BR100 Decreased By (-0.58%)
BR30 Decreased By (-1.08%)
KSE100 Decreased By (-0.49%)
KSE30 Decreased By (-0.46%)
BAFL 56.92 Increased By ▲ 0.05 (0.09%)
BIPL 24.97 Increased By ▲ 0.01 (0.04%)
BOP 30.13 Decreased By ▼ -0.22 (-0.72%)
CNERGY 12.99 Decreased By ▼ -0.13 (-0.99%)
DFML 17.49 Increased By ▲ 1.59 (10%)
DGKC 188.00 Decreased By ▼ -4.45 (-2.31%)
FABL 94.25 Increased By ▲ 0.11 (0.12%)
FCCL 52.29 Decreased By ▼ -0.50 (-0.95%)
FFL 14.49 Decreased By ▼ -0.23 (-1.56%)
GGL 19.01 Decreased By ▼ -0.55 (-2.81%)
HBL 305.80 Decreased By ▼ -0.30 (-0.1%)
HUBC 200.40 Decreased By ▼ -1.02 (-0.51%)
HUMNL 9.98 Decreased By ▼ -0.18 (-1.77%)
KEL 6.12 Increased By ▲ 0.03 (0.49%)
LOTCHEM 26.30 Decreased By ▼ -0.16 (-0.6%)
MLCF 91.58 Decreased By ▼ -1.58 (-1.7%)
OGDC 314.50 Decreased By ▼ -2.23 (-0.7%)
PAEL 35.18 Decreased By ▼ -0.45 (-1.26%)
PIBTL 14.70 Increased By ▲ 0.02 (0.14%)
PIOC 240.10 Decreased By ▼ -3.11 (-1.28%)
PPL 222.60 Decreased By ▼ -4.31 (-1.9%)
PRL 91.35 Decreased By ▼ -1.67 (-1.8%)
SNGP 90.93 Decreased By ▼ -0.91 (-0.99%)
SSGC 23.30 Decreased By ▼ -0.51 (-2.14%)
TELE 7.59 Decreased By ▼ -0.21 (-2.69%)
TPLP 12.70 Decreased By ▼ -0.27 (-2.08%)
TRG 56.60 Increased By ▲ 0.04 (0.07%)
UNITY 8.04 Decreased By ▼ -0.03 (-0.37%)
WTL 1.00 Decreased By ▼ -0.01 (-0.99%)
پاکستان

ورلڈ بینک کا پاکستان سے نجی سرمایہ کاری میں تیزی لانے کا مطالبہ

  • سرمایہ کاری کی موجودہ رفتار ملک کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک دو ہزار چھبیس تا پینتیس کے اہداف سے کہیں کم ہے، ورلڈ بینک
شائع اپ ڈیٹ

ورلڈ بینک نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ نجی سرمایہ کاری میں تیزی لائی جائے کیونکہ موجودہ رفتار ملک کے کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک دو ہزار چھبیس تا پینتیس کے اہداف سے کہیں کم ہے۔ بینک نے یہ تجویز بھی دی کہ اصلاحات کو تیز کرنے کے لیے واضح پالیسی سنگ میلوں اور قابلِ پیمائش نتائج پر مبنی نظام اپنایا جائے، جس میں تکنیکی معاونت کا درست استعمال شامل ہو۔

جمعرات کو وفاقی وزیر خزانہ و محصول محمد اورنگزیب کی سربراہی میں ورلڈ بینک پاکستان کی کنٹری ڈائریکٹر بولورما آنگا بازر کے ساتھ اجلاس منعقد ہوا جس میں جاری تعاون، ترجیحی شعبے اور ملک کے لیے ڈیزائن کردہ فریم ورک پر بات چیت کی گئی۔

فریم ورک کے مطابق پاکستان کی مجموعی سرمایہ کاری کو آنے والے برسوں میں نمایاں طور پر بڑھانے کا بنیادی ستون نجی سرمایہ کاری کا فروغ ہے۔ ورلڈ بینک نے نشاندہی کی کہ پاکستان میں پالیسی اور ادارہ جاتی کمزوریاں، ضرورت سے زیادہ سرکاری کنٹرول، غیر موثر سبسڈیز، پیچیدہ ٹیکس، تجارتی رکاوٹیں اور سرکاری اداروں کا غلبہ سرمایہ کاری، پیداوار اور برآمدی مسابقت میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں نجی سرمایہ کاری مجموعی قومی پیداوار کے تقریباً دس فیصد کے ساتھ جمود کا شکار ہے، جب کہ بھارت اور بنگلہ دیش میں یہ شرح بیس سے پچیس فیصد تک ہے۔ اسی طرح برآمدات کا حصہ نوے کی دہائی کے سولہ فیصد سے گھٹ کر آج دس فیصد کے قریب رہ گیا ہے۔ بینک کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کم از کم ساٹھ ارب ڈالر کی اضافی برآمدی صلاحیت موجود ہے، جس سے فائدہ اٹھانے کے لیے کاروباری ماحول کی اصلاح ناگزیر ہے۔

ورلڈ بینک کے نمائندوں نے وزیر خزانہ کو جاری منصوبوں، مالیاتی اصلاحات اور معاشی استحکام کے اقدامات پر بریفنگ دی اور اتفاق کیا کہ پاکستان نے مشکل فیصلوں کے ذریعے استحکام کی جانب پیش رفت کی ہے۔ تاہم اس معاشی استحکام کو پائیدار ترقی، سرمایہ کاری میں اضافہ اور روزگار کے مواقع میں تبدیل کرنا لازمی ہے۔

اجلاس میں کاروباری ماحول کو بہتر بنانے، سرکاری اداروں کی اصلاح، تجارتی سہولت کاری، سرمایہ منڈی کی توسیع اور برآمدی مسابقت میں اضافے پر مبنی پروگرام تشکیل دینے پر اتفاق کیا گیا۔ وزیر خزانہ نے حکومتی ترجیحات بیان کرتے ہوئے ٹیرف اصلاحات، شفافیت، ضابطوں کی جدید کاری اور ادارہ جاتی تعاون کو اہم قرار دیا۔

مزید یہ کہ فنی تربیت، لیبر مارکیٹ سے ہم آہنگ مہارتوں کی فراہمی اور اوورسیز روزگار کے مواقع بڑھانے پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔ ڈیجیٹل خدمات، زراعت، معدنیات، صحت اور صنعت کو آئندہ کے لیے ممکنہ ترجیحی شعبے قرار دیا گیا۔ دونوں فریقوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تکنیکی سطح پر مشاورت جاری رکھی جائے گی تاکہ آئندہ پروگراموں کو پاکستان کے اصلاحاتی ایجنڈے کے مطابق آگے بڑھایا جا سکے۔

کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026

Comments

Comments are closed.