صنعت اب مزید پاور سیکٹر کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی، گوہر اعجاز کی وارننگ
چیئرمین اکنامک پالیسی اینڈ بزنس ڈیولپمنٹ (ای پی بی ڈی) تھنک ٹینک اور سابق نگران وفاقی وزیر گوہر اعجاز نے منگل کو کہا کہ پاکستان کے صنعتی شعبے کو بجلی کی قیمتوں کے ایک غیر منصفانہ نظام کے ذریعے تباہی کے دہانے پر دھکیلا جارہا ہے جو صنعت کو پاور سیکٹر میں حکومتی ناکامیوں کا بوجھ اٹھانے پر مجبور کرتا ہے۔
نیپرا کی ٹیرف ری بیسنگ (قیمتوں کے ازسرِ نو تعین) کی سماعت کے تناظر میں گفتگو کرتے ہوئے گوہر اعجاز نے نشاندہی کی کہ پاور سیکٹر کو 629 ارب روپے کی خطیر سبسڈی کی ضرورت ہوگی جبکہ حکومت نے اس مد میں صرف 248 ارب مختص کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ باقی ماندہ فرق کو کراس سبسڈائزیشن کے ذریعے غیرمنصفانہ طور پر پورا کیا جارہا ہے جس کا سب سے زیادہ بوجھ صنعتوں کو برداشت کرنا پڑرہا ہے۔
گوہراعجاز نے کہا کہ یہ صنعت پر ایک چھپے ہوئے ٹیکس سے کم نہیں ہے۔ حکومت اپنا حصہ ادا نہیں کررہی، اس لیے صنعت کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ صارفین کے دیگر زمروں کو سبسڈی فراہم کرے، اس اقدام نے پاکستانی صنعت کو علاقائی اور عالمی سطح پر غیر مسابقتی بنا دیا ہے۔
گوہر اعجاز کے مطابق اگر صنعتی صارفین سے خالصتاً ’سروس کی لاگت‘ کے اصولوں پربغیر کسی کراس سبسڈی کے قیمت وصول کی جائے، تو پاور سیکٹر کی نااہلیوں، گورننس کی ناکامیوں اور نظامی نقصانات کے باوجود، صنعت کے لیے بجلی کے نرخ آج بھی 9 امریکی سینٹ فی یونٹ کے قریب ہوں گے۔
انہوں نے انتباہ کیا کہ توانائی کی مسلسل بلند قیمتیں صنعتی سرگرمیوں کا گلا گھونٹ رہی ہیں جس کے نتیجے میں ملک بھر میں کارخانے بند ہورہے ہیں، برآمدات میں کمی آ رہی ہے اور بڑے پیمانے پر بے روزگاری پھیل رہی ہے۔
گوہر اعجاز نے کہا کہ یہ صنعتی شعبہ ہے جو حکومت کی جانب سے دیگر صارفین کو سبسڈی دے رہا ہے۔ یہ ماڈل اب مزید برقرار نہیں رہ سکتا۔
انہوں نے پالیسی سازوں کے سامنے ایک سنگین سوال رکھا: ’جب صنعت ہی تباہ ہو جائے گی تو پھر کیا ہوگا؟
اگر فیکٹریاں بند ہو جائیں، تو لاکھوں صنعتی کارکنوں کو کون روزگار دے گا؟ وہ غیر ملکی زرِ مبادلہ کون کمائے گا جو معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے ضروری ہے؟
انہوں نے زور دیا کہ کراس سبسڈی کی پالیسیاں اقتصادی طور پر نقصان دہ ہیں، پاکستان کی مینوفیکچرنگ بنیاد کو کمزور کرتی ہیں اور صنعتی زوال کو تیز کرتی ہیں۔
فوری اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے گوہر اعجاز نے حکومت پر زور دیا کہ وہ پاور سیکٹر کی سبسڈی کو وفاقی بجٹ کے ذریعے مکمل اور شفاف طریقے سے فراہم کرے، پیداواری شعبوں کو نقصان پہنچانے والی کراس سبسڈائزیشن کا خاتمہ کرے، بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کی نااہلیوں اور نقصانات میں کمی لائے اور صنعتی بجلی کے نرخوں کو علاقائی حریف ممالک کے برابر لائے۔
گوہر اعجاز نے اپنی بات مکمل کرتے ہوئے کہا کہ صنعت اب مزید پاور سیکٹر کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی اور نہ ہی اٹھائے گی، اگر پاکستان معاشی ترقی، برآمدات اور روزگار کے لیے سنجیدہ ہے، تو اسے پالیسی کی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے صنعت کو آمدنی کا لامتناہی ذریعہ سمجھنا بند کرنا ہوگا۔






















Comments