاست سے باہر رکھا گیا، اب اگلے ماہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل خود کو نئے سرے سے منظم کر رہی ہے۔

اگست 2024 میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد جماعتِ اسلامی اپنی کرپشن مخالف ساکھ اور فلاحی کاموں کے ذریعے نئی حمایت حاصل کر رہی ہے، جس نے اعتدال پسندوں اور اقلیتی برادریوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

امریکی ادارے انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹی ٹیوٹ کے سروے میں جماعت اسلامی کو سب سے زیادہ مقبول جماعت قرار دیا گیا ہے، جو 12 فروری کے انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے لیے سخت حریف ثابت ہو سکتی ہے۔

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر شفیق الرحمن کا کہنا ہے کہ وہ ردِعمل کے بجائے فلاحی سیاست کر رہے ہیں۔اگرچہ جماعت نے پہلی بار ایک ہندو امیدوار بھی نامزد کیا ہے اور خواتین کو مساوی حقوق کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن حقوقِ نسواں کی کارکنان اسے محض ایک انتخابی چال قرار دے رہی ہیں۔

دوسری جانب حسینہ واجد کے جانے کے بعد سے اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے حملوں نے ملک میں عدم تحفظ کی فضا پیدا کر دی ہے، جس پر عبوری حکومت نے سخت کارروائی کا وعدہ کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر جماعتِ اسلامی اقتدار میں آتی ہے تو بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلی آسکتی ہے اور وہ پاکستان کے مزید قریب ہو سکتا ہے۔

Comments

Comments are closed.