BR100 Increased By (1.02%)
BR30 Increased By (1.71%)
KSE100 Increased By (0.58%)
KSE30 Increased By (0.65%)
BAFL 58.65 Increased By ▲ 0.21 (0.36%)
BIPL 25.45 Increased By ▲ 0.25 (0.99%)
BOP 34.23 Increased By ▲ 0.24 (0.71%)
CNERGY 8.16 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
DFML 20.96 Increased By ▲ 0.12 (0.58%)
DGKC 197.81 Increased By ▲ 4.84 (2.51%)
FABL 89.78 Decreased By ▼ -0.01 (-0.01%)
FCCL 53.80 Increased By ▲ 0.97 (1.84%)
FFL 18.03 Increased By ▲ 0.08 (0.45%)
GGL 19.95 Increased By ▲ 0.98 (5.17%)
HBL 286.00 Increased By ▲ 0.50 (0.18%)
HUBC 215.78 Increased By ▲ 1.40 (0.65%)
HUMNL 11.00 Increased By ▲ 0.12 (1.1%)
KEL 8.07 Increased By ▲ 0.05 (0.62%)
LOTCHEM 27.59 Decreased By ▼ -0.30 (-1.08%)
MLCF 87.90 Increased By ▲ 1.39 (1.61%)
OGDC 324.25 Increased By ▲ 4.29 (1.34%)
PAEL 39.95 Increased By ▲ 0.53 (1.34%)
PIBTL 17.32 Increased By ▲ 0.65 (3.9%)
PIOC 273.90 Increased By ▲ 7.84 (2.95%)
PPL 233.49 Increased By ▲ 5.31 (2.33%)
PRL 34.98 Increased By ▲ 0.30 (0.87%)
SNGP 99.70 Increased By ▲ 0.52 (0.52%)
SSGC 27.20 Increased By ▲ 0.60 (2.26%)
TELE 8.57 Increased By ▲ 0.29 (3.5%)
TPLP 8.78 Increased By ▲ 0.56 (6.81%)
TRG 71.50 Increased By ▲ 1.79 (2.57%)
UNITY 11.66 Decreased By ▼ -0.01 (-0.09%)
WTL 1.27 Decreased By ▼ -0.01 (-0.78%)
کاروبار اور معیشت

صنعت اب مزید پاور سیکٹر کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی، گوہر اعجاز کی وارننگ

پاور سیکٹر کو 629 ارب روپے کی خطیر سبسڈی کی ضرورت ہوگی، سابق نگران وفاقی وزیر
شائع January 13, 2026 اپ ڈیٹ January 13, 2026 02:26pm

چیئرمین اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ (ای پی بی ڈی) تھنک ٹینک اور سابق نگران وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے منگل کو کہا کہ پاکستان کے صنعتی شعبے کو بجلی کی قیمتوں کے ایک غیر منصفانہ نظام کے ذریعے تباہی کے دہانے پر دھکیلا جارہا ہے جو صنعت کو پاور سیکٹر میں حکومتی ناکامیوں کا بوجھ اٹھانے پر مجبور کرتا ہے۔

نیپرا کی ٹیرف ری بیسنگ (قیمتوں کے ازسرِ نو تعین) کی سماعت کے تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے گوہر اعجاز نے نشاندہی کی کہ پاور سیکٹر کو 629 ارب روپے کی خطیر سبسڈی کی ضرورت ہوگی جبکہ حکومت نے اس مد میں صرف 248 ارب مختص کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ باقی ماندہ فرق کو کراس سبسڈائزیشن کے ذریعے غیرمنصفانہ طور پر پورا کیا جارہا ہے جس کا سب سے زیادہ بوجھ صنعتوں کو برداشت کرنا پڑرہا ہے۔

گوہراعجاز نے کہا کہ یہ صنعت پر ایک چھپے ہوئے ٹیکس سے کم نہیں ہے۔ حکومت اپنا حصہ ادا نہیں کررہی، اس لیے صنعت کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ صارفین کے دیگر زمروں کو سبسڈی فراہم کرے، اس اقدام نے پاکستانی صنعت کو علاقائی اور عالمی سطح پر غیر مسابقتی بنا دیا ہے۔

گوہر اعجاز کے مطابق اگر صنعتی صارفین سے خالصتاً ’سروس کی لاگت‘ کے اصولوں پربغیر کسی کراس سبسڈی کے قیمت وصول کی جائے، تو پاور سیکٹر کی نااہلیوں، گورننس کی ناکامیوں اور نظامی نقصانات کے باوجود، صنعت کے لیے بجلی کے نرخ آج بھی 9 امریکی سینٹ فی یونٹ کے قریب ہوں گے۔

انہوں نے انتباہ کیا کہ توانائی کی مسلسل بلند قیمتیں صنعتی سرگرمیوں کا گلا گھونٹ رہی ہیں جس کے نتیجے میں ملک بھر میں کارخانے بند ہورہے ہیں، برآمدات میں کمی آ رہی ہے اور بڑے پیمانے پر بے روزگاری پھیل رہی ہے۔

گوہر اعجاز نے کہا کہ یہ صنعتی شعبہ ہے جو حکومت کی جانب سے دیگر صارفین کو سبسڈی دے رہا ہے۔ یہ ماڈل اب مزید برقرار نہیں رہ سکتا۔

انہوں نے پالیسی سازوں کے سامنے ایک سنگین سوال رکھا: ’جب صنعت ہی تباہ ہو جائے گی تو پھر کیا ہوگا؟

اگر فیکٹریاں بند ہو جائیں، تو لاکھوں صنعتی کارکنوں کو کون روزگار دے گا؟ وہ غیر ملکی زرِ مبادلہ کون کمائے گا جو معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے ضروری ہے؟

انہوں نے زور دیا کہ کراس سبسڈی کی پالیسیاں اقتصادی طور پر نقصان دہ ہیں، پاکستان کی مینوفیکچرنگ بنیاد کو کمزور کرتی ہیں اور صنعتی زوال کو تیز کرتی ہیں۔

فوری اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے گوہر اعجاز نے حکومت پر زور دیا کہ وہ پاور سیکٹر کی سبسڈی کو وفاقی بجٹ کے ذریعے مکمل اور شفاف طریقے سے فراہم کرے، پیداواری شعبوں کو نقصان پہنچانے والی کراس سبسڈائزیشن کا خاتمہ کرے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نااہلیوں اور نقصانات میں کمی لائے اور صنعتی بجلی کے نرخوں کو علاقائی حریف ممالک کے برابر لائے۔

گوہر اعجاز نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہا کہ صنعت اب مزید پاور سیکٹر کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی اور نہ ہی اٹھائے گی، اگر پاکستان معاشی ترقی، برآمدات اور روزگار کے لیے سنجیدہ ہے، تو اسے پالیسی کی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے صنعت کو آمدنی کا لامتناہی ذریعہ سمجھنا بند کرنا ہوگا۔

Comments

200 حروف