شمالی وزیرستان سے مزید ایک پولیو کیس سامنے آگیا ، متاثرہ بچوں کی مجموعی تعداد 31 ہوگئی
- یہ 2025 میں شمالی وزیرستان سے رپورٹ ہونے والا پانچواں اور ملک بھر میں پولیو کا 31واں کیس ہے
محکمہ صحت کے حکام نے بتایا ہے کہ رواں ہفتے لیبارٹری ٹیسٹنگ کے ذریعے خیبر پختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان سے وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ-1 (ڈبلیو پی وی ون) کے ایک کیس کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد 2025 میں پاکستان میں پولیو کیسز کی مجموعی تعداد 31 تک پہنچ گئی ہے۔
قومی ادارہ صحت (این آئی ایچ) اسلام آباد میں پولیو کے خاتمے کی ریجنل ریفرنس لیبارٹری نے تصدیق کی ہے کہ شمالی وزیرستان کی یونین کونسل اسپن وام-2 کی ایک چار ماہ کی بچی سے دسمبر میں لیے گئے نمونوں میں وائلڈ پولیو وائرس کی موجودگی پائی گئی ہے۔
بچی میں پولیو کی علامات دسمبر میں ظاہر ہوئی تھیں، تاہم لیبارٹری نے رواں ہفتے ٹیسٹنگ مکمل ہونے کے بعد اس کی تصدیق کی ہے۔
یہ 2025 میں شمالی وزیرستان سے رپورٹ ہونے والا پانچواں اور ملک بھر میں 31واں کیس ہے۔ جنوبی خیبر پختونخوا اب بھی ملک میں پولیو کا گڑھ بنا ہوا ہے، جہاں سے اس سال کل 31 میں سے 17 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ جنوبی خیبر پختونخوا اور شمالی وزیرستان کے بعض علاقوں میں سیکیورٹی کے مسلسل چیلنجز کے باعث وائرس کی گردش جاری ہے، کیونکہ ان حالات کی وجہ سے ویکسینیشن ٹیموں کی رسائی محدود ہو جاتی ہے اور بچوں میں مدافعت کی کمی پیدا ہو رہی ہے۔
سال 2024 میں پاکستان میں پولیو کے 31 کیسز رپورٹ ہوئے تھے، جن میں سے 20 کا تعلق خیبر پختونخوا، 9 کا سندھ اور ایک ایک کیس پنجاب اور گلگت بلتستان سے تھا۔
پاکستان پولیو اریڈیکیشن انیشیٹو بالخصوص جنوبی خیبر پختونخوا میں اپنی حکمت عملی کو مزید تیز کر رہا ہے۔ اس میں مقامی بااثر افراد کو متحرک کرنا اور بچوں کی مدافعت بڑھانے کے لیے حفاظتی ٹیکہ جات، غذائیت اور دیگر بنیادی صحت کی خدمات فراہم کرنا شامل ہے۔
دوسری جانب حکام نے والدین اور سرپرستوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہر مہم میں اپنے بچوں کی ویکسینیشن کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پولیو سے پاک پاکستان کے حصول کے لیے عوامی تعاون، میڈیا کا ذمہ دارانہ کردار اور گمراہ کن معلومات کا تدارک انتہائی ضروری ہے۔






















Comments