BR100 Increased By (0.11%)
BR30 Decreased By (-0.26%)
KSE100 Increased By (0.12%)
KSE30 Increased By (0.09%)
BAFL 56.75 Decreased By ▼ -0.45 (-0.79%)
BIPL 27.18 Increased By ▲ 0.29 (1.08%)
BOP 34.10 Increased By ▲ 0.41 (1.22%)
CNERGY 9.92 Decreased By ▼ -0.69 (-6.5%)
DFML 18.16 Increased By ▲ 0.11 (0.61%)
DGKC 207.00 Decreased By ▼ -2.90 (-1.38%)
FABL 100.18 Increased By ▲ 1.23 (1.24%)
FCCL 54.61 Increased By ▲ 0.87 (1.62%)
FFL 16.70 Increased By ▲ 0.24 (1.46%)
GGL 24.87 Increased By ▲ 1.05 (4.41%)
HBL 301.99 Decreased By ▼ -0.43 (-0.14%)
HUBC 219.15 Increased By ▲ 0.21 (0.1%)
HUMNL 10.48 Decreased By ▼ -0.06 (-0.57%)
KEL 7.42 Increased By ▲ 0.14 (1.92%)
LOTCHEM 29.35 Decreased By ▼ -0.30 (-1.01%)
MLCF 94.35 Decreased By ▼ -2.01 (-2.09%)
OGDC 316.40 Decreased By ▼ -1.82 (-0.57%)
PAEL 43.15 Increased By ▲ 1.38 (3.3%)
PIBTL 16.72 Decreased By ▼ -0.09 (-0.54%)
PIOC 296.50 Decreased By ▼ -0.12 (-0.04%)
PPL 220.50 Increased By ▲ 0.33 (0.15%)
PRL 49.05 No Change ▼ 0.00 (0%)
SNGP 104.94 Decreased By ▼ -1.19 (-1.12%)
SSGC 28.17 Decreased By ▼ -0.97 (-3.33%)
TELE 8.80 Decreased By ▼ -0.02 (-0.23%)
TPLP 13.40 Increased By ▲ 0.89 (7.11%)
TRG 60.30 Increased By ▲ 0.08 (0.13%)
UNITY 10.44 Increased By ▲ 0.42 (4.19%)
WTL 1.26 Increased By ▲ 0.03 (2.44%)
دنیا

بنگلہ دیش میں اسلام پسند جماعت کی مقبولیت میں اضافہ، اعتدال پسند فکر مند

  • جماعتِ اسلامی برسراقتدار آگئی تو بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلی متوقع، پاکستان سے قربت مزید بڑھ سکتی، تجزیہ کاروں کی رائے
شائع اپ ڈیٹ

بنگلہ دیش کی سب سے بڑی اسلامی جماعت جسے طویل عرصے تک آزادی کی مخالفت پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور ایک دہائی سے زائد عرصے تک انتخابی سیاست سے باہر رکھا گیا، اب اگلے ماہ ہونے والے پارلیمانی انتخابات سے قبل خود کو نئے سرے سے منظم کر رہی ہے۔

اگست 2024 میں شیخ حسینہ واجد کی حکومت کے خاتمے کے بعد جماعتِ اسلامی اپنی کرپشن مخالف ساکھ اور فلاحی کاموں کے ذریعے نئی حمایت حاصل کر رہی ہے، جس نے اعتدال پسندوں اور اقلیتی برادریوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔

امریکی ادارے انٹرنیشنل ریپبلکن انسٹی ٹیوٹ کے سروے میں جماعت اسلامی کو سب سے زیادہ مقبول جماعت قرار دیا گیا ہے، جو 12 فروری کے انتخابات میں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے لیے سخت حریف ثابت ہو سکتی ہے۔

جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر شفیق الرحمن کا کہنا ہے کہ وہ ردِعمل کے بجائے فلاحی سیاست کر رہے ہیں۔اگرچہ جماعت نے پہلی بار ایک ہندو امیدوار بھی نامزد کیا ہے اور خواتین کو مساوی حقوق کی یقین دہانی کرائی ہے لیکن حقوقِ نسواں کی کارکنان اسے محض ایک انتخابی چال قرار دے رہی ہیں۔

دوسری جانب حسینہ واجد کے جانے کے بعد سے اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے حملوں نے ملک میں عدم تحفظ کی فضا پیدا کر دی ہے، جس پر عبوری حکومت نے سخت کارروائی کا وعدہ کیا ہے۔

تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اگر جماعتِ اسلامی اقتدار میں آتی ہے تو بنگلہ دیش کی خارجہ پالیسی میں بڑی تبدیلی آسکتی ہے اور وہ پاکستان کے مزید قریب ہو سکتا ہے۔

Comments

Comments are closed.